شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و…

شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و تعظیم

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 5

شیخ آغا بزرگ طہرانی لکھتے ہیں: ’’ان کے شیوخ نے مزار اور مناسک مزار کے بارے میں ستر کتابیں لکھی ہیں، ان مناسک کی تفصیل بقول جعفر صادق اس طرح سے ہے: جب تو قبر سیدنا حسینؓ کی زیارت کے لیے روانگی کا ارادہ کرے تو بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھ اور جب گھر سے نکلے، تو اپنے اہل و عیال اور اولاد کو جمع کر کے دعا سفر پڑھ، گھر سے نکلنے سے پہلے غسل کر اور غسل کرتے وقت فلاں فلاں دعا پڑھ اور دریائے فرات پر پہنچنے سے پہلے نہ تو آنکھوں میں سرمہ لگا اور نہ تیل استعمال کر، بات چیت اور مزاح کم از کم کر اور اللہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ کر، مزاح اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کر، اگر تو پیدل یا سوار ہو تو یہ دُعا پڑھ، کسی چیز سے خوف آئے تو یہ دُعا پڑھ، جب دریائے فرات پر پہنچے تو اسے عبور کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ اور اسے عبور کرنے کے بعد یہ۔ یہ تمام مناسک ادا کر، پھر اپنا رخسار حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی قبر پر رکھ کر یہ دعا پڑھ، پھر ان کے پیچھے سے گھوم کر ان کے سر کے قریب آ، اور وہاں کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھ، پھر قبر سے ہٹ کر یہ دعا پڑھ، پھر سقیفہ سے نکل کر شہداء کی قبروں کے سامنے کھڑا ہو کر ان تمام کی طرف اشارہ کر۔‘‘( تاریخ کربلا: صفحہ 129 القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 158) 

علاوہ ازیں ان تمام امور کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو شیعہ وہاں ادا کرتے ہیں۔ مثلاً قبروں کا طواف کرنا، دوران نماز میں ان کی طرف منہ کرنا وغیرہ وغیرہ، جنہیں میں اختصار کے پیش نظر ترک کر رہا ہوں۔(القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 158) جس کا کچھ حصہ کتاب ’’اصول مذہب شیعہ‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ (اصول مذہب الشیعۃ: جلد، 2 صفحہ 467-477) ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام ، ائمہ اور اسلامی شخصیات کے مزارات تعمیر کرنا اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ان معتقدات کی تردید اس طرح سے ہے:

کربلا کا تقدس

کتاب اللہ، صحیح و ثابت سنت رسول اللہﷺ خلفائے راشدین اور خیر القرون کے علمائے امت سے ایسی کوئی نص نہیں ملتی، جو کربلا کی قدسیت اور اس کے اور نجف وغیرہ دیگر مقامات کے فضائل پر دلالت کرتی ہو، کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ میں جن مقامات اور اشیاء کے تقدس اور فضائل کا ذکر ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں: مسجد حرام، اس کے اندر اور باہر مشاعر مقدسہ، مثلاً کعبہ مشرفہ، مقام ابراہیم، بیر زمزم، صفا و مروہ، منیٰ، عرفات، مزدلفہ، مسجد نبوی، اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت، بیت رسول اور منبر رسول کی درمیانی جگہ کی فضیلت، مسجد نبویﷺ، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کی طرف سواریاں دوڑا کر جانے کا جواز، فضائل مدینہ، فضائل مسجد قبا، مدینہ منورہ کی برکت کے لیے آنحضرت صلی اللہﷺ کا دعا فرمانا، اہل مدینہ کے صاع کے لیے برکت کی دعا اور اس کا وجود، رسول اللہﷺ کا مدینہ منورہ کو حرم قرار دینا، وہاں شکار کرنے اور اس کے درختوں کو کاٹنے کو حرام قرار دینا، وادی عقیق کی فضیلت اور اس کی برکت، مسجد اقصیٰ کے فضائل و برکات، اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت، اس کے اردگرد برکت کا وجود، مسجد حرام کے بعد زمین پر بنائی گئی اس کا دوسری مسجد ہونا اور وہاں سے رسول اللہﷺ کو معراج کروانا، اسی طرح قرآنی آیات اور احادیث نبویہ میں تمام مساجد اور اللہ کے گھروں کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس بات کی وضاحت فرما دی ہے کہ مسجدیں زمین پر اللہ کے گھر ہیں ، اسی طرح آپﷺ نے مسجدوں کی طرف لپک کر جانے، ان میں جی لگانے اور انہیں تعمیر کرنے کی فضیلت بھی بیان فرمائی ہے۔

