شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط پنجم - ردِ رافضیت…

شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط پنجم

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

آپؓ کے گھر میں داخل ہونے والوں میں محمد بن ابی بکر اور ان کے کچھ ساتھی تھے محمد ابی بکر جب آپؓ کے کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت عثمانؓ اپنی اہلیہ حضرت نائلہؓ کے ساتھ ہیں اور قرآن کریم آپؓ کی گود میں رکھا ہوا ہے آپؓ اس کی تلاوت فرما رہے ہیں محمد بن ابی بکر نے آگے بڑھ کر حضرت عثمانؓ کی داڑھی پکڑی تو حضرت عثمانؓ نے اس سے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر تمہارے والد تمہیں یہ کام کرتے دیکھتے تو انہیں بہت دکھ ہوتا یہ سنتے ہی محمد بن ابی بکر نے آپؓ کی داڑھی چھوڑ دی اور گھر سے نکل گیا۔

علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ کا بیان ہے کہ محمد بن ابی بکر وہاں سے باہر چلا گیا اور جو لوگ حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے ان سے بات چیت کی اور انہیں اس سے روکنے کی کوشش کی مگر انہوں نے محمد بن ابی بکر کی بات نہ مانی اور وہ اندر داخل ہو گئے۔

حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے بھی ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی اور ان سے کہا کہ اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کی تلوار نہ نکالو خدا کی قسم اگر تم اس تلوار کو نیام سے نکالو گے تو دوبارہ اس تلوار کو نیام کے اندر نہیں رکھ سکو گے تم پر افسوس ہے کہ تمہارا مدینہ فرشتوں کی حفاظت پر ہے اگر آج تم نے انہیں قتل کر دیا تو وہ فرشتے اس شہر کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

(طبری: جلد 3 صفحہ 399) 

آپؓ نے ان سے یہ بھی کہا کہ خدا کے لیے حضرت عثمانؓ پر ہاتھ نہ اٹھاؤ یہ دنیا میں زیادہ نہیں جئیں گے خدا کی قسم اگر تم نے آپؓ کو شہید کردیا تو پھر تم کبھی اکٹھے نماز نہ پڑھ سکو گے۔

سیدنا عثمانؓ اپنی شہادت کے وقت تلاوت قرآن مجید میں مصروف تھے جب قاتلوں نے آپؓ کے سر پر لوہے کی لاٹ ماری تو حضرت عثمان غنیؓ کی زبان سے (بسم اللّٰہ توکلت علی اللہ) بےساختہ نکلا اور خون آپؓ کے سر سے بہہ کر آپؓ کی داڑھی کو تر کر رہا تھا قرآن حضرت عثمان غنیؓ کی گود میں تھا آپؓ نے بائیں جانب سہارا لیا اور آپؓ کی زبان پر(سبحان اللّٰہ العظیم) کے الفاظ جاری تھے اور آپؓ کے خون کا قطرہ سامنے رکھے ہوئے قرآن کریم پر آگرا اور قرآن کریم کی آیت( فسیکفیکھم اللّٰہ وھو السمیع العلیم) آپؓ کے خون سے سرخ ہوگئی۔ 

قال عثمانؓ بسم اللّٰہ توکلت علی اللہ واذا الدم یسیل علی اللحیۃ یقطر و المصحف بین یدیہ فاتکا علی شقہ الایسر وھو یقول سبحان اللّٰہ العظیم وھو فی ذالک یقرء المصحف و الدم یسیل علی المصحف حتی وقف الدم عند قولہ تعالیٰ فسیکفیکھم اللّٰہ وھو السمیع العلیم

عبداللہ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمانؓ کا وہ مصحف جس پر آپؓ کا خون گرا تھا دیکھا تھا

رأیت مصحف عثمانؓ ونضح الدماء فی علی اشیاء من الوعد و الوعید فکان ذالک عند الناس من الآیات

