بعثت نبوی اور مقصد نزول قرآن تحریف قرآن کی ذد میں - ردِ…

بعثت نبوی اور مقصد نزول قرآن تحریف قرآن کی ذد میں

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 2 از 2

جب نبی کریم فوت ہوئے تو حضرت علی نے قرآن جمع کیا اور مہاجرین و انصار کے پاس لائے اور ان کے پاس پیش کیا کیونکہ حضور نے حضرت علی کو اس کی وصیت فرمائی تھی جب حضرت ابوبکر نے قرآن کو کھولا تو پہلے ہی سفے پر قوم کی برائیاں نکل ائیں یعنی مہاجرین ونسار کی پس حضرت عمر نے کہا اے علی رضی اللہ عنہ یہ قرآن واپس لے لے ہمیں اس کی ضرورت نہیں حضرت علی قرآن لے کر چلے گئے۔

جب حضرت عمر خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے حضرت علی سے وہ قرآن طلب کیا تاکہ اس میں رد و بدل کر دیں چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابوالحسن! اگر آپ وہ قرآن لے ائیں جو اپ نے ابوبکر کو دکھایا تھا تو ہم اس پر متفق ہو جائیں۔

قال على عليه السلام هيهات ليس الى ذالك سبيل الما جئت به الى ابى بكر لتقوم الحجته و تقولوا يوم القيامة انا كنا عن هذا غافلين و تقولو اما جئتنا به ان القرآن الذي عندي لا يمسه الا المطهرون والاوصياء من ولدي، فقال عمر هل وقت لا ظهاره فقال على عليه السلام نعم اذا قام القائم من ولدي يظهره ويحمل الناس عليه .

حضرت علی نے فرمایا بات دور چلی گئی اب تو اس قرآن تک پہنچنا ممکن نہیں۔میں ابوبکر کے پاس صرف اس لیے لایا تھا کہ حجت پوری ہو جائے اور قیامت کو تم یہ نہ کہو کہ ہم قرآن سے غافل رہے یا یہ کہو کہ علی ہمارے پاس قرآن لایا ہی نہ تھا اور فرمایا کہ وہ قرآن تو ہمارے پاس ہے۔مگر اسے پاک لوگوں اور میری اولاد کے بغیر کوئی خاک نہیں لگا سکتا پھر حضرت عمر نے پوچھا تو اس قرآن کے ظاہر ہونے کا بھی کوئی وقت ہے حضرت علی نے فرمایا ہاں میری اولاد سے جب امام مہدی ظاہر ہوگا تو وہ قرآن لائے گا اور لوگوں سے اس پر عمل کرائے گا۔

☆۔۔۔یہ روایت بڑی طویل ہے بقدر ضرورت حصہ یہاں نقل کیا گیا ہے۔پوری روایت اپنے مقام پر آئے گی بہرحال یہ حصہ بھی بہت معلومات افزاء ہے۔مثلًا

خواجہ علی نے اکیلے یہ قرآن جمع کیا اور حضور اکرم کی وفات کے بعد جمع کیا۔مگر جو قرآن اس وقت امت کے پاس ہے وہ تمام صحابہ کے سینوں اور سفینوں کی مدد سے جمع کیا گیا ہے مگر پھر بھی وہ تو نقلی قرآن ہے اور حضرت علی اکیلے نے جو جمع کیا وہ اصلی قرآن ہوا۔

②۔ حضرت علی اپنا قرآن مہاجرین و انصار کے پاس لے گئے جون ہی کھولا گیا اس میں مہاجرین و انصار کی برائیاں سامنے اگئی یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً

۱... مہاجرین و انصار وہ جماعت تھی جو حضور اکرمﷺ نے ۲۳ برس کی محنت شاقہ سے تیار کی تھی. اس قرآن میں ایسی جماعت کی برائیاں درج تھی مگر یہ نہیں بتایا کہ خوبیاں کس جماعت کی درج تھی ظاہر ہے مہاجرین وانصار کو چھوڑ کر باقی تو صرف مشرکین اور یہود و نصاری ہی رہ جاتے ہیں تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قرآن میں ان لوگوں کے فضائل اور خوبیاں درج تھی.

۲... اگر اس میں مہاجرین و انصار کی برائیاں درج تھی تو یہ جماعت تیار کس نے کی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت علی کے قرآن نے حضورﷺ کی محنت کو قابل مذمت قرار دیا.

③۔۔۔اگر یہ برائیاں مہاجرین و انصار نے آج پہلی دفعہ دیکھی تھی تو جب یہ نازل ہوئی۔کیا حضور اکرم ﷺنے مہاجرین و انصار کو یہ برائیاں والی ایات پڑھ کر نہیں سنائی تھی اگر سنائی تھی تو مہاجین وانصار کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی پھر تعجب کرنے کی کیا وجہ ہے پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مہاجرین انصار کی برائی حضورﷺ نے سنا دی کیا ان کی اصلاح کا نزول کی ذمے نہیں تھا۔ جو قرآن امت کے پاس ہے اس میں تو مہاجرین و انصار کے اوصاف و فضائل شروع سے اخر تک بھرے پڑے ہیں بلکہ مہاجرین انصار کے ایمان کو یہ قرآن تو معیار قرار دیتا ہے.

فان امنوا بمثل ما امنتم به فقد اهتدوار

اے میرے نبی کے صحابہ اگر لوگ اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو تب ہدایت یافتہ ہوں گے۔

یہ سب کمالات مہاجرین و انصار میں

ﷺ کی تربیت کے ذریعے ہی پیدا ہوئے اور اگر حضورﷺ نے یہ آیات مہاجرین و انصار کو سنائی ہی نہیں تو گویا حضور نے خود یہ اہتمام کیا تھا کہ قرآن کو چھپائے رکھیں اس سے بڑھ کر منصب نبوت اور حضورﷺ کی توہین اور کیا ہو سکتی ہے۔

④۔۔۔حضرت عمر کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا اسے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگ قرآن کو پڑھیں یا اس پر عمل کریں بلکہ اتمام حجت مقصد تھا۔ لہذا ایک دفعہ دکھا دینا کافی سمجھا پھر کوئی لاکھ کوشش کرے قرآن کسی کو دکھایا نہیں جائے گا یعنی قرآن چھپا کر رکھنے کے لیے نازل کیا گیا بنی نو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل نہیں ہوا تھا۔

⑤۔۔۔قرآن کے اظہار کے لیے جو وقت حضرت علی نے بتایا یہ بھی ایک راز سر بستہ معلوم ہوتا ہے سوال یہ ہے کہ گیارہ امام قران کی ضرورت سے واقف نہیں تھے یا ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اللہ کی بات اللہ کے بندوں کے سامنے کہہ سکیں اور یہ اخری امام کوئی بڑا باہمت ہوگا کہ آخر قرآن کو ظاہر کر کے رہے گا۔

⑥۔۔۔پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بارھویں امام کے ظہور تک امت محمدیہ کی اس کتاب سے رہنمائی حاصل کرے جب امت کے پاس کتاب ہدایت سرے سے موجود نہیں تو ظاہر ہے کہ نہ اس پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے نہ وہ مکلف ہے۔

مختصر یہ کہ اس روایت سے ظاہر ہے کہ نبی کریمﷺ کا کام صرف یہ تھا کہ اللہ کی طرف سے جو وحی ائے چپکے سے حضرت علی کے کان میں کہہ دیں اور مہاجرین و انصار میں سے کسی کو کونو کان خبر نہ ہو کیا نبی کی بعثت کی یہی غرض ہوتی ہے اور کیا کتاب کے نزول کا یہی مقصد ہوتا ہے۔


صفحہ 2 از 2