اہل بیت رضی اللہ عنہم کا احترام و محبت
علی محمد الصلابیبلاشبہ اہل سنت و الجماعت کے نزدیک خاندانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بہت اونچا مقام ہے اور وہ بے حد عزت و احترام کے مستحق ہیں، اہلِ سنت و الجماعت خاندانِ نبوت کے شرعی حقوق کا پورا لحاظ رکھتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ’’غدیر خم‘‘ کے موقع پر زبان نبوی سے نکلی ہوئی اس وصیت پر مکمل عمل کرتے ہیں:
أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ أَہْلِ بَیْتِیْ۔
(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ: حدیث: 2408 )
ترجمہ: ’’میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تم کو اللہ کا واسطہ یاد دلاتا ہوں۔‘‘
پس وہ لوگ اس وصیت پر عمل کرنے کی وجہ سے سب سے زیادہ سعادت مند ہیں ۔ اہلِ سنت و الجماعت اس باب میں روافض کے طرز عمل سے بے زاری کا اعلان کرتے ہیں، جنہوں نے بعض اہلِ بیتؓ کے بارے میں خوب مبالغہ آرائی کی ہے اور خارجیوں کے طرزِ فکر کی سخت مخالفت کرتے ہیں جو صحابہؓ سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں تکلیف دیتے ہیں۔ بہرحال اہل سنت و الجماعت اہل بیتؓ کی محبت کے وجوب اور ان کی ایذا رسانی یا ان کے حق میں کسی قسم کی گستاخی کی حرمت پر متفق ہیں، اس جرم کا ارتکاب قولاً ہو یا عملاً۔
(العقیدۃ فی أہل البیت بین الإفراط والتفریط: صفحہ 59)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے کردار و عمل کی روشنی میں اہلِ بیتؓ سے متعلق اپنی عقیدت و محبت کا اظہار ہمارے سامنے کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں۔