اور اس طرح آپؓ کو شہید کردیا گیا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپؓ زندگی کی آخری سانسوں میں بھی حضورﷺ کی امت کے درمیان اتحاد کی دعا کرتے رہے حضرت عبداللہ بن سلامؓ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانِ غنیؓ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور ان کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا تھی

اللھم اجمع امۃ محمدﷺفلا ریب ان عثمان ان تولی ثنتی عشرۃ سنۃ ثم قصد الخارجون علیہ قتلہ و حصروہ وھو خلیفۃ الارض و المسلمون کلھم رعیۃ وھو مع ھذا کم یقتل مسلما ولا دفع عن نفسہ بقتال بل صبر حتی قتل (منہاج السنہ: جلد 8 صفحہ 221)

فعثمان حاصروہ و طلبوا خلعہ من الخلافۃ او قتلہ ولم یزالوا بہ حتی قتلوہ وھو یمنع الناس من مقاتلتھم الی ان قتل شہیدا وما دافع عن نفسہ فھل ھذا الا من اعظم الصبر علی المصائب

سبائی باغی ٹولے نے حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر دیا اللہ انہیں غارت کرے آپؓ نے صبر کا مظاہرہ کیا اپنے ہاتھ کو روکے رکھا اور اپنے خادموں کو بھی اس سے روک دیا حتیٰ کہ آپؓ کو آپؓ کے گھر میں شہید کر دیا گیا آپؓ اس وقت قرآن کی تلاوت کررہے تھے حضرت عثمان غنیؓ کی اہلیہ آپؓ کے پاس تھیں۔

شہادت کے بعد قاتلوں میں سے ایک شخص جب آپ کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ حضرت عثمان غنیؓ کا سر قرآن پر ہے تو اس بدبخت نے اپنا پاؤں آپؓ کے سر پر مارا اور اسے مصحف سے دور کر دیا اور کہنے لگا کہ میں نے آج تک کسی کافر (معاذ اللہ) کا چہرہ اتنا حسین اور کسی کافر (معاذ اللہ) کے لیٹنے کی جگہ (یعنی قرآن) اتنی باعزت نہیں دیکھی۔

ما رایت کالیوم وجہ کافر احسن ولا مضجع کافر اکرم۔

(البدایہ والنہایہ: جلد 7 صفحہ 175) 

یہ بدبخت شیعہ سبائی لوگ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنے کے بعد جب فرار ہوئے تو حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا نے آواز دی کہ لوگوں امیرالمؤمنین کو شہید کر دیا گیا ہے تو قریب کھڑے لوگ آمد کی جانب دوڑے اور گھر آ کر دیکھا تو پتا چلا سیدنا عثمانؓ شہید کئے جا چکے تھے اور جونہی یہ خبر حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو وہ بھی دوڑے دوڑے آئے اور سیدنا عثمانؓ کے جسد خاکی کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے انہیں آپؓ کی شہادت پر بڑا رنج ہوا حضرت علیؓ نے وہیں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو سخت ڈانٹا اور کہا کہ

 تم دونوں کو میں نے ان کے دروازے پر پہرہ بٹھانے کے لیے بھیجا تھا تمہارے ہوتے ہوئے قاتل کس طرح اپنے کام میں کامیاب ہوگئے پھر آپؓ نے حضرت حسنؓ کو زور سے ایک تھپڑ مارا اور سیدنا حسینؓ کے سینہ پر بھی زور سے ہاتھ مارا آپ نے سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے بچوں کو بھی ڈانٹا اور وہاں سے انتہائی رنج اور غصہ کے ساتھ واپس نکل آئے۔

(تاریخ الخلفاء: صفحہ 165)

حضرت عثمانؓ کی شہادت 18 ذوالحج 35 ہجری جمعہ کے روز عصر کے وقت ہوئی۔

(تاریخ الخلفاء: صفحہ 167)

 اس وقت آپؓ کی عمر 82 یا 84 سال کے قریب تھی۔


صفحہ 2 از 2