Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تم چاہتے ہو کہ ایک خائن حاکم کی شکل میں اللہ سے ملوں

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے داماد آئے، اور آپؓ سے بیت المال سے کچھ مال کا مطالبہ کیا، حضرت عمرؓ نے ان کو ڈانٹا اور کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ سے ملوں تو ایک خائن حاکم بن کر ملوں اور اس کے بعد آپؓ نے اپنی مخصوص رقم سے دس ہزار درہم ان کو دیے۔ 

(تاریخ الإسلام: ذہبی: صفحہ271) 

یہ ہیں فاروقیؓ زندگی کے اعلیٰ کردار کی چند مثالیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عوام و رعایا کے مال سے کس قدر بے نیاز تھے اور اپنے رشتہ داروں نیز گھر والوں کو اپنی حکومت و منصب کے حوالے سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانے سے کس قدر سختی سے منع کرتے تھے، اللہ کا مال حکام و امراء ہی کی صوابدید پر قائم رہتا ہے۔ اور ایک بات فطری اصولوں میں سے ہے نیز مشاہدات و واقعات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں، وہ یہ کہ جب حاکم وقت ملکی خزانے میں دست درازی کرنے لگتا ہے تو عوام میں خیانت اور چوری عام ہونے لگتی ہے، بیت المال یا ملکی خزانے یہاں تک کہ دیگر ترقیاتی اداروں میں بدنظمی پیدا ہو جاتی ہے۔ چھپ چھپ کر خیانت کرنے والا کھلے عام خیانت کرنے لگتا ہے، گویا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، جب کہ فطری عدل و انصاف کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر انسان قناعت شعار ہو، دوسروں کے مال پر للچائی نگاہ نہ رکھتا ہو، عوام کے حقوق کی پوری رعایت کرتا ہو، تو لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اس کے ساتھ رہنے کی خواہش کرتے ہیں، خاص طور سے اگر مذکورہ اوصاف کسی حاکم میں ہوں تو عوام اس کے حق میں مہربان اور اطاعت گزار ہوتی ہے، اور اس کی نگاہوں میں اپنے سے زیادہ حاکم وقت معزز ہوتا ہے۔ 

(الخلفاء الرشدون: ذہبی: صفحہ 271 )

آپؓ کی عائلی و معاشرتی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد منصب خلافت کے باب میں نقوشِ فاروقیؓ میں جو چیز سب سے اہم شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپؓ اپنی ذاتی اور عوامی زندگی میں خیر و بھلائی کا کامل نمونہ تھے، یہاں تک کہ آپؓ کی زندگی سے متاثر ہو کر علی بن ابی طالبؓ نے کہا: ’’تو پاک دامن رہا اس لیے تیری رعایا بھی پاک دامن رہی، اگر تو حکومت کا مال کھاتا تو رعایا بھی کھاتی۔‘‘ آپؓ جس بات کا دوسروں کو حکم دیتے تھے اس سلسلہ میں اپنے حکام و اعمال کی نگرانی سے کہیں زیادہ نگرانی اپنی اور اپنے گھر والوں کی کرتے تھے، اور سب سے پہلے اسے اپنے اوپر نافذ کرتے تھے۔ چنانچہ لوگوں کے دلوں میں آپؓ کا رعب پیدا کرنے اور ہر خاص و عام کی طرف سے آپؓ کی تصدیق کرنے میں مذکورہ کردار کا زبردست اثر تھا۔ 

(القیادۃ والتغییر: صفحہ 182)

یہ ہیں خلیفہ راشد عمر بن خطابؓ، جو دینِ اسلام کی اعلیٰ ترین چوٹی پر فائز تھے اسلام نے آپؓ کی تربیت کی تھی، ایمان باللہ نے آپؓ کے دل کو محبت الہٰی سے بھر دیا تھا وہ بڑا گہرا ایمان تھا، اس سے آئندہ نسلوں کے لیے ایمانی نمونہ تیار ہوا اور آج بھی اللہ پر کامل ایمان اور اسلامی اصولوں پر زندگی کی تربیت حاکم وقت کو تعجب خیز نمونہ عمل کے مقام پر فائز کرنے کا سبب بن سکتی ہے، ایسا حیران کن نمونہ جو آج سے قیامت تک کے لیے بطورِ یاد گار باقی رہے گا۔ 

(فن الحکم: صفحہ 74 )