حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے المناک نتائج قسط…

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے المناک نتائج قسط ہفتم

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 3

جواب: حضورﷺ کے صحابہ کرامؓ میں ایک صحابی بھی ایسا نہ تھا جس کے دل میں حضرت عثمانؓ کے خلاف کوئی بوجھ ہو، ان سب کو معلوم تھا کہ حضورﷺ  نے حضرت عثمانؓ کو ہمیشہ نگاہ محبت و عزت سے دیکھا ہے اور آپؓ کے بارے میں بڑے فضائل و مراتب بیان فرمائے اور اشاروں کنایوں میں آپؓ کے خلیفۂ ثالث ہونے کی بشارت اور آپؓ کے شہید اور جنتی ہونے کی بشارت دی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ تو حضرت عثمانؓ کو حق اور ہدایت پر بتائیں اور آپؓ کے اچھے ہونے کی گواہی دیں اور انہیں اپنے مؤقف پر استقامت سے رہنے کی تاکید فرمائیں اور دوسری طرف آپﷺ کے صحابہؓ ان سب ارشادات کو بیک نظر مسترد کرتے ہوئے ان کے قتل میں شامل ہو جائیں۔ جو لوگ صحابہؓ کو حضرت عثمانِ غنیؓ کے قتل میں شامل بتاتے ہیں اور انہیں اس گندگی میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ صحابہؓ کے نام پر حضرت عثمان غنیؓ کو نشانۂ طعن بنا سکیں۔ استغفر الله العظيم 

امام ابو بکر بن العربی المالکی (543ھ) لکھتے ہیں:

ان احدا من الصحابة لم يسع عليه ولا قعد عنه

(العواصم من القواصم: صفحہ 143)

صحابۂ کرامؓ میں سے کوئی بھی حضرت عثمانِ غنیؓ کی مخالفت میں آگے بڑھا اور نہ وہ آپؓ کی حمایت سے دست کش ہوئے

صحیح مسلم کے شارح اور محدث امام نوویؒ (676 ھ) کھل کر لکھتے ہیں:

لم يشارك في قتله أحد من الصحابة

(نووی شرح مسلم: جلد 2 صفحہ 143)

حضرت عثمانؓ کے خون میں کسی بھی صحابی کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔

شیخ الا سلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃاللہ لکھتے ہیں:

ومعلوم بالتواتر أن أهل الامصار لم يشهدوا قتله فلم يقتله بقدر من بايعه وأكثر أهل المدينة لم يقتلوه ولا أحد من السابقين الاولين دخل في قتله كما دخلوا في بيعته

(منهاج السنۃ: جلد 8 صفحہ 313)

آپ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں

ان جماهير المسلمين لم يأمروا بقتله ولا شاركوا فى قتله ولا رضوا بقتله.. خيار المسلمين لم يدخل منهم في دم عثمان لا قتل ولا أمر بقتله  وإنما قتله طائفة من المفسدين في الارض من أوباش القبائل وأهل الفتن

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 323)

علامہ ابو الشکور سالمی رحمۃاللہ التمہید میں لکھتے ہیں:

ولم يكن معهم من الصحابة أحد فنقبوا جداره ودخلوا عليه وقتلوه مظلوما

(التمهيد صفحہ 164)

حضرت عثمانؓ کے گھر گھسنے والوں میں کوئی بھی صحابی نہ تھا، یہ دوسرے لوگ تھے جو دیوار پھاند کر اندر داخل ہو گئے اور آپؓ کو ظلماً قتل کردیا۔

مؤرخ شہیر حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں:

ليس فيه أحد من الصحابة

(البدايہ والنهايہ: جلد 7 صفحہ 185۔ 198)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں۔

کہ آپؓ کے ساتھ زیادتی کرنے والے مصری اور ان کے ساتھی تھے ان میں کوئی صحابی اور ان صحابہ کے پیچھے چلنے والا کوئی تابعی نہ تھا۔

قومی از مصریاں کہ نہ از بعد صحابه بود ندونه از تابعین لهم باحسان

(قرة العینین: صفحہ 143)

