قرآن کریم میں کمی کی چند روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قرآن کریم میں کمی کی چند روایات

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 3 از 3

لیلۃ القدر میں ولی الامر یعنی امام پر ایک ایک سال کے امور کی تفسیر نازل ہوتی ہے اسی تفسیر میں امام کی ذات کے لیے احکام ہوتے ہیں کہ یوں کر اور لوگوں کے لیے بھی احکام ہوتے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ شب قدر کی طرح ہر روز امام پر پوشیدہ علم کے عجیب خزانے نازل ہوتے ہیں قدر کی راتوں میں نبی کی طرف اور اماموں کی طرف ملائکہ اللّٰہ کی طرف سے حکم لاتے ہیں کہ ایسا ایسا کرو۔

یہ سابقہ تحریر کی تائید ہے صرف اس میں سنتہ سنتہ کی تفصیل ہے کہ یہ نزول امر سال سال کے عرصے کے لیے ہوتا ہے۔

25- تفسیر عیاشی ج1۔194

انما هي قراءة على وهو التنزيل الذي نزل به جبريل على محمد عليها الصلوة والسلام و الا وانتم مسلمون الرسول اللّٰه تم الامام من بعده .

یعنی آیت الا و انتم مسلمون کے ساتھ لرسول اللّٰہ ثم الامام من بعدہ کا ٹکڑا بھی حضرت علی کے قرآن میں تھا جو موجودہ قرآن میں نہیں ہے۔

25- تفسیر عیاشی 1 : 196

لقد نصركم اللّٰه بيدار وانتم اذلة فقال ( امام جعفر) وليس هكذا انزلها اللٌٰه انما نزلت وانتم قليل

26 - تفسیر عیاشی 1۔247

امام جعفر نے فرمایا کہ اصل قرآن میں قلیل کا لفظ تھا موجودہ قران میں اس کی جگہ لفظ اذلہ اپنے پاس سے لگا دیا گیا۔

يا ايها الذين امنوا اطيعوا اللّٰه وأطيعوا الرسول و اولی الامر منكم فان خفتم تنازعا في الامر فارجعوا إلى اللّٰه والى الرسول وأولى الامر منکم ھکذا نزلت

موجودہ قرآن میں ہے یہ آیت یوں ہے یايها الذين امنوا اطيعوا اللّٰه وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم فأن تنازعتم في شیئ فردوه إلى اللّٰه والى الرسول گویا کمی بھی کی گئی اور لفظ بھی بدل دیے گئے۔

یه حصہ فارجعو الى اللّٰه والى الرسول و اولی الامر منکم ۔ کا تکلف اس لیے کیا گیا کہ اماموں کی امامت ثابت ہو جائے کیونکہ موجودہ قرآن میں تو ایسی امامت کا کہیں نشان تک نہیں ملتا اور شیعہ مذہب کا مدار ہی عقیدہ امامت پر ہے اس عقیدہ کی حفاظت کے لیے ہی عقیدہ تحریف قرآن وضع کیا گیا اور اسے ضروریات دین میں شامل کیا گیا۔ اور تقابل کے وقت بھی یہی کہا گیا کہ اگر ہم تحریف قرآن کا عقیدہ نہ رکھیں تو عقیدہ امامت سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔

قرآن میں جو تھوڑی تھوڑی کمی کی گئی اس کے تذکرہ میں سے یہ چند مثالیں بطور نمونہ پیش کی ہیں۔

اب تھوک کمی کی روایات کا ایک آدھ نمونہ ملاحظہ ہو۔

فصل الخطاب ص 338 اور اصول کافی باب النوادر

1-ان القرآن الذي جاء به جبريل إلى النبي ﷺ سبعة عشر الف اية وفي رواية سليم ثمانية عشر الف اية.

جو قرآن جبرائیل امین نبی کریم ﷺپر لائے تھے وہ ستر ہزار آیت کا تھا اور سلیم بن قیس کی روایت ہے کہ 18 ہزار آیت کا تھا۔

صاف ظاہر ہے کہ تقریبا دو تہائی کم ہو گیا ایک تہائی رہ گیا اس حساب سے شیعہ کا قرآن تو 90 پاروں کا بنتا ہے 40 پاروں والی بات یوں ہی مشہور کر دی گئی ہے جو کھلی نا انصافی ہے۔

2۔احتجاج طبری ص129

وام ظهورك على تناكر قوله فان حفتم الاتقسطوا فی اليتمى فانكحوا ما طاب لكم من النساء الخوليس ليشبه القسط في اليتامى نكاح النساء ولاكل النساء ايتا ما فهو مما قدمت ذكره من اسقاط المنافقين من القرآن و بین القول في اليتامى وبين نكاح النساء من الخطاب والقصص اكثر من ثلث القرآن وهذا و ما اشبه مما ظهرت حوادث المنافقين فيه لاهل النظر والتأمل ووجد المطلون واهل الملل المخالفون للاسلام ساغا الى القدح فی القرآن

اور تجھے اللّٰہ کے قول فان خفتم الخ کے پسندیدہ نہ ہونے پر اطلاع ہوئی ہے اور تو کہتا ہے کہ یتیموں کے حق میں انصاف کرنا اور عورتوں سے نکاح کرنا آپس میں کوئی مناسبت نہیں رکھتا اور نہ تمام عورتوں یتیم ہوتی ہیں پس اس کی وجہ یہ ہے جو پہلے تم سے بیان کر چکا ہوں کہ منافقین نے قرآن سے بہت کچھ نکال ڈالا ہے۔ فی الیتامٰی اور فانکحوا کے درمیان بہت سے احکام اور قصے تھے جو تہائی سے بھی کچھ زیادہ حصہ بنتا ہے وہ نکال دیا گیا اس لیے بے ربطی پیدا ہو گئی اس قسم کی منافقوں کی تحریفات کی وجہ سے جو اہل نظر پر ظاہر ہو جاتی ہیں بے دینوں اور اسلام کے دشمنوں کو قرآن پر اعتراض کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

اس روایت کو اگر درست تسلیم کیا جائے تو یہ تسلیم کرنا لازم آتا ہے کہ ائمہ قرآن فہمی سے معذور تھے کیونکہ قرآن کا ایک ادنی طالب علم بھی جانتا ہے کہ ان آیات سے کہیں بے ربطی نہیں بلکہ صاف ظاہر ہے کہ مراد یتیم لڑکیاں ہیں جنہیں ہے سہارا سمجھ کر لوگ ظلم کرتے تھے لہذا حکم ہوا کہ اگر ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو تو معاشرہ میں دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرو تاکہ یتامٰی کے ظلم کا راستہ بند ہو جائے۔

اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ کے 40 پاروں والے قرآن کی روایت کی بنیاد یہی روایت ہے کیونکہ ایک تہائی جو ضائع ہوا وہ 10 پارے ہی بنتے ہیں لہذا پورا قرآن 40 پاروں کا ہی بنا۔ مگر اس بات کو شہرت دینے والوں نے یہ نہ سوچا کہ یہ کمی تو صرف ایک مقام پر کی گئی ہے۔ قرآن کے باقی حصوں میں جو کمی کی گئی ہے اس کا اندازہ تو سلیم بن قیس کی روایت سے ہوتا ہے۔ کہ اصل قرآن 18ہزار آیات کا تھا۔


صفحہ 3 از 3