جس کا عقیدہ یہ ہو کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے اسلام کی تکمیل ہوئی ،ایسے شخص سے تعلقات قائم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
سوال: ایک سنی المذہب نے ایک ایسی مجلس میں جس میں شیعوں کے خواص و عوام شریک و سامع تھے اپنی تقریر کے دوران نہایت شدومد کے ساتھ کہا کہ سیدنا حسینؓ کی شہادت سے اسلام کی تکمیل ہوئی ورنہ اسلام غیر مکمل رہتا اور یہ بھی کہا کہ جو مسلمان واقعی شہادت سیدنا حسینؓ پر نہ روئے وہ ازلی شقی ہے تقریر کے بعد اس کو سمجھایا تب بھی اس نے کہا کہ میرا عقیدہ یہی ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس شخص کا کیا حکم ہے؟ اور اگر وہ علمائے اسلام کے فتویٰ کی پرواہ نہ کرے تو ایسے حنفی المذہب اہلِ سنت والجماعت مسلمانوں کو تعلقات قائم رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب: زید کا یہ عقیدہ اہلِ حق کے سراسر خلاف ہے ایسے شخص کو توبہ و تجدید ایمان و نکاح کر لینا چاہیے ۔کیونکہ یہ عقائد روافض کے ہیں۔اگر علمائے حق کے فتویٰ کو نہیں مانتا تو یہ گنہگار ہے اور اس کی توہین و تکفیر کرنا ہے تو کفر ہے اور ایسے لوگوں سے تعلقات رکھنا درست نہیں۔
(جامع الفتاویٰ: جلد، 2 صفحہ، 119)