 (من قتل الحسین: صفحہ 113)

مگر کربلا کی قدسیت اور اس کے فضائل کے بارے میں نبی کریمﷺ کی طرف منسوب باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی صحیح نہیں ہے۔ اس حکم کا اطلاق ان تمام شہروں، علاقوں، قبرستانوں اور قبروں پر ہوتا ہے جن کے تقدس کا دعویٰ شیعہ یا جاہل سنی کرتے ہیں۔

زیارت قبور کے لیے اسلام کی رہنمائی

جس طرح جملہ تعلیماتِ اسلام اعتدال و سماحت پر مبنی ہیں اور ان پر عمل کرنے والا فوز و فلاح اور دنیوی و اخری سعادت سے ہم کنار ہوتا اور ان کی وجہ سے دنیا و آخرت میں ہر طرح کی گمراہی اور بدنصیبی سے محفوظ رہتا ہے، اسی طرح اسلام میں زیارت قبور کی مشروعیت بھی مذکورہ بالا اوصاف کی حامل ہے۔ جب لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے اور انہیں ترک شرک و کفر اور غیر اللہ کی عبادت پر ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا تو نبی کریمﷺ نے انہیں قبروں زیارت سے منع فرما دیا تاکہ شرک و توحید اور جاہلیت و اسلام کے ادوار میں حد فاصل قائم کی جا سکے، پھر جب ان کے قلوب و اذہان میں اسلامی عقائد و تعلیمات مستحکم ہو گئے اور زمین اور زمین والوں کے تقدس کی طرف ان کا التفات نہ رہا (القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 73) تو نبی کریمﷺ نے لوگوں سے فرمایا:

’’میں قبل ازیں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا مگر اب تم ان کی زیارت کر سکتے ہو، اس لیے کہ قبریں آخرت کو یاد دلاتی ہیں۔‘‘ (مسلم مع شرح نووی: جلد، 7 صفحہ 46)

دوسری روایت میں ہے:

’’اس لیے کہ قبروں کی زیارت کرنے سے یاددہانی ہوتی ہے۔‘‘

ایک اور روایت میں ہے:

’’قبروں کی زیارت آخرت یاد دلاتی ہے۔‘‘ (ایضاً)

تیسری روایت میں ہے:

’’ان کی زیارت کیا کرو اور چاہیے کہ ان کی زیارت تمہاری خیر میں اضافہ کرے۔‘‘ (سنن الترمذی: جلد، 3 صفحہ 361 البانی نے اپنی صحیح میں اسے صحیح کہا)

چوتھی روایت اس طرح سے ہے:

’’اس میں عبرت ہے۔‘‘ (مسند احمد: جلد، 17 صفحہ 249 صحیح حدیث)

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

’’پھر مجھے یہ بات آئی کہ زیارت قبور دل نرم کرتی، آنکھوں سے آنسو بہاتی، موت اور آخرت یاد کرواتی اور دنیا میں زاہد بناتی ہے۔‘‘

زائر قبور کو اس امر کے لیے حریص ہونا چاہیے کہ اس کا یہ فعل اس کی خیر اور بھلائی میں اضافہ کرے۔ یہ سب چیزیں تو زائر کے اپنے حوالے سے تھیں۔ (القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 74)

صفحہ 2 از 5