Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنگ جلولاء کے موقع پر مال فے خریدنے پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا محاسبہ

  علی محمد الصلابی

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ فارس کے معرکوں میں سے ایک معرکہ جو ’’جلولاء‘‘ میں پیش آیا تھا اس میں حاضر ہوا اور چالیس ہزار درہم میں مالِ غنیمت خریدا اور جب وہاں سے لوٹ کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: اگر میں جہنم میں ڈالا جاؤں اور تم سے کہا جائے کہ اس کے عذاب سے بچانے کے لیے فدیہ دو، تو کیا تم فدیہ دو گے؟ تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم کوئی بھی چیز جو آپ کے لیے باعثِ تکلیف ہو میں اس سے بچانے کے لیے سب کچھ فدیہ دینے کو تیار ہوں، آپؓ نے فرمایا: گویا کہ میں لوگوں کو دیکھ رہا تھا جب وہ خرید و فروخت کررہے تھے اور کہہ رہے تھے: عبداللہ بن عمر صحابیِ رسول ہیں، امیر المؤمنین کے بیٹے ہیں، ان کے چہیتے ہیں، اور تم حقیقت میں ایسے ہو بھی، پس تمہیں مہنگا دینے کے بجائے کم داموں میں دینا انہیں زیادہ محبوب رہا میں تقسیم کرنے والا ذمہ دار ہوں اور ایک قریشی تاجر جتنا نفع پاتا ہے میں تم کو اس سے زیادہ دیتا ہوں تمہارے لیے ایک درہم پر ایک درہم یعنی دوگنا نفع ہے۔ ابنِ عمرؓ کا کہنا ہے کہ پھر آپ نے تاجروں کو بلایا اور انہوں نے اس کو چار لاکھ درہم میں خرید لیا، حضرت عمرؓ نے اس میں سے مجھے صرف اسّی ہزار 80،000 درہم دئیے اور بقیہ دراہم سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس بھیج دئیے تاکہ وہ اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیں۔ 

(تاریخ الإسلام: عہد الخلفاء الراشدین: ذہبی: صفحہ 270، 271)