سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی عاتکہ اور کستوری
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بحرین سے کستوری اور عنبر آیا، حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم میری تمنا ہے کہ بہترین وزن کرنے والی کوئی عورت اگر مل جاتی تو اس خوشبو کو تول دیتی اور میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دیتا آپ کی بیوی عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیلؓ نے کہا: میں بہت اچھا وزن کر لیتی ہوں لاؤ میں وزن کر دیتی ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیوں؟ آپؓ نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم ہاتھ میں لگی ہوئی خوشبو کو سر اور گردن پر نہ لگا لو اور میں اس طرح دیگر مسلمانوں سے زیادہ حصہ پا جاؤں۔
(الزہد: امام أحمد بن حنبل: صفحہ 11، بحوالہ التاریخ الإسلامی: جلد 19 صفحہ 30)
یہ ہے امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ کے ورع و تقویٰ اور دینی امور میں سخت احتیاط کی روشن مثال کہ اپنی بیوی کو خوشبو تقسیم کرنے کی ذمہ داری محض اس لیے نہیں دی کہ کہیں ہاتھ میں لگی ہوئی خوشبو کو وہ گردن پر نہ پھیر لے اور مسلمانوں کا مال ناجائز طور سے اس کے تصرف میں آ جائے، شبہ و احتمال کے باب میں ایسی غایت درجہ کی احتیاط اللہ کے ان نیکوکاروں بندوں ہی میں دیکھنے کو ملتی ہے جو بھلائیوں کی طرف سبقت کرنے والے اور حلال و حرام نیز حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں، جب کہ وہ لوگ جو اپنی ذات کی حفاظت سے غافل رہتے ہیں ان کے یہاں ان باتوں کی قطعاً پروا نہیں ہوتی۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 19 صفحہ 30)