شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و…

شیعہ کے نزدیک قبر حسین اور دیگر ائمہ کی قبور کی تقدیس و تعظیم

  ابو شاہین

صفحہ 5 از 5

347 ہجری کے حوادث کے ضمن میں ابن کثیر فرماتے ہیں : ’’بنو بویہہ، بنو حمدان اور فاطمی حکمرانوں کی وجہ سے ان کے زیر نگیں علاقے رفض اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے سب و شتم سے بھر گئے تھے۔ مصر، شام، عراق اور خراسان وغیرہا، نیز حجاز اور غالب بلاد مغرب کے لوگ رافضی تھے، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بکثرت سب و شتم کرتے اور ان پر کفر کے فتوے لگاتے۔‘‘ (وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی: جلد، 3 صفحہ 906)

سمہودی اپنی کتاب ’’وفاء الوفاء باخبار دار المصطفی‘‘ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی قبر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر اسلاف کی قبریں لوگوں کے علم میں نہیں تھیں۔ وہ لوگ قبروں پر عمارتیں نہیں کھڑی کرتے تھے اور نہ انہیں پختہ ہی بناتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم مع شرح النووی: جلد، 12 صفحہ 241)

امام شافعی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں: ’’میں نے انصار و مہاجرین کی قبریں پکی نہیں دیکھیں۔‘‘ حضرت طاؤ س سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے قبروں پر عمارتیں کھڑی کرنے اور انہیں پختہ بنانے سے منع فرمایا۔ امام شافعی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:’’میں نے ایک ایسا والی دیکھا جو مکہ مکرمہ میں ایسی قبریں گرا رہا تھا، جن پر عمارتیں بنائی گئی تھیں مگر میں نے فقہاء کرام کو اس پر اعتراض کرتے نہیں دیکھا۔‘‘ (الام للشافعی، نقلا عن القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 119)

تاریخی حقیقت یہی بتاتی ہے کہ بڑی فضیلت کی حامل پہلی تین صدیوں میں نہ تو قبروں کی تعظیم کی جاتی تھی، نہ کہیں زیارت گاہیں تھیں، نہ قبے اور نہ قبر پرستی کے دیگر مظاہر، اس بارے میں شیعہ نے جو کچھ کرنے کی کوشش کی اس کی ابوجعفر منصور عباسی اور ہارون الرشید جیسے امراء و خلفاء کی طرف سے شدید مزاحمت کی گئی۔ (القبوریۃ فی الیمن: صفحہ 132-133)


صفحہ 5 از 5