غیر مسلم کو زکوٰۃ دینے کا حکم
سوال: ہمارا ایک پڑوسی ہندؤ آدمی ہے، فی الحال وہ بیمار ہے، ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اس کا ایک گردہ خراب ہو گیا، اب وہ علاج کے لئے مدراس جانا چاہتا ہے، تقریباً دو لاکھ روپیوں کی ضرورت ہے، لوگوں سے مانگ کر وہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا انتظام کر چکا ہے۔ علاقے کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں اسے بقیہ 50 ہزار روپے کا انتظام کر دوں۔ واضح رہے کہ میرے ذمے میں ایک لاکھ زکوٰۃ کی رقم واجب ہے، میں چاہتا ہوں کہ ان میں سے 50 ہزار اس کے علاج کے لئے دے دوں۔ اب سوال یہ ہے کہ اسے زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہو گا یا نہیں؟
جواب: زکوٰۃ کے پیسے کسی کافر کو دینا درست نہیں، مسلمان فقیر (مستحقِ زکوٰۃ) کو دینا ضروری ہے، ورنہ زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ البتہ دیگر صدقہ واجبہ نذر و نیاز، کفارہ نفل، صدقہ و خیرات وغیرہ دینا جائز ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اسے زکوٰۃ کی رقم دینا درست نہیں ہو گا اور دینے سے ادا نہیں ہو گی۔
(جواہر الفتاویٰ: جلد، 4 صفحہ، 336)