Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ملکۂ روم کی طرف سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی ام کلثوم کو ہدیہ

  علی محمد الصلابی

استاد خضری نے اپنی تیار کردہ لکچر بک میں لکھا ہے کہ جب بادشاہ نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور سیدنا عمرؓ کے پاس خط لکھا اور آپؓ کی قربت چاہی تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے قاصدوں کو ڈاک دے کر بادشاہ روم کے پاس بھیجا، اس ڈاک کے ساتھ ام کلثوم بنت علی بن ابی طالبؓ نے ملکۂ روم کو خوشبو، پانی پینے کے برتن اور کچھ زیورات کا ہدیہ بھی دیا، چنانچہ بادشاہ روم نے وہ عطیات اپنی ملکہ کو دے دیے ملکہ روم یعنی قیصر کی بیوی نے اپنی ہم نشین عورتوں کو اکٹھا کیا اور ان سے یہ کہا کہ یہ حاکم عرب کی بیوی اور ان کے نبی کی نواسی کا ہدیہ ہے، انہیں ہدیہ دکھایا، پھر اس نے بھی ام کلثوم کو ایک خط لکھا اور قیمتی ہار بطور ہدیہ بھیجا، جب وہ قاصد بادشاہ روم کی ڈاک لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آیا تو آپؓ نے ہدیہ روک لینے کا حکم دیا اور ’’اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ‘‘ کی ندا لگوائی۔ چنانچہ لوگ اکٹھے ہوئے، آپ نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی اور کہا: جو کام بغیر مشورہ کے کیا جائے اس میں بھلائی نہیں ہے۔ آپ لوگ بتائیں کہ ام کلثوم نے ملکہ روم کو جو ہدیہ دیا تھا اس کے بدلے اسے ہدیہ آیا ہے اس سلسلہ میں میں کیا کروں؟ کچھ لوگوں نے کہا: یہ ام کلثوم کا حق ہے، کیونکہ ان کے ہدیہ کے بدلے ملکہ کی طرف سے ہدیہ آیا ہے، اس کے لیے جائز تھا، ملکہ روم کوئی ذمی عورت نہیں ہے کہ ہدیہ بھیج کر آپؓ سے کچھ کرانا چاہتی ہو اور نہ آپؓ کی مملوکہ ہے کہ وہ آپؓ کو خوش رکھنا چاہتی ہو، لہٰذا اسے لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے، اور کچھ لوگوں نے کہا: ہم بھی کپڑے ہدیہ میں دیتے تھے تاکہ بدلہ میں ہمیں کچھ کپڑا مل جائے، پھر اسے ہم بازار میں فروخت کریں اور کچھ کما لیں۔ آپؓ نے فرمایا: ٹھیک ہے، لیکن یہاں قاصد تو تمام مسلمانوں کا تھا اور خاص انہی کی ڈاک لے کر گیا تھا، لہٰذا وہ اسے ناپسند کریں گے۔ چنانچہ آپؓ نے وہ ہدیہ بیت المال میں جمع کرنے کا حکم دیا اور ام کلثوم کو ان کی خرچ کی ہوئی رقم کا عوض دے دیا۔ 

(الخلفاء الراشدون: دیکھئے عبدالوہاب نجار: صفحہ 245)