شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط سوم - ردِ رافضیت |…

شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط سوم

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 3

چنانچہ انہوں نے آپؓ کے مکان کا محاصرہ کر لیا اور آپؓ کو مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے بھی روک دیا، معاملہ جب حد سے بڑھنے لگا تو سیدنا عثمانؓ نے سیدنا علیؓ اور سیدنا طلحہؓ کو بلایا وہ تشریف لے آئے تو آپؓ نے ان سب کے سامنے فرمایا کہ: اے اہل مدینہ میں تمہیں خدا کے سپرد کرتا ہوں اور اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے بعد تم پر بہتر شخص خلافت کرے، میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم نے وفاتِ عمر پر دعا مانگی تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے بہترین پر جمع کردے اگر تم کہتے ہو کہ خدا نے تمہاری دعا قبول نہیں کی تم خدا کے نزدیک کم مرتبہ ہو تو کہو کہ اللہ کا دین اس کے ہاں اس قدر بےحقیقت ہے کہ وہ اس کا فیصلہ نہ کر پایا کہ اپنے دین کا والی کس کو بنا رہا ہے یا کہو کہ خلافت شوریٰ سے نہیں ہوئی تو پھر امت نے خدا کی نافرمانی کی یا کہو کہ اللہ نے میرا انجام نہیں جانا۔ میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا مجھے اسلام میں سبقت اور تقدم حاصل نہیں ہے اللہ نے ہر بعد والے پر مجھے مقدم کیا اور فضیلت عطاء فرمائی ہے۔

ابن کثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں کہ پھر آپؓ ایک جمعہ کو منبر پر کھڑے ہوئے اس وقت آپؓ کے ہاتھ میں وہی عصا تھا جس پر حضورﷺ دوران خطبہ ٹیک لگایا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے تو مجمع میں سے جحیاہ نامی شخص اٹھ کر آپؓ کو برا بھلا کہنے لگا اور آپؓ کے منبر سے اترنے کا مطالبہ کیا اور آپؓ کے ہاتھ سے عصا لیکر اسے اپنے دائیں گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا جس سے اس کا پیر زخمی بھی ہوا(اللہ نے اسے پھر یہ سزا دی کہ اس کا یہ پیر  گل سڑ گیا تھا اور اس میں کیڑے پڑ گئے تھے) سیدنا عثمانؓ منبر سے نیچے اترے اور عصا کو دوبارہ جوڑنے کا حکم دیا۔

اسی طرح ایک اور موقع پر باغیوں نے سیدنا عثمانؓ کے ساتھ گستاخی سے پیش آنے کی کوشش کی تو سیدنا زید بن ثابتؓ وغیرہ نے انہیں باز آنے کے لیے کہا تو باغیوں کے ٹولے نے انہیں مارا اور جو لوگ سیدنا عثمانؓ کی حمایت میں کھڑے ہوئے ان پر بھی پتھر مارے حتیٰ کہ سیدنا عثمانؓ کو بھی نہ چھوڑا، آپؓ اس حملہ میں منبر سے بیہوش ہو کر گر گئے تھے پھر لوگوں نے آپؓ کو اٹھا کر آپؓ کے گھر پہنچایا۔

سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم اس دوران حضرت عثمان غنیؓ کی عیادت کو آئے اور بتایا کہ مصریوں اور دیگر باغیوں نے دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے تو آپؓ کو اس کا افسوس ہوا۔ اس دوران صحابہؓ کی ایک جماعت حضرت عثمان غنیؓ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ آپؓ اجازت دیں تاکہ ہم ان  کے خلاف قتال کرکے ان کی شرارتوں کو روک دیں حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا کہ نہیں، اور انہیں قسم دی کہ وہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور پرسکون رہیں گے۔

باغیوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کر کے آپؓ کا باہر نکلنا بند کردیا۔ بہت سے لوگ معاملہ کی نزاکت کو سمجھ نہ پائے تھے جبکہ بہت سے اس امید پر تھے کہ یہ مسئلہ کسی نہ کسی مصالحت پر منتج ہو جائے گا، ان میں سے کسی کو بھی یہ امید نہ تھی کہ یہ لوگ اس حد تک بھی جائیں گے کہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کردیں گے۔ باغیوں کا اصرار تھا کہ سیدنا عثمانؓ خلافت چھوڑ دیں جبکہ سیدنا عثمانؓ اس بات پر سختی سے قائم تھے کہ وہ خلافت نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ انہیں حضورﷺ نے سختی سے اس پر ڈٹے رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ جن دنوں بیمار تھے آپؓ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ کوئی آپؓ کے پاس ہوتا ہم نے کہا حضورﷺ فرما دیں تو ابوبکرؓ کو بلا دیں، آپﷺ نے کوئی جواب نہ دیا ہم نے کہا سیدنا عمرؓ کو بلالیں، آپؓ پھر بھی خاموش رہے ہم نے کہا عثمانؓ کو بلا لیں حضورﷺ نے فرمایا ہاں انہیں بلاؤ۔ چنانچہ سیدنا عثمانؓ جب تشریف لائے تو حضورﷺ نے تنہائی میں ان سے کچھ گفتگو فرمائی حضورﷺ کی باتیں سن کر سیدنا عثمانؓ کا رنگ بار بار بدلتا تھا۔ حضورﷺ نے سیدنا عثمانؓ سے کیا فرمایا اسے خود سیدنا عثمانؓ سے سنیے۔ آپؓ نے یہ بات اس وقت فرمائی جب آپؓ اپنے گھر میں قید کر دیے گئے تھے آپؓ نے فرمایا۔

ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عھد الی امرا فانا صابر نفسی علیہ

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 106)

حضورﷺ نے مجھ سے ایک خاص عہد لیا تھا اور میں اس بارے میں صبر کرنے والا ہوں۔

قیس کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عثمان غنیؓ کو اس دن بڑے صبر کے ساتھ وہ لمحات گزارتے دیکھا تھا۔

اور یہ خاص عہد جس معاملے میں لیا گیا ہے اس کا بیان بھی حضورﷺ نے فرما دیا ہے

یا عثمان ان ولاک اللّٰہ ھذا الامر یوما فارادک المنافقون ان تخلع قمیصک الذی یقمصک اللّٰہ فلا تخلعہ۔

(ابن ماجہ: صفحہ 11)

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 107)

(الصواعق المحرقہ: صفحہ 10)

اے عثمانؓ اللہ اگر کسی دن تمہیں خلافت سے نوازے اور منافقین چاہیں کہ یہ قمیض جو اللہ نے تجھے پہنائی ہے تو اتار دے تو تم اسے ہرگز نہ اتارنا

حضورﷺ نے اس میں اشارہ فرما دیا کہ جب بھی وہ وقت آئے اور لوگ آپؓ سے خلافت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کریں تو ان کی بات نہ ماننا، یہ خلافت اللہ نے تمہیں عطاء فرمائی ہے اس میں جان تو دی جاسکتی ہے مگر اللہ کی پہنائی خلعت پر کسی طور حرف نہ آنے دینا، آپﷺ نے ان لوگوں کو جو آپؓ سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے منافق اور ظالم قرار دیا ہے، چنانچہ سیدنا عثمانؓ کو اپنی جان سے زیادہ حضورﷺ کی بات کا احترام تھا، آپؓ نے جان تو دے دی مگر خلافت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ آپؓ کی مظلومانہ شہادت کی خبر حضورﷺ نے پہلے دے دی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک فتنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا

(جامع ترمذی: جلد 2 صفحہ 212)

( الصواعق المحرقہ: صفحہ 110)

️اس میں عثمانؓ مظلوم ہونے کی حالت میں مارا جائے گا۔

صفحہ 2 از 3