شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و…

شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و تعظیم

  ابو شاہین

صفحہ 3 از 5

رہے شہر خموشاں کے باسی، تو اس سے انہیں بھی حصہ میسر آتا ہے۔ نبی کریمﷺ جب بھی ان کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے، تو ان کے لیے رحمت کی دعا فرماتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہﷺ جب بھی میرے پاس رات گزارتے تو رات کے آخری حصے میں بقیع تشریف لے جاتے اور یہ دعا پڑھتے:

السلام علیکم دار قوم مومنین، اتاکم توعدون، غدا موجلون و اناان شاء اللّٰہ بکم لاحقون۔ اللہم اغفر لاہل بقیع الغرقد

’’سلام ہو تم پر اس گھر میں رہنے والی قوم، تمہارے پاس وہ چیز آ گئی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، تم کل (قیامت کے دن) تک مہلت دئیے گئے ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ بقیع غرقد کے رہنے والوں کی مغفرت فرما دے۔‘‘ (مسلم مع شرح النووی، کتاب الجنائز: جلد، 7 صفحہ 40-41)

ان احادیث میں اس امر کا بیان ہے کہ زیارت قبور کا ایک مقصد اہل قبور کو سلام کہنا، ان کے لیے سلامتی کی دعا کرنا اور ان کے لیے استغفار کرنا ہے، امام صنعانی ’’سبل السلام‘‘ میں زیارت قبور پر مشتمل احادیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ تمام احادیث زیارت قبور کی مشروعیت اور اس میں پنہاں حکمت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ کہ زیارت قبور کا ایک مقصد عبرت کا حصول ہے۔ اگر زیارت قبور ان چیزوں سے عاری ہو تو پھر اس کا شرعاً کوئی جواز نہیں ہے۔ (سبل السلام شرح بلوغ المرام: جلد، 2 صفحہ 230-231)

یہ ہیں زیارت قبور کے بارے میں آنحضرتﷺ کی تعلیم کردہ اسلامی تعلیمات۔ لہٰذا جو شخص ان مقاصد سے ہٹ کر کسی اور مقصد کے لیے ان کی زیارت کرے گا، تو اسے اس پر ردّ کر دیا جائے گا۔ پھر ایسی زیارت یا تو بدعت پرستانہ ہو گی یا مشرکانہ، اور یہ فیصلہ اس کے اعتقاد اور اعمال کے حساب سے ہو گا۔ زیارت قبور کے یہ اہداف و مقاصد بالکل ٹھوس اور واضح ہیں اور یہ شرک اور غلو تک پہنچانے والے ہر ذریعہ سے دُور اور بہت دُور ہیں، اس حوالے سے بعض ایسی قیود بھی وارد ہیں، جو شرک اور غلو کا سدباب کرتی ہیں۔ (القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 75)

 پہلی قید

قبروں کو عیدیں نہ بنایا جائے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا:

’’اپنے گھروں کو قبریں نہ بنانا اور میری قبر کو عید نہ بنانا، اور مجھ پر درود بھیجنا، اس لیے کہ تم جہاں بھی ہو گے تمہارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا۔‘‘ (مسند ابو یعلی جلد، 1 صفحہ 361 رقم الحدیث: 469 اپنے شواہد کے ساتھ صحیح ہے، اس کے تمام طرق حسن ہیں)

زیارت قبور کے لیے کوئی دن، کوئی ہفتہ، کوئی مہینہ اور کوئی سال مخصوص نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا وتیرہ ہے۔ (القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 75)

 دوسری قید

 ان کی طرف سواریاں نہ دوڑائی جائیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:

’’سواریاں نہ دوڑائی جائیں مگر صرف تین مسجدوں کی طرف: مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری مسجد۔‘‘ (مسلم مع شرح النووی: جلد، 9 صفحہ 104-109)

اس سے مقصود ان تین مساجد کے علاوہ کسی مخصوص جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے سواریاں دوڑانا ہے۔ (القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 76) یہ بات کہیں بھی ثابت نہیں ہے کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین میں سے کسی شخص نے کسی قبر یا زیارت گاہ کی صرف زیارت کے لیے ادھر کا سفر کیا ہو، اور نہ کسی نے اس عمل کے استحباب کی صراحت ہی کی ہے۔ (ایضاً) علامہ صدیق حسن خان اپنی کتاب ’’السراج الوہاج من کشف مطالب صحیح مسلم ابن الحجاج‘‘ میں مختلف اقوال کو ذکر کرنے اور ان کے مناقشہ کے بعد فرماتے ہیں: زیارت قبور کے علاوہ کسی اور مقصد سے سفر کرنا صحیح دلائل سے ثابت ہے۔ ایسا آپ کے زمانہ مبارک میں ہوتا تھا اور آپ نے اسے برقرار بھی رکھا، لہٰذا اس سے روکنے کا تو کوئی جواز نہیں ہے۔ رہا قبروں کی زیارت کے لیے سفر کرنا، تو ایسا نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں نہیں ہوتا تھا۔ کسی ایک بھی حدیث میں اس کے جواز کی طرف اشارہ تک نہیں کیا گیا اور نہ آپ نے اپنی امت کے کسی فرد کے لیے اسے مشروع ہی فرمایا، نہ قولاً نہ فعلاً۔ (السراج الوہاج: جلد، 5 صفحہ 116 القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 77)

 قبروں پر عمارتیں کھڑی کرنا اور انہیں مسجدیں بنا لینا

رسول اللہﷺ نے اپنی امت کو قبروں پر عمارتیں کھڑی کرنے اور ان کی کسی بھی طرح سے تعظیم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپﷺ نے اس بات سے آگاہ فرمایا کہ ایسا صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی مخلوق کے بدترین لوگ ہوتے ہیں، حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی وفات سے پانچ روز قبل آپ سے سنا:

’’خبردار تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا کرتے تھے۔ خبردار، تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ۔‘‘ ( مسلم مع شرح النووی: جلد، 5 صفحہ 13)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے قبر کو پختہ کرنے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت کھڑی کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم مع شرح النووی : جلد،7 صفحہ 37) ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے:

’’لوگوں میں سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جنہیں ان کی زندگی میں قیامت پا لے گی اور جو قبروں کو مسجدیں بنا لیں گے۔‘‘ (ایضاً)

صفحہ 3 از 5