قرآن کریم میں کمی کی چند روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قرآن کریم میں کمی کی چند روایات

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 3

ظاہر ہے کہ موجودہ قرآن میں لم یکن الذی میں کسی قریشی کا نام نہیں کمی تو ہو گئی مگر اس روایت سے ایک بات اور بھی معلوم ہوئی کہ شیعہ کا اپنے آئمہ کی محبت اور اطاعت میں اتنا بلند مقام تھا۔ امام نے جس کام سے منع کیا شیعہ نے وہ کام ضرور کیا اور ایسا کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کی جس سے یہ ظاہر ہوا کہ امام کی مخالفت کرنا شیعہ کا اصل دین ہے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ جبھی تو اپنے شیعوں کا امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کے آدمیوں کے ساتھ اس شرح پر مارچہ کرنا چاہتے تھے کہ میرے دس شیعہ لے لو اپنا ایک آدمی مجھے دے دو شیعہ نے پہلے امام کے ساتھ جو سلوک کیا اخیر تک اسی پر قائم رہے ۔

(21)اسی کتاب میں ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے ابن نبات کے جواب میں فرمایا:

محى منه سبعون من قريش باسمائهم واسماء ابائهم وما ترك ابو لهب الازراء على رسول اللّٰه لانه عمه .

موجودہ قرآن میں ستر قریش کے نام معہ ان کے آباؤ کے نام کم کر دیئے گئے ہیں۔ ابولہب کا نام صرف نبی کریمﷺ کو ایذا دینے کے لیے چھوڑ دیا لگیا۔ کیونکہ وہ آپ کا چچا تھا۔

22ایضاً ص 27

وسیعلمون الذين ظلموا الآية و امثالها من الايات الكثيرة سوى ما ورد في التقديم والتأخير و اسقاط خصوصاً اسم على واسماء أعدائه من الاخبار المتواترة التي تأتي في مواضعها۔

وسیعلم الذین الخ یہ آیت اور اس قسم کی کثیر آیات سوائے اس تحریف کے جو قرآنی آیات اور سورتوں کی تقدیم تاخیر کے سلسلے میں ہوئی اور قرآن سے کمی کرنے خصوصا حضرت علی

رضی اللّٰہ عنہ کا نام اور ان کے دشمنوں کے ناموں کا روایات متواترہ میں ذکر ہے جو اپنے موقع پر بیان ہوں گی۔

کمی کا ذکر گو مبہم ہے مگر اتنی بات واضح ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے دشمنوں کے نام قرآن سے خارج کئے گئے جو موجودہ قرآن میں نہیں ملتے۔

دوسری بات اس روایت سے یہ معلوم ہوتی ہے قرآن کی قمی کی روایات متواتر ہیں اور متواترہ کا انکار کفر ہے لہذا تحریف قرآن کا انکار بھی کفر ہے ۔

(23)انا انزلناه في ليلة القدر

کی تفسیر کے تحت فصل الخطاب تفسیر قمی تفسیر البرہان تفسیر صافی، اور کتاب السیاری میں ہے :

تنزل الملئكة والروح فيها باذن ربهم من عندار بهم على اوصياء محمد بكل امر

اس رات جبرائیل ما دیگر فرشتوں کے اس رات ہر امر کے ساتھ اماموں پر نازل ہوتے ہیں۔

اور اسی آیت کے تحت تاویل الایات الباهرة في العترة الطاهرة عن ابى عبد اللّٰه قال تنزل الملئكة والروح فيها باذن ربهم من عند ربهم على محمد وآل محمد بكل امر سلام۔

شیخ کامل شرف الدین نجفی لکھتے ہیں مگر موجودہ قرآن میں من عند ربهم على محمد وال محمد موجود نہیں ہے۔

سورۃ قدر کی تفسیر قرآن میں کمی کے سلسلے میں بیان کی گئی ہے مگر تفسیر کے ضمن میں شیعہ کا ایک اور عقیدہ بھی بیان کر دینا بے موقع نہیں ہو گا۔

شیعہ کا عقیدہ ہے ہر سال لیلۃ القدر میں امام پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور نئے احکام لاتے ہیں۔ اس سے امامت کی عظمت تو واقعی ثابت ہوگئی مگر عقیدہ ختم نبوت کا انکار بھی ثابت ہو گیا۔ جب وحی کا سلسلہ جاری ہے تو نبوت بھی جاری ہے۔ پھر ختم نبوت کا عقیدہ کہاں باقی رہا ۔ اس حقیقت کو شیعہ مفسرین نے اپنے اپنے رنگ میں بیان کیا ہے ۔

