مقدمین علمائے شیعہ اور عقیدہ تحریفِ قرآن - ردِ رافضیت |…

مقدمین علمائے شیعہ اور عقیدہ تحریفِ قرآن

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 3

گنہگار بندہ حسین بن محمد تقی النوری الطبرسی۔اللّٰہ تعالٰی اسے اپنے دروازے پر کھڑا ہونے والوں میں کرے اور اپنی کتاب سے تمسک کرنے والوں سے بنائے کہتا ہے کہ یہ کتاب بڑی لطیف اور گراں قدر ہے میں نے اس میں تحریف قرآن کا مسئلہ اور ظالموں کی برائیاں بیان کی ہیں۔اور اس کا نام رکھا ہے فصل الخطاب فی تحریف کتاب رب الارباب میں نے اس میں تین مقدمات اور دو باب رکھے ہیں اور میں نے اس کتاب میں عجیب حکمتیں بیان کی ہیں جنہیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور میں خدا سے امید کرتا ہوں اس کی رحمت کی جس کے گنہگار لوگ منتظر ہیں کہ یہ کتاب مجھے قیامت کے دن نفع دے گی جس روز مال اور اولاد کچھ نفع نہ دیں گے۔

علامہ نوری طبرسی نے عقیدہ تحریف قرآن کی اہمیت واضح کر دی کہ یہ عقیدہ رکھنا ھی شیعہ کی نجات کے لیے کافی ہے۔بھلا کس کا دل گردہ ہے کہ قرآن پر ایمان لا کر نجات خروی سے دستبردار ہو جائے۔خلفائے ثلاثہ کے جو رد ظلم کے عقیدے سے تو عقیدہ تحریف قرآن میں اور جلا آجاتی ہے۔لہذا علامہ نوری نے اپنی نجات کو یقینی بنانے کے لیے تحریف کتاب رب الارباب کے ساتھ ساتھ ضمنی طور پر صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ بالخصوص اصحابہِ ثلاثہ رضی اللّٰہ عنھم کو بھی ثواب پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

علامہ نوری طبرسی پر ہی موقوف نہیں شیعہ علماء کے نزدیک تحریف قرآن کا عقیدہ تو دراصل شیعہ مذہب کی بنیاد ہے۔علامہ نوری نے مقدمین شیعہ علماء کے نام لکھے ہیں۔ اب مقدمین اور متاخرین علمائے شیعہ میں سے چند اور چوٹی کے خضرات کے نام دیے جاتے ہیں۔

تفسیر مراۃ الانوار شیعہ محدث عظیم ابو الحسن شریف ص 49 فصل رابع

اعلم ان الذي يظهر من ثقة الاسلام محمد بن يعقوب الكلينی طاب ثراه انه كأن يعتقد التحريف والنقصان فی القرآن لانه مرواى روایات كثيرة فی هذا المعنى فی كتاب الكافی الذی صرح فی اوله بانه كان يثق فيما رواه فيه ولم يتعرض لقدح فيها ولا ذكر معارضاً لها و كذلك شيخه على بن ابراهيم التی فأن تفسیرہ مملوئة وله غلو فيه ووافق القی والكلينی جماعة من اصحابنا المفسرين کالعیاشی و النعمانى وفرات بن ابراهیم وغير هم وهو مذهب اكثر متتى محدثى المتاخرين وقول الشيخ الاجل احمد بن ابى طالب الطبرسى نما ينادى كتابه الاحتجاج و نصرة شيخنا العلامة باقر لوم اهل البيت و خادم اخبار هم فى کتابہ بحار الانوار وبسط الكلام فيه بما لا مزید عليه وعندى فى وضوح هذا القول بعد تتبع الاخبار و تفحص الاثار بحيث يمكن الحكم يكون من ضروریات مذهب التشيع دانہ اکبر مفاسد غصب الخلافته فتد برحتی تعلم توهم الصدوق حيث قال فى اعتقاداته . الخ

