بیوی کو عطا کیے گئے ہدیہ کی مخالفت
علی محمد الصلابیابنِ عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ابو موسیٰ اشعریؓ نے حضرت عمرؓ کی بیوی عاتکہ بنت زیدؓ کو تقریباً ڈیڑھ گز کی چٹائی بطور ہدیہ بھیجی، حضرت عمرؓ نے جب تحفہ ان کے پاس دیکھا تو پوچھا: یہ تم کو کہاں سے ملا ہے؟ انہوں نے کہا: ابو موسیٰ اشعریؓ نے مجھے ہدیہ دیا ہے، حضرت عمرؓ نے وہ چٹائی ہاتھ میں لی اور ان کے سر پر زور سے ماری، یہاں تک کہ ان کا سر چکرا گیا اور کہا: ابو موسیٰ کو میرے پاس لاؤ اور پیدل چلا کر لاؤ۔ چنانچہ وہ لائے گئے، وہ تھک چکے تھے اور کہہ رہے تھے: اے امیر المؤمنین! میرے بارے میں جلدی نہ کیجیے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہماری عورتوں کو تم نے ہدیہ کیوں دیا؟ پھر آپؓ نے چٹائی ان کے سر پر بھی زور سے دے ماری اور کہا: اسے لے جاؤ، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔
(الشیخان أبوبکر وعمر بروایۃ البلاذری: صفحہ 260)
حضرت عمرؓ ملکی معاملات میں عورتوں کو دخل اندازی سے سختی سے منع کرتے تھے، ایک مرتبہ آپؓ اپنے ایک عامل کو معزول کرنے کا فرمان تحریر کر رہے تھے، دورانِ تحریر آپؓ کی بیوی نے دخل اندازی کرتے ہوئے کہا: اے امیر المؤمنین آپ اس عامل پر کیوں اتنا سخت ناراض ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: اے اللہ کی دشمن، تجھے اس سے کیا مطلب؟ تم دل بہلانے کا ایک کھلونا ہو جسے کھیل کر پھر چھوڑ دیا جاتا ہے، اور ایک روایت میں ہے: اپنے تکلے پر چلی جاؤ اور جس چیز کا تم سے تعلق نہیں اس میں دخل اندازی مت کرو۔
(اخبار عمر: صفحہ 293۔ الشیخان بروایۃ البلاذری: صفحہ 188)