موجودہ قرآن محرف ہے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

موجودہ قرآن محرف ہے

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 2 از 3

الاخبار الكثيرة المعتبرة الصريحة في وقوع السقط ودخول النقصان في موجود من القرآن زیاد فعلی مامر متفرقاني ضمن الادلة السابقة دانه اقل من تمام مانزل اعجانا على قلب سید الانس والجان من غير احتصابها باية او سورۃ۔

کثیر التعداد یہودیوں سے مخصوص نہیں۔

اقرار سوم

قرآن میں ہر قسم کی تحریف کی گئی ہے یعنی کلمات میں آیات میں سورتوں میں وغیرہ کمی اور زیادتی ہیں۔

تفسیر مراۃ النوار و مشکوۃ الاسرار۔ سید حسن شریف ص101 تبع تہران

و قد مر في فصول المقدمة الثانية ما يدل على وقوع التبديل والتحريف في القرآن خصوص منه سوال الزنديق الدال صريحة على ان اعداء الائمة هم العبدلون له۔

مقدمہ ثانیہ کے پہلے فصلوں میں گزر چکا ہے کہ رویات دلالت کرتی ہیں قرآن میں تحریف پر خصوصاً زندیق کے سوال کی روایات صاف دلالت کرتی ہے کہ اماموں کے دشمن وہ ہیں جنہوں نے قرآن کو تبدیل کیا ہے۔

2_ایضاً ص37

وامثالها من الآيات الكثيرة سوى ما ورد في التقديم والتأخير و اسقاط اسم على و أسماء أعدائه من الاخبار علی المتواترة التي تاتي في مواضعها

اسی طرح کی کثیر ایات ہیں سوائے ان کے جن میں تقدیم تاخیر ہو گئی بالخصوص حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا نام ساقط کرنا اور ان کے دشمنوں کے نام گرا دینا وغیرہ اس بارے میں روایات متواتر آئی ہیں۔

3_اینا متقدم ثانیه ص 34

اعلم ان الحق لا محيص عنه حسب الاخبار المتواترة الاتية وه برها ان هذا القرآن الذي في الدنياقة وقع فيه بعد رسول الله شيء من التغيرات والسقط الذين جمعوه بعد كثيرا من الكلمات والایات و ان القرآن المحفوظ ما جمعه على .

خوب جان لو کہ حق بات یہ ہے جس سے کوئی چارہ نہیں با اعتبار روایات متواتر کہ جو انے والی ہیں اور ان کے سوا بھی کہ اس قرآن میں جو ہمارے ہاتھوں میں ہے کئی قسم کے تغیرات واقع ہوئے اور جمع کرنے والوں نے بہت سے کلمات ایات اس قران سے نکال دی جو قرآن محفوظ ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا۔

اقرار چہارم

قرآن کی تحریف کا عقیدہ رکھنا ضروریات دین شیعہ سے ہے۔

وضح ہے کہ ضروریات دین کا انکار کفر ہے لہذا قرآن کو محرف نہ ماننا شیعہ کے نزدیک کفر ہے۔

1تغير مراة الانوار ص19

وا علم ان الاحاديث بغير المحصورة تعال على هذا الامور المذكور بل اكثرها مما هو مجمع عليه عند علمائنا الامامین و قد نص علی حقيقه ها بل كون جلها من ضروریات هذا المذاهب

خوب جان لو کے لا تعداد حدیثیں امور مذکور پر دلالت کرتی ہیں بلکہ اکثر ان میں وہ ہیں جن پر علماء شیعہ امامیہ کا اجماع ہے اور ان کے حق ہونے پر نص کی گئی بلکہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تحریف قرآن کا عقیدہ شیعہ مذہب کی ضروریات دین سے ہے۔

2_اور انوار نعمانیہ ص 484

الوارد في هذا الكتب والسنة المتواترة بحيث صار من الضروريات الدينية يكفر منكرها اجماعا و رو فاقا.