تفسیر قمی 2-431 تفسیر البرهان 4۔488

1-قال تنزل الملائكة وروح القدس على امام الزمان ويدفعون ... اليه ما قد كتبوه من هذه الأمور من کل امر سلام قال تحية يحيى بها الامام إلى الفجر قيل لابي جعفر تعرفون ليلة القدر فقال وكيف لا تعرف ليلة القدر و الملكة يطوفون بنا فيها۔

ملائکہ اور جبرائیل امام زمان پر نازل ہوتے ہیں۔اور وہ دفتر جو فرشتوں نے لکھے ہوتے ہیں امام کو دے دیتے ہیں وہ تمام امور کے متعلق ہوتا ہے تحتیہ سے مراد سلام ہدیہ تحفہ ہے جو فجر تک یہ سلسلہ رہتا ہے امام باقر سے پوچھا گیا کیا آپ لیلۃ القدر کو پہچانتے ہیں فرمایا ہم کیسے نہ پہچانے حالانکہ فرشتے ہمارا طواف کرتے ہیں لیلۃ القدر میں۔

اور تفسیر البرہان میں تو ایک درجہ ترقی کر کے ایک اور بات کی گئی ہے 4۔484

2. تنزل الملائكة والروح فيها إلى الاوصياء یاتونهم بامر لم یکن رسول اللّٰه قد علمه .

اس رات جبرائیل اور صیا یعنی اماموں کی طرف نازل ہوتے ہیں اور اماموں کے پاس وہ امور لاتے ہیں جو رسول کریمﷺ بھی نہ جانتے تھے۔

لیجئے ختم نبوت کا انکار تو بجائے خود رہا خاتم النبیین بھی اماموں سے پیچھے رہ گئے اس تفسیری نکتہ کی وضاحت میں شیعہ مولوی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضورﷺ کو ان امور کا علم نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ کو علم تو تھا مگر ان امور کی تعلیم کسی کو نہ تھی۔

خوب یہ تو عذر گناه بد ترین گناہ والی بات ہوئی سوال یہ ہے کہ حضورﷺ نے تعلیم کیوں نہ دی کیا پیغمبر کی ڈیوٹی میں ہے کہ دین کو چھپائے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دے۔

پھر سوال یہ ہے کہ ان امور کے نہ بتانے کا کام نبی کریم ﷺ نے اللّٰہ کے حکم کے تحت کیا تھا یا اپنی مرضی سے اگر اللّٰہ کے حکم سے کیاتھا تو مقصد نبوت فوت ہوتا ہے اور اگر اپنی مرضی سے کیا تھا تو معاذ اللّٰہ کتمان دین خیانت اور اللّٰہ کی نافرمانی لازم آتی ہے۔ کیا کوئی مسلمان نبی کریمﷺ کے متعلق اس صورت کا تصور بھی کر سکتا ہے ۔

پھر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہر سال نئے احکام جو آتے ہیں تو وہ سابقہ احکام سے زائد ہوتے ہیں یا سابقہ احکام کو منسوخ کر کے ان کا بدل ہوتے ہیں دونوں صورتوں میں یہ لازم آیا کہ ہر سال شریعت بدلتی رہتی ہے اور امام کو علم نہیں ہوتا کہ آئندہ سال کیا کیا تبدیلیاں ہونے والی ہیں گویا ختم بوت کا عقیدہ بھی گیا اور امام کا علم ماکان ومایکون کا عقیدہ بھی پادر ہوا ہوگیا۔

3 تفسیر البرہان 4۔483

انه لينزل في ليلة القدر إلى ولى الامر تفسير الأمور سنت سنة يوم فیها فی امر نفسه بكذا وکذا ركن اوفی الناس بكذا وكذا وانه ليحدث لولي الامرسوى ذلك كل يوم من علم اللّٰه عز ذكره الخاص المكنون العجيب المخزون مثل ما ينزل في تلك الليلة من الامرياتي بالامر من اللّٰه تعالى في ليالي القدر إلى النبي والى الاوصياء افعل كذا و كذا .

صفحہ 2 از 3