Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی خبر گیری

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ازواجِ مطہراتؓ کے حالات معلوم کیا کرتے تھے اور انہیں عطیات سے نوازتے رہتے تھے، کوئی پھل یا میوہ کھاتے تو اس میں ازواجِ مطہراتؓ کا حصہ ضرور لگاتے اور سب سے آخر میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتے تاکہ اگر کمی ہو تو انہی کے حق میں ہو۔ 

(الزہد: إمام أحمد بن حنبل: صفحہ 166۔ بروایت مالک: اس کی سند صحیح ہے۔)

آپؓ ازواج مطہراتؓ کے پاس عطیات بھی بھیجتے تھے، اسی طرح کا ایک واقعہ امّ المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیش آیا، حضرت عمرؓ نے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا حصہ نکال کر ان کے پاس عطیہ بھیجا، جب اسے لے کر جانے والا سیدہ زینبؓ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ عمر کو بخشے، میری دوسری بہنیں اسے لینے کی مجھ سے زیادہ مستحق تھیں، لے جانے والوں نے کہا: یہ سب آپ کا ہے۔ پھر آپ نے سبحان اللہ کہا اور پردