Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خروج سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شرعی میدان میں

  ابو شاہین

یزید کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے معارضہ میں گہرے سوچ بچار کے فقدان اور اس واقعہ کی تاریخی روایات کے مطالعہ میں عدم تامل نے بعض لوگوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ وہ اس بات کی طرف مائل نظر آنے لگے کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما نے امام کے خلاف خروج کیا تھا اور اس کا انہیں جو بھی نقصان اٹھانا پڑا وہ ایک عادلانہ بدلہ تھا، ان کا کہنا ہے کہ ہمارا نظریہ ثابت شدہ ان نصوص نبویہ کے عین مطابق ہے جو ولاۃ الامور کے خلاف خروج کرنے سے باز رکھتی ہیں۔ مثلاً نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص مسلمانوں میں تفریق ڈالنا چاہے اور وہ اکٹھے ہوں تو اس کی تلوار سے گردن اُڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔‘‘ (صحیح مسلم مع شرح النووی: جلد، 12 صفحہ 261)

امام سیوطی فرماتے ہیں: ’’اسے قتل کر ڈالو، وہ کہتر ہو یا مہتر۔‘‘ (عقد الزبرجد، سیوطی: جلد، 1 صفحہ 264)

اس حدیث کی تعلیق میں امام نووی فرماتے ہیں: ’’امام کے خلاف خروج کرنے والے یا مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کرنے والے کو اس سے روکا جائے گا اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے، تو اس سے قتال کیا جائے گا اور اگر پھر بھی وہ باز نہ آئے، تو اسے قتل کر دیا جائے گا اور اس کا خون رائیگاں جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم مع شرح النووی: جلد، 12 صفحہ 261)

اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث میں نبیﷺ کی طرف سے یہ تاکید وارد ہے کہ مسلمانوں کے سلطان کے خلاف خروج کرنے والے کی سزا قتل ہے اور یہ اس لیے کہ وہ مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کے درپے ہے، ان نصوص کے ساتھ سطحی تعلق کی وجہ سے ہی ابوبکر بن العربی نے یہاں تک کہہ دیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے ناناﷺ کی تلوار سے ہی قتل کیا گیا تھا۔ (العواصم من القواصم: صفحہ 265-266) اور انہی احادیث پر جمود کی وجہ سے ہی کرامیہ نے کہہ ڈالا کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما یزید کے باغی تھے، لہٰذا ان کی یہی سزا تھی۔ (نیل الاوطار: جلد، 7 صفحہ 362) بعض لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خروج کے جواز کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک ان کا یہ عمل مشروع تھا، وہ اپنے اس موقف کے لیے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی افضلیت اور ان کی یزید کے ساتھ عدم برابری پر اعتماد کرتے ہیں۔ (ایضاً) جبکہ بعض دوسرے حضرات سیدنا حسینؓ کے خروج کو شرعی خروج قرار دیتے ہیں، اس لیے کہ یزید سے متعدد منکرات کا ظہور ہوا تھا۔ (الارۃ فیما یجب اعتقادہ: صفحہ 376 مقدمۃ: جلد، 1 صفحہ 271) لیکن اگر ہم خروج حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور پھر شہادت حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کی تحصیل کریں، تو ہمیں معلوم ہو گا کہ نہ اِن لوگوں کا موقف درست ہے اور نہ اُن لوگوں کا ہی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید سے بیعت نہیں کی تھی اور انہوں نے شوریٰ اور ان مبادیات اسلام کے دفاع میں حکومت میں وراثت کے تصور پر اعتراض کیا تھا جو امت کو اپنی مرضی سے حکمران کے انتخاب کا حق دیتی ہیں۔ مکہ جانے کے لیے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، تاکہ وہ دونوں اپنے پیروکاروں کو جمع اور مسلمانوں کو اس انحراف کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی ترغیب دلا سکیں، جس نے نظام حکومت کو شوریٰ سے وراثت میں منتقل کر دیا ہے، حسین رضی اللہ عنہ کے سفر کا آغاز اپنے انصار و اتباع کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی غرض سے تھا تاکہ وہ نظام حکومت میں در آنے والے بگاڑ کی تصحیح کر سکیں، نظام شوریٰ، منہج خلافت راشدہ اور مبادیات کریمہ کو واپس لا سکیں۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا غلط ہے کہ آپ حکومت کے لالچ میں گھر سے نکلے تھے، حکومت کا لالچ ان کے اور ان کی ذریت کے شایان شان نہیں تھا، اس میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا خسارہ تھا، ان کے اور ان کے اہلِ بیت کے منہج کا خسارہ تھا اور ان کے ناناﷺ کی تعلیمات عالیہ کا خسارہ تھا۔ (عمرو الحسین، علاء الدین المدرس: صفحہ 62)