اس کتاب یعنی انوار نعمانیہ میں اور سنت متواترہ میں ان روایات کا وارد ہونا اس حیثیت سے ہے کہ یہ مسئلہ ضروریات دین سے ہے جن کا منکر کافر ہے اجماع اور اتفاق سے۔

اقرار پنجم

تحریف قرآن کی روایات کا انکار کریں تو امامت کے عقیدے کا انکار بھی کرنا پڑتا ہے۔

فصل الخطاب ص239

لا يخفى ان هذا الخبر و كثيرا من الأخبار الصحيحة صريحة في نقص القرآن و تغیره و عندی ان الاخبار في هذا الباب متواترة معنى و طرح جميعها يوجب رفع الاعتماد عن الاخبار و اسأبل ظني ان الاخبار في هذا الباب لا يقصر عن اخبار الامامة فكيف يثبتونها بالخیر۔

یہ امر پوشیدہ نہ رہے کہ یہ حدیث اور کثیر تعداد میں شیعہ احادیث جو صحیح ہیں اور تحریف قرآن پر صریح دلالت کرتی ہیں کہ قرآن میں کمی ہوئی اس میں تغیر و تبدل ہوا اور میرے نزدیک تحریف قرآن کے باب میں روایات متواتر ہیں ان کو رد کر دینا واجب کر دیتا ہے کہ شیعہ روایات سے اعتماد آٹھ جائے اور فن حدیث بے معنی ہو جائے بلکہ میرا ظن غالب یہ ہے کہ تحریف قرآن کی روایات امامت کی روایات سے کم نہیں۔

یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ مسئلہ امامت شیعہ مسجد کی بنیاد اور رجحان ہے اور یہ مسئلہ قرآن مجید اور حدیث نبوی سے ثابت ہو نہیں سکتا بلکہ اس کا اشارہ تک نہیں ملتا لے کے بس روایات ہی تو خیر جن کے سہارے امامت کا مسئلہ گھڑا گیا ہے۔ لہذا تحریف قرآن کی روایات کا انکار کرنے سے دو قسم کی محرومی سے دو چار ہونا پڑتا ہے پہلا اپنے ذخیرہ روایات سے دستبردار ہونا دوسرا امامت کے عقیدہ کا انکار کرنا یہاں آ کر شیعہ حضرات عجیب دورا ہے پر پہنچ جاتے ہیں اگر تحریف قرآن کا انکار کریں تو امامت خاص سے جاتی ہے اور اگر امامت کے عقیدے پر قائم رہے تو قرآن سے ایمان جاتا ہے مگر کوئی ایک فرد بھی زیادہ دیر تک کسی ایک کشمکش میں رہنا پسند نہیں کرتا تو ایک جماعت سے یہ کیوں کر توقع ہو سکتی ہے کہ مسلسل گومگو کی حالت میں رہے اخر شیعہ نے فیصلہ کر لیا کہ امامت سے چمٹے رہو قرآن کا اقرار کرنا پڑتا ہے تو ہماری بلا سے۔

اقرار ششم

تحریف قرآن عادت اور عقل کے عین مطابق ہے۔

فصل الخطاب ص72

ان كيفية حمد القرآن و تالیفہ استاز ستر سادتي لوقوع التعبير و التحريف فيه وقد أشار إلى ذلك العلامة المجلسي في مرأة العقول حيث قال والعقل يحكم بانه اذا كان القرآن سفرقا منتشرا عند الناس وتصدى غير المعصوم الجمعہ يمتنع عادة ان يكون كاملا موافقا للواقع

قرآن کی تالیف اور جمع کرنے کی کیفیت سے عادتاً یہ لازم آتا ہے کہ قرآن میں تغیر و تبدل واقعہ ہو۔علامہ مجلسی نے اپنی کتاب مراۃ العقول میں اس تحریف کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ عقل کا فیصلہ یہ ہے کہ جب قرآن کریم لوگوں کے پاس متفرق اور بکھرا ہوا تھا اور غیر معصوم اس کے جمع کرنے کے در پہ ہوئے تو یہ امر ادتا محال ہے کہ قرآن کامل واقعہ کے مطابق جمع ہوا ہے۔

2مرأة العقول شرح السول. ل شرح السول - علامہ باقر مجلسی 171:1

والعقل يحكم بانه اذا كان القرآن متفرقا من شرا عند الناس و تصدى غير المعصو م الجمعه بيبنع عادة ان يكون كاملا موافقا للواقع .

ترجمہ اوپر میں دیکھیے۔

صفحہ 2 از 3