Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قرابت داری نفع خوری کا سبب نہیں بن سکتی

  علی محمد الصلابی

اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا فاروق عمر رضی اللہ عنہ کے دونوں صاحبزادے یعنی عبداللہ اور عبید اللہ ایک لشکر کے ساتھ عراق کی مہم پر نکلے، جب وہ دونوں لوٹے تو بصرہ کے امیر ابو موسیٰ اشعریؓ سے ملاقات کرتے ہوئے لوٹے۔ ابو موسیٰ اشعریؓ نے ان دونوں کو خوش آمدید کہا اور استقبال کیا اور کہا: اگر میں کسی طرح سے تم دونوں کو کوئی فائدہ پہنچا سکا تو ضرور فائدہ پہنچاؤں گا، پھر کہنے لگے: ہاں ٹھیک ہے، یہاں میرے پاس صدقہ کی کچھ رقم ہے اور میں اسے امیر المؤمنین کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں، میں اسے تم دونوں کو بطورِ قرض دے رہا ہوں تم اس سے عراق سے کچھ سامان خرید لو اور اسے لے جا کر مدینہ میں فروخت کر دینا، پھر قرض کی اصل رقم امیر المؤمنین کو دے دینا اور نفع تمہارا ہو جائے گا۔ ان دونوں نے ایسا ہی کیا اور ابوموسیٰؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس خط لکھ دیا کہ ان دونوں سے مرسلہ رقم لے لیں۔ جب وہ دونوں حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس آئے تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا جس طرح تم دونوں کو ابو موسیٰؓ نے قرض دیا ہے اسی طرح مجاہدین کے پورے لشکر کو دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: رقم اور اس کے ذریعہ سے حاصل کیا ہوا نفع دونوں واپس کرو۔ چنانچہ عبداللہؓ خاموش رہے، لیکن عبید اللہؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کا یہ عمل مناسب نہیں ہے، اگر رقم ضائع ہو جاتی، یا اس میں کچھ کمی ہوجاتی تو ہم ہی اس کے ضامن ہوتے، پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم دونوں پوری رقم واپس کر دو اور اس مرتبہ بھی عبداللہؓ خاموش رہے لیکن عبید اللہؓ حجت کرتے رہے۔ حضرت عمرؓ کے ہم نشینوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ در پیش مسئلہ کو قراض یعنی شراکت کی تجارت قرار دیتے تو بہتر ہوتا۔ 

(الخلفاء الراشدون: النجار: صفحہ 244)

چنانچہ حضرت عمرؓ نے اصل رقم اور آدھا نفع لے لیا، اور آدھا نفع عبد اللہ اور عبیداللہ رضی اللہ عنہما نے لیا۔ صحابہؓ کا بیان ہے کہ اسلام میں قراض کی یہ پہلی تجارت عمل میں آئی۔