شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و…

شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و تعظیم

  ابو شاہین

صفحہ 1 از 5

اہل تشیع نے اپنے ائمہ کی قبور کی تقدیس و تعظیم میں مبالغہ کرتے ہوئے انہیں اس قدر عز و شرف عطا کیا جو کعبہ مشرفہ اور مدینہ منورہ کو بھی حاصل نہ ہو سکا، انہوں نے علی(زین العابدین) بن حسین رضی اللہ عنہما کی طرف یہ روایت منسوب کر دی کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کعبہ مشرفہ کی زمین کو پیدا کرنے سے چوبیس ہزار سال پہلے کربلا کی زمین کو پرامن حرم قرار دیا تھا اور اسے تقدیس و برکت عطا فرمائی تھی۔ یہ زمین تخلیق کائنات سے قبل سے لے کر آج تک مقدس و بابرکت ہے اور اس کی یہ حیثیت قیامت تک برقرار رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کی افضل ترین جگہ اور رہائش گاہ قرار دے گا، جس میں اس کے اولیاء سکونت پذیر ہوں گے۔ (بحار الانوار: 101-107 اصول مذہب الشیعۃ)

اسی طرح انہوں نے جعفر الصادق کی طرف بھی یہ قول غلط طور پر منسوب کر دیا کہ کعبہ مشرفہ کی زمین فخریہ انداز میں کہنے لگی: میرے جیسا کون ہو سکتا ہے؟ میری پیٹھ پر بیت اللہ تعمیر کیا گیا، دُور دُور سے لوگ میری زیارت کے لیے آتے ہیں اور مجھے اللہ کا حرم اور امن قرار دیا گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی کہ زیادہ باتیں نہ کر، ارض کربلا کے مقابلے میں تیری وہی حیثیت ہے جو سمندر میں ایک سوئی کی ہوتی ہے، جسے اس میں ڈبو دیا جائے اور وہ اس کا پانی اپنے ساتھ اٹھا کر لائے، یاد رکھ! کہ اگر خاک کربلا نہ ہوتی، تو میں تجھے یہ فضیلت بھی نہ دیتا اور اگر وہ فیوض و برکات نہ ہوتے، جن پر ارض کربلا مشتمل ہے، تو نہ میں تجھے پیدا کرتا اور نہ اس گھر کو جس پر تو فخر کر رہی ہے، لہٰذا آرام سے ٹکی رہ، متواضع اور ذلیل بن جا اور ارض کربلا کے مقابلہ میں فخر اور غرور نہ کر اور اگر تو اس سے باز نہ آئی، تو میں تجھ سے ناراض ہو کر تجھے جہنم میں پھینک دوں گا۔ (کامل الزیارات: صفحہ 270 بحار الانوار: 101-109 اصول مذہب الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 464)

ظاہر ہے ارض کربلا کو یہ مقام و مرتبہ اسی لیے حاصل ہوا کہ وہ ان کے اعتقاد کی رُو سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مدفن ہے، واقعہ کربلا سے لے کر آج تک شعراء کی زبانوں اور لکھنے والوں کی قلموں سے کعبہ مشرفہ اور کربلا کے درمیان اس مقارنہ کا اظہار ہوتا چلا آیا ہے اور وہ نظم و نثر کے مختلف اسالیب سے اس کی تقدیس و فضیلت اور عز و شرف کا اثبات کرتے رہے اور ہر خطہ ارضی کے مقابلے میں اس کی فضیلت و شرافت کے بیان کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے ہیں اور اس سرزمین کو یہ عظیم شرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے حاصل ہوا، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ اللہ نے اسے یہ عز و شرف حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے دیا۔ (اصول مذہب الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 464)

ائمہ کرام کے بارے میں ان کے اعتقاد اور اس میں غلو کی وجہ سے اور لوگوں کو ان کی قبروں اور زیارت گاہوں کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے انہوں نے ان کی زیارت کرنے والوں کے لیے بڑی بڑی فضیلتوں اور بہت زیادہ اجر و ثواب کی داستانیں بنا رکھی ہیں۔ مثلاً انہوں نے ابو عبداللہ جعفر الصادق کی طرف ان کا یہ قول منسوب کر دیا کہ اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ زیارت حضرت حسینؓ کس قدر فضیلت کی حامل ہے، تو وہ اس کے شوق میں جانیں کھپا دیں، میں نے کہا: اس کی کیا فضیلت ہے؟ انہوں نے فرمایا: شوق کے ساتھ زیارت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ ایک ہزار حج مقبول اور ایک ہزار عمرۂ مبرور لکھ دیتا ہے، شہدائے بدر کے ثواب کے برابر ایک ہزار شہید، ایک ہزار روزے دار، ایک ہزار صدقہ مقبولہ اور ایک ہزار نسخہ کا اجر و ثواب لکھ دیتا ہے، وہ اس سال ہر آفت سے محفوظ رہتا ہے جن سے سب سے ہلکی آفت شیطان ہے، اللہ تعالیٰ اس پر ایک باعزت فرشتے کو مقرر کر دیتا ہے جو اس کی اس کے آگے پیچھے، دائیں بائیں اور اوپر نیچے سے حفاظت کرتا ہے اور اگر وہ اسی سال مر جائے تو رب رحمن کے فرشتے اس کے غسل اور کفن دفن میں شریک ہوتے، اس کے لیے استغفار کرتے اور اسے قبر تک پہنچاتے ہیں ، حد نگاہ تک اس کی قبر کھلی کر دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے عذاب قبر اور منکر و نکیر سے پرامن رکھتا ہے۔ اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جاتا ہے، اسے روزِقیامت ایسا نور عطا کیا جائے گا جس کی وجہ سے مشرق اور مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ منور ہو جائے گا اور پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ یہ ازراہِ شوق زائرین حسین رضی اللہ عنہ میں سے ہے، اس روز ہر شخص یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ بھی زائرین حسینؓ میں شامل ہوتا۔ (تاریخ کربلا،: صفحہ 102 القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 155 وسائل الشیعۃ: جلد، 1 صفحہ 353 بواسطہ اصول مذہب الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 456)

ائمہ شیعہ کے فضائل و مناقب اور مافوق البشر انہیں جو صفات عطا کی گئی ہیں، ان کا مبالغہ آمیزی کی حد تک ذکر کرتے ہوئے ان کا ایک عالم رقم طراز ہے: ’’یہ ان لوگوں کے لیے کچھ زیادہ نہیں جنہیں اللہ تعالیٰ مومنین کا امام مقرر کر دے اور جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا فرمایا اور انہیں اپنا راستہ، صراط، عین، دلیل اور ایسا باب بنایا، جس کے ذریعہ سے ان تک رسائی حاصل کی جاتی ہے اور ائمہ کرام کی قبروں کے لیے مال خرچ کیا جاتا، ان سے امیدیں وابستہ کی جاتیں، ان کے لیے گھر بار چھوڑا جاتا، تکالیف برداشت کی جاتیں، تجدید میثاق ہوتا، شعائر پر حاضری ہوتی اور مشاعر کو حضور حاصل ہوتا ہے۔‘‘ (القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 157)

ان قبروں کی تقدیس میں اس حد تک مبالغہ کیا گیا ہے کہ شیعہ نے ان کے لیے مخصوص مناسک وضع کر رکھے ہیں اور یہ مناسک صرف قبر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ ان کے ائمہ کی تمام قبروں کے لیے عام ہیں۔ 

(الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ نقلا عن اصول الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 467)

صفحہ 1 از 5