شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط سوم - ردِ رافضیت |…

شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط سوم

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 3 از 3

ان دنوں صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد حج کے لیے مکہ مکرمہ میں جا چکی تھی بہت سے صحابۂ کرامؓ غزوہ کے لیے گئے ہوئے تھے، ادھر مدینہ میں صحابہؓ کی تعداد کم تھی ان میں بہت سے حضرات اس خوش فہمی میں رہے کہ گفت وشنید کے بعد معاملہ رفع دفع ہو جائے گا اور بات دور تک نہ جائے گی چنانچہ باغیوں نے لوگوں کی کمی اور حج کی وجہ سے ان کی غیر حاضری کا فائدہ اٹھایا

وانتھزوا الفرصۃ بقلۃ الناس وغیبتھم فی الحج

ان میں سے بعض بزرگوں نے باغیوں کو سمجھانے کی کوششیں جاری رکھیں مگر وہ اس ایک مطالبہ کے سوا کوئی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے اور ادھر سیدنا عثمانؓ اس ایک بات کے سوا باقی باتوں کو تسلیم کر سکتے تھے معاملہ دن بدن بڑھتا رہا تقریباً چالیس روز تک سیدنا عثمانؓ کے گھر کا گھیراؤ جاری رہا اور اس دوران سیدنا عثمانؓ کے گھر کا پانی بند کر دیا گیا اور آپؓ تک پانی پہنچانے کی بھی اجازت نہ دی گئی۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے غلاموں کے ذریعہ آپؓ تک پانی پہنچانا چاہا مگر وہ بھی بڑی مشکل سے آپؓ تک پہنچایا گیا اس میں آپؓ کا غلام زخمی ہوا۔

سیدنا علیؓ نے ان لوگوں سے کہا: اے لوگو جو کچھ تم کر رہے ہو یہ نہ تو مسلمانوں کا کام ہے اور نہ ہی کافروں کا، تم سیدنا عثمانؓ سے کھانے پینے کی چیزیں کیوں روک رہے ہو، روم اور فارس کے لوگ بھی اگر کسی کو قید کرتے ہیں تو وہ اسے کھلاتے پلاتے ہیں اور سیدنا  عثمانؓ نے تو تم لوگوں سے کوئی تعرض بھی نہیں کیا ہے تم کس بنا پر ان  کا محاصرہ کر رہے اور ان کے قتل کو جائز سمجھتے ہو؟


صفحہ 3 از 3