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے یزید بن معاویہ سے بیعت نہیں کی تھی اور وہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری میں مصروف ہو گئے تھے اور آپ نے ان اسلامی تعلیمات سے خروج نہیں کیا تھا، جو ظالم حکمران کے خاتمہ کے لیے عمدہ تیاری کی شرط لگاتی ہیں۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنے خیال میں کافی طاقت تیار کی تھی، لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی شماریات غلط ثابت ہوئیں۔ (الدولۃ و المجتمع فی العصر الاموی: صفحہ 165) مگر انہوں نے کسی ایسی شرعی غلطی کا ارتکاب نہیں کیا تھا، جو نصوص شرعیہ کے خلاف ہو۔ خصوصاً جب ہم اس امر سے آگاہ ہیں کہ بعض احادیث نبویہ میں خروج کی نوع کی وضاحت کی گئی ہے۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’فرض نماز اپنے بعد کی نماز تک کے درمیانی عرصہ کے لیے کفارہ ہے۔ جمعہ آئندہ جمعہ اور مہینہ اگلے مہینہ (یعنی ماہ رمضان) کے درمیانی عرصہ کے لیے کفارہ ہے۔‘‘ راوی کہتا ہے، اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’مگر تین چیزوں کا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، بیعت توڑنا اور ترک سنت کرنا۔‘‘ بیعت توڑنے سے مراد یہ ہے کہ آپ کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد اس کی مخالفت پر اتر آئیں اور اس کے ساتھ تلوار سے قتال کریں، جبکہ ترک سنت سے مراد مسلمانوں کی جماعت سے خروج کرنا ہے۔ (مسند احمد: جلد، 12 صفحہ 98 اس کی سند صحیح ہے)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ قتال کے ارادے سے نہیں نکلے تھے، بلکہ آپ کا خیال تھا کہ لوگ آپ کی اطاعت قبول کر لیں گے، مگر جب آپ نے دیکھا کہ وہ آپ سے منحرف ہو گئے ہیں، تو انہوں نے اپنے وطن لوٹ جانے یا کسی سرحد پر جانے یا پھر یزید کے پاس جانے کا مطالبہ کیا۔ (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 42)

مگر ابن زیاد نے ان کی اس نرمی اور ملائمت کے سامنے سرکشی کا مظاہرہ کیا، جبکہ اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ آپ کا کوئی ایک مطالبہ تسلیم کر لیتا۔ اس کے برعکس اس نے نواسہ رسول اور فرزند سیدنا علی حسین رضی اللہ عنہ سے ایک بہت بڑی چیز کا مطالبہ کر ڈالا اور وہ یہ کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس کا حکم تسلیم کریں۔ مگر یہ ایک فطری سی بات تھی کہ وہ اس مطالبے کو ردّ کر دیں اور انہوں نے واقعی اس کو ردّ کر دیا۔ اس لیے کہ ابن زیاد کے حکم کو تسلیم کرنے کے انجام کا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو علم نہیں تھا۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ انہیں قتل کرنے کا حکم صادر کر دے۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ اس قسم کی پیش کش تو رسول اللہﷺ اعدائے اسلام حربی کفار کو کیا کرتے تھے، مگر حسینؓ کا شمار تو ان لوگوں میں نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ تو مسلمانوں کے سردار تھے اور ان کا شمار ان کے بہترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 329) اسی لیے ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زیاد کے اس ناروا مطالبے کو پورا کرنا ان پر واجب نہیں تھا (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 550) اور حقیقت تو یہ ہے کہ ابن زیاد نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے اقدام سے شرعی اور سیاسی پہلو کی مخالفت کی۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 329)

ظالم تو ابن زیاد اور اس کا لشکر تھا جنہوں نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح کی پیش کش کو ردّ کر دیا اور پھر انہیں قتل کرنے کے لیے کمربستہ ہو گئے پھر جہاں تک سیدھی حسین رضی اللہ عنہ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جذبہ خیر خواہی کا تعلق ہے، تو اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ انہیں امام کے خلاف خروج کرنے والا سمجھتے تھے، جیسا کہ یوسف العش کا خیال ہے۔ (الدولۃ الامویۃ: صفحہ 158) بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حق میں اہلِ کوفہ کی خطرناکی کا بخوبی ادراک تھا اور وہ ان کی کذب بیانی سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کی نصائح کی مختلف تعبیریں انہی مفاہیم پر محمول ہوں گی۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 330)

ابن خلدون رقم طراز ہیں: ’’اس سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی غلطی واضح ہوتی ہے، مگر یہ غلطی دنیوی معاملے میں تھی، جو ان کے لیے ضرر رساں نہیں ہے، جہاں تک شرعی حکم کا تعلق ہے تو انہوں نے اس میں غلطی نہیں کی تھی، اس لیے کہ اس کا تعلق ان کے ظن کے ساتھ تھا اور وہ اپنے ظن کی رُو سے اس پر قادر تھے۔ (المقدمۃ: جلد، 1 صفحہ 271) رہے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو حجاز، مصر، شام اور عراق میں موجود تھے، اور وہ لوگ جنہوں نے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کی متابعت نہ کی، تو انہوں نے نہ تو ان پر اس کا انکار کیا اور نہ انہیں اس کے لیے گناہ گار ٹھہرایا، اس لیے کہ وہ مجتہد تھے۔‘‘ (المقدمۃ ابن خلدون: جلد، 1 صفحہ 271)

ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ نے جن احادیث میں جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے پر وعید سنائی ہے، ان کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر اطلاق نہیں ہوتا، اس لیے کہ انہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار نہیں کی تھی اور کسی کو قتل بھی نہیں کیا تھا۔ بلکہ انہوں نے اپنے وطن جانے کی اجازت دینے یا کسی سرحد پر بھیجنے یا یزید کے پاس بھجوانے کا مطالبہ کیا تھا، وہ جماعت میں داخل تھے اور امت کی تفریق سے گریزاں تھے، اگر یہ مطالبہ کوئی کم تر درجے کا آدمی بھی کرتا تو اسے پورا کرنا ضروری تھا پھر حسین رضی اللہ عنہ جیسے انسان کا یہ مطالبہ کیوں نہ تسلیم کیا گیا؟ (منہاج السنۃ: جلد،4 صفحہ 556 قدرے تصرف کے ساتھ) ان سے اس لیے جنگ نہیں کی گئی تھی کہ انہوں نے ولایت و حکومت کا مطالبہ کیا تھا، انہیں تین میں سے کسی ایک جگہ واپس جانے کی پیش کش کے بعد قتل کیا گیا، انہیں ازراہ ظلم قتل کیا گیا۔ (ایضاً: جلد، 6 صفحہ 340 قدرے تصرف کے ساتھ)