مقدمین علمائے شیعہ اور عقیدہ تحریفِ قرآن - ردِ رافضیت |…

مقدمین علمائے شیعہ اور عقیدہ تحریفِ قرآن

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 3 از 3

الوارد فى الكتاب والسنة المتواترة بحيث صارمن الضروريات الدينية يكفر منكرها اجماعاً ووفاقاً

جو مسئلہ قرآن میں یا حدیث متواتر میں آجائے وہ ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین کا منکر اجماعاً اتفاقاً کافر ہے۔

ہم نے تحریف قرآن کے منکر کے لیے شیعہ مذہب سے خارج کی ترکیب استعمال کی تھی۔ مگر شیعہ محدث الجزائری نے تو کوئی ابہام نہیں رہنے دیا اور بات دو ٹوک کر دی کہ تحریف قرآن کا منکر کافر ہے ۔ اب تو تقیہ کی ڈھال بھی کوئی کار آمد نظر نہیں آتی یعنی اگر کوئی شیعہ بزرگ کسی مصلحت کے تحت یہ باور کرانے کی کوشش کرے کہ کہ ہم تحریف قرآن کے قائل نہیں ہیں تو اسے اعلان کرنا پڑے گا کہ شیعہ علما ازاول تا آخر سب کافر تھے۔ کیونکہ وہ سب تحریف قرآن کا عقیدہ اپناتے رہے بلکہ اس عقیدہ کو ضروریات دین میں شامل کرتے رہے لہذا اس جھوٹی رواداری اور تصنع سے کوئی فائدہ نہیں۔ اپنے دین کی ضروریات کی حفاظت کیجئے اور تحریف قرآن کے عقیدے پر قائم رہئے ورنہ آپ کے سارے شیوخ اور ثقتہ الاسلام اور مفسرین محدثین آپ کے نزدیک کافر قرار پائیں گے۔

اس امر کی نزاکت کااحساس نہ کرتے ہوئے چار شیعہ علماء نے نہ جانے کس بنا پر عدم تحریف قرآن کے متعلق لب کشائی کی۔ ظاہر ہے کہ متقدمین اور متاخرین شیعہ مفسرین، محدثین، محققین جب دہائی دے رہے ہیں کہ قرآن بدل گیا، قرآن کم ہو گیا۔ قرآن میں من مانے اضافے ہوگئے قرآن کے مضامین آگے پیچھے کر دیئے گئے تو ان کے مقابلے میں چار آدمیوں کی زیر لب گفتگو کی مثال وہی ہے کہ نقارخانے میں طوطی کی آواز ہے تو کون اس آواز پر کان دھرے پھر بھی ان کی خوب " تواضع" کی گئی۔ علامہ طبرسی نے فصل الخطاب ص25 پر شیخ صدوق کی بات کو مبنی بر وہم قرار دیتے ہوئے ایک طویل فہرست ان علماء کی دی ہے جو شیعہ مذہب کے ستون ہیں اور وہ سب تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں۔


صفحہ 3 از 3