خوب جان لو کہ جو چیز ثقتہ الاسلام محمد بن یعقوب الکلینی کے متعلق ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ وہ تحریف قرآن اور قرآن میں کمی کا عقیدہ رکھتا تھا۔کیونکہ شیخ نے اس سلسلے میں بہت سی روایات اپنی کتاب کافی میں درج کی ہیں اور انہوں نے اپنی کتاب کے شروع میں لکھ دیا ہے کہ جتنی روایتیں اس کتاب کافی میں ہیں ان پر مجھے یقین اور وثوق ہے کہ سب صحیح ہیں۔اور شیخ نے ان روایات پر کوئی جرح اور تنقید نہیں کی۔ اس طرح کلینی کہ استاد علی بن ابراہیم قمی بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے ان کی تفسیر روایات تحریف قرآن سے پُر ہے ۔اور ان کو اس مسئلہ پر بڑا غلو تھا اس مسئلہ پر شیعہ مفسرین کی جماعت نے اتفاق کیا ہے مثلا مفسر عیاشی نعمانی اور فرات بن ابراہیم وغیرہ۔اور اکثر محدثین، محققین، متاخرین شیعہ وغیرہ کا یہی مذہب ہے اور شیخ اجمل احمد طبرسی کا بھی یہی فرمان ہے جیسا کہ ان کی کتاب احتجاج طبرسی عقیدہ ہے کہ اعلان کرتی ہے اور باقر مجلسی جواہل بیت کے علوم کا خزانہ اور ان کی روایات کا خادم ہے اس نے بھی اپنی کتاب بخار الانوار میں اس مسئلہ کے متعلق وسط سے بحث کی ہے۔ تحریف قرآن کے مسئلہ پر اس سے زیادہ بحث کرنا ممکن نہیں۔ میرے نزدیک روایات کی پیروی کرنے اور آثار کی پڑتال کرنے کے بعد تحریف قرآن کا قول واضح ہے۔اس پرحکم کرنا ممکن ہے کہ مسئلہ تحریف قرآن ضروریات مذہب شیعہ ہے اور سب سے بڑا فساد غصب خلافت کا ہے۔اس پر غور کرو تاکہ تم پر شیخ صدوق کا وہم عدم تحریف قران واضح ہو جائے جو انہوں نے رسالہ اعتقادیہ میں لکھا ہے۔

یہ کتاب پوری تفسیر قران نہیں بلکہ صرف سورہ بقرہ کے نصف تک ہے مگر یہ تفسیر اس قدر بلند پایا ہے کہ علامہ نوری طبرسی اپنی کتاب فضل الخطاب ص31 میں لکھتے ہیں:

الشيخ ابى الحسن الشريف جد شیخنا صاحب الجواهر وجعله فی تفسيره المسمى بمراة الانوار من ضروريات مذهب التشيع

شیخ ابو الحسن الشریف ہمارے شیخ صاحب الجواہر کا دادا ہے۔ اس نے مسئلہ تحریف قرآن کو اپنی تفسیر مرۃ الانوار میں ضروریات مذہب شیعہ کے طور پر ذکر کیا ہے۔

مختصر یہ ہے کہ اس "عظیم" مفسر نے بڑی تحقیق کی ہے اور اس کا حاصل تحقیق یہ ہے کہ

1_ مسئلہ تحریف قرآن میں اکابر شیعہ مفسرین متفق ہیں۔

2_ تمام محدثین جو محقق ہیں مقدمین میں سے ہوں یا متاخرین میں سے اس مسئلہ پر متفق ہیں۔

3_ مثال کے طور پر جو نام شیخ نے ذکر کیے ہیں۔ شیعہ مذہب میں بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

4_مسئلہ تحریف قرآن شیعہ مذہب کے ضروریات دین سے ہے یعنی جو شخص تحریف قرآن کا قائل نہیں اور قرآن کو صحیح اور کامل سمجھتا ہے وہ شیعہ مذہب سے خارج ہے۔

یہ آخری شق بڑی فیصلہ کن اور مابہ الامتیاز ہے یعنی مذہب اسلام کا فیصلہ ہے کہ جو شخص قرآن کریم کو اللّٰہ تعالٰی کی صحیح اور کامل کتاب نہ سمجھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور مذہب شیعہ کا فیصلہ ہے جو شخص تحریف قرآن کا عقیدہ نہ رکھے یعنی جو شخص موجودہ قرآن کو تحریف شدہ بدلہ ہوا نہ سمجھے وہ مذہب شیعہ سے خارج ہے۔واقعی یہ مقام بڑا نازک ہے تحریف قرآن کا مسئلہ ایسی حد فاصل ہے۔کہ تحریف قرآن کا عقیدہ رکھو تو اسلام سے خارج اور یہ عقیدہ نہ رکھو تو مذہب شیعہ سے خارج۔ انسان کو فیصلہ کی آزادی ہے جو پہلو چاہے اختیار کر لے آخر آزادی رائے انسان کا پیدائشی حق جو ہوا۔

شیعہ محدث سید نعمت اللّٰہ الجزائری کا ذکر ہو چکا کہ آپ نے اپنی کتاب انوار النعمانیہ2 .484 پر یہی فیصلہ دیا ہے.

صفحہ 2 از 3