اس بارے میں سب سے زیادہ نام حضرت علی المرتضیٰؓ کا لیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ اپنے مذموم اپنے مقاصد کے تحت انہیں شہادت عثمانؓ کا ذمہ دار بتاتے ہیں، یہ بات بالکل غلط ہے، بیشک بعض معاملات میں آپؓ کو حضرت عثمانؓ کی پالیسی سے اختلاف ہوا اور آپؓ نے ان کی نشاندہی بھی کی تاہم آپؓ کو حضرت عثمانؓ کی شہادت کا ذمہ دار بتانا، حضرت علی المرتضیٰؓ کی سیرت کو داغدار کرنا ہے جو ہرگز جائز نہیں۔ آپؓ حضرت عثمانؓ کی مدافعت کرنے والوں میں تھے اور اپنی ممکنہ حد تک آپ نے یہ کوشش بھی کی۔ آپؓ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو حضرت عثمانؓ کی حفاظت پر مامور فرمایا آپؓ کے لئے پانی بھیجنے کا انتظام کیا ان کوششوں کے باوجود تقدیر الٰہی پوری ہوئی پھر جب آپؓ کو شہادت کی خبر پہنچی تو آپ رو پڑے اس پر سخت دکھ کا اظہار فرمایا اور قاتلوں سے کھلے عام اظہار برأت کیا اور فرمایا کہ نہ میں نے کبھی اس کا حکم دیا تھا نہ میں ان کے اس عمل سے راضی ہوں خدا ان کو غارت و برباد کرے جنہوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کیا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کے یہ بیانات آپ پہلے پڑھ آئے ہیں۔

پیش نظر رہے کہ حضرت علیؓ کو شہادت عثمان غنیؓ کا ذمہ دار بتانے والے رافضی اور خارجی ہیں اور دونوں نے اپنے مذموم مقاصد کے تحت آپ کو اس میں رگیرنے کی کوشش کی ہے رافضی گروہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ چونکہ مستحق قتل تھے اس لئے یہ سب کچھ حضرت علیؓ کے حکم سے ہوا تھا اور اس میں حضرت علیؓ حق بجانب تھے اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمانِ غنیؓ کا دفاع کرنے کی زحمت تک گوارا نہ کی۔ اودھ (انڈیا) کے ایک رافضی ملا حسین بخش کا یہ دل آزار بیان دیکھیے

قتل عثمان( رضی اللّٰہ عنہ) قطعی کوئی جرم نہیں تھا بلکہ یہ تو اسلامی معاشرے کے اعلیٰ مقاصد کے عین مطابق تھا اور خود حضرت علی علیہ السلام عثمان (رضی اللہ عنہ) کے دفاع کے لئے راضی نہیں تھے

(امامت و ملوکیت: صفحہ 123)

جبکہ خارجی گروہ حضرت علیؓ کو بدنام کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مظلوم خلیفہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں انہیں آپ پر قتل کا الزام لگانے میں کوئی حیاء نہیں آئی۔ استغفر اللہ

  ابن تیمیہ رحمۃاللہ ان دونوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

فكان أناس من محبى على ومن مبغضيه يشيعون ذلك عنه فمحبوه يقصدون بذلك الطعن على عثمان بانه كان يستحق القتل وأن عليا أمر بقتله ومبغضوه ويقصدون بذلك الطعن على على وأنه أعان على قتل الخليفة المظلوم الشهيد الذي صبر نفسه ولم يدفع عنها ولم يسفك دم مسلم في الدفع عنه فكيف فى طلب طاعته وأمثال هذه الأمور التي يتسبب بها الزائغون على المتشيعين العثمانية والعلوية 

( فتاویٰ ابن تیمیہ: جلد 35 صفحہ 73)

جبکہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کا دامن ان تمام آلائشوں سے پاک ہے جو سیدنا علیؓ کی طرف رافضی اور خارجی لوگوں نے منسوب کر رکھا ہے۔

صفحہ 2 از 3