بعثت نبوی اور مقصد نزول قرآن تحریف قرآن کی ذد میں - ردِ…

بعثت نبوی اور مقصد نزول قرآن تحریف قرآن کی ذد میں

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 1 از 2

بعثت نبوی اور مقصد نزولِ قرآن

تحریف قرآن کی ذد میں

ابتدائے آفرینش سے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو زمین پر جینے کا ڈھنگ سکھانے اور نیابت الہٰی کا فریضہ ادا کرنے کے لیے یہ مثردہ بنایا تھا کہ فاما یا تینکم منی هدای فمن تبع هداى فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون -

یعنی تمہاری رہنمائی تو میں کرتا رہوں گا۔ البتہ تمہارا کام یہ ہے کہ جب میری طرف سے نہیں ہدایت پہنچے تو اس کی اتباع کرنا، ہاں جو میری دی ہوئی ہدایت کی اتباع کرے گا۔ اس کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا نہ غم ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالٰی نے یہ وعدہ پورا فرمایا اور مختلف زمانوں مختلف قوموں اور ملکوں میں اپنی طرف سے ہدایت دے کر انبیاء مبعوث فرمائے، وہ موجودہ ہدایت آسمانی کتابوں اور صحائف کی صورت میں انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل فرماتا رہا حتی کہ جب انسانیت ذہنی اور تمدنی اعتبار سے سن بلوغ کو پہنچی تواللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و آخری نبی بنا کر نوع انسانی کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ اور حضور ﷺسے یہ اعلان کرایا کہ

قل يا امها الناس اِنی رسول الله اليكم جميعا

یعنی اپ اعلان کر دیں کہ بنی نو انسان میں تم سب کے لیے اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

اس عظیم الشان فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جو دستور العمل عطا فرمایا اس کا نام قران کریم ہے اور اس کی حیثیت متیعن کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ هُدًى وَرَحْمَةٌ وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ

اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حکم دیا کہ اس قران کے ذریعے تمام اہل دنیا کو ہدایت کا راستہ دکھائیں۔ پھر فرمایا:

تبارك الذي نزل الفرقان على عبد ، ليكون للعالمين نذيرا

اور حضورﷺنے مخاطبین اولین کو اور ان کے ذریعے انے والے نسلوں کو یہ فریضہ سونپا کے

اتبعوا ما انزل اليكم من ربکم

جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل ہوا اس کی اتباع کرو۔

ان حقائق کا خلاصہ یہ ہے کہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اللہ تعالی نے یہ ذمہ داری سونپی کے ہر شخص تک میرا پیغام اور میرا کلام نہ صرف پہنچائیں بلکہ اس پر عمل کرنے کا طریقہ بھی سکھائیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سلسلے میں جتنا کام کیا اس کے ساتھ یہ اعلان بھی فرماتے گئے کہ ان اتبع الا ما یو حی الی میں تو صرف اسی کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر نازل ہوا۔

☆۔۔۔حضور اکرم ﷺنے یہ کتاب ہدایت سب کو پڑھ پڑھ کے سنائی اور اس کی حفاظت کا انتظام دو طرح کیا کہ حفظ بھی ہو اور کتابت بھی ہو اور یہ قدرتی عمل تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو فریضہ رسالت کی کماحقہ ادائیگی ممکن ہی نہیں تھی۔

☆۔۔۔۔ان ابدی اور تاریکی صداقتوں کے باوجود ایک گروہ جو مسلمان ہونے کا مدعی ہے اس معاملے میں بالکل مختلف نظریہ اور عقیدہ رکھتا ہے چنانچہ اصول کافی( ۴۴۱ طبع جدید۔)

باب کا عنوان ہے:

ان لو يجمع القرآن كله الا الائمة عليهم السلام.

(یعنی پورا قرآن اماموں کے بغیر کسی نے جمع نہیں کیا)

عن جابر قال سمعت ابا جعفر عليه السلام يقول ما أدعی اخذ من الناس أنه جمع القرآن كله كما انزل الاكتاب وما جمعہ و حفظه كما أنزل الله تعالى الاعلى بن ابی طالب۔

حضرت جابر فرماتے ہیں میں نے امام باقر علیہ سلام سے سنا کہ جو شخص یہ دعوی کرے کہ اس نے پورا قران جمع کیا وہ جھوٹا ہے کیونکہ پورا قران سوائے علی بن ابی طالب کے کسی نے جمع نہیں کیااور نہ ہی یاد کیا ہے۔

عن ابى جعفرانه قال ما يستطيع احد ان يدعى ان عنده جميع القرآن كله ظاهره وباطنه غير الاوصياء۔

روایت ظاہر ہے امام جعفر علیہ السلام ۔سے

کوئی یہ دعویٰ کرنے کی قوت نہیں رکھتا کہ اسکے پاس سارا قرآن موجود ہے ۔ظاہر و باطن سواۓ اماموں کے۔

روائت سے ظاہر ہوتا ہے کہ

① نبی کریمﷺ نے قران کے جمع کرنے اور حفاظت کرنے کو کوئی ایسا اہم کام نہیں سمجھا کہ اس کا اہتمام فرماتے.

② یہ کام حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا نے ازخود کیا۔

③ قرآن صرف حضرت علی کی ہدایت کے لیے مخصوص تھا اس لیے صرف انہیں ہی سنایا گیا۔

روایت نمبر دو سے ظاہر ہوتا ہے کہ:

① قرآن صرف ائمہ کے پاس موجود ہے۔

② یعنی پہلے امام حضرت علی رضی اللہ عنہا نے بھی قرآن کو عام مسلمانوں کی ضرورت کی چیز تصور نہیں کیا اس لیے اسی پر اکتفا کیا کہ دوسرے امام کے سپرد کر دیں اور اسی طرح پوری رازداری سے یکے بعد دیگرے اماموں کے سپرد کیا جاتا رہے۔

③ کسی امام نے بھی قرآن اللہ کے بندو تک پہنچانا مناسب نہ سمجھا۔

یہ دو روایتیں ان حقائق کی تردید کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالی نے تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے کیونکہ اپ نے قران کے پھیلانے سنانے لکھوانے کا کوئی اہتمام نہیں کیا (بقول اصول کافی )اور اس بات کی تردید ہوتی ہے کہ قران پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے ہاں یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ کے مقرر کردہ آئمہ کے کام کی کوئی چیز ضرور ہے اس لیے ہر امام نے دوسرے امام تک پہنچانے کا اہتمام کیا.

☆۔۔۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس قرآن کے متعلق اعلان باری ہے:

ان ھو الا ذکری العالمین

، وہ صرف اللہ کی ذات تک کیوں محدود درہا تو اس عقد سے کامل بتایا گیا۔

احتجاج طبرسی طبع قدیم ، (78)فصل الخطاب من تفسیر مانی مندا اور تفسیر مراة الانوار صفحہ (37)

ومشكوة الاسرار یہ سب شیعہ کی مستند کتا ہیں ہیں۔

لما فوصٰى رسول اللہ ﷺجمع علی علیه السلام القرآن وجاء به الى مهاجرین والانصار وعرضه عليهم لما قدا وصاء بذالك رسول الله ﷺفلما فتحه ابو بكر خرج في اول صفحته فتحها فضائح القوم فثبت عمر وقال على اردده فلا حاجة لنا فيه فاخذ على وانصرف

فلما استخلف عمر سئل علیا ان ید فع عليهم القرآن ان يحرفوه فيما بينهم فقال يا ابا الحسن ان جئت بالقران الذي جئت به الى ابي بكر حتى نجتمع عليه۔

صفحہ 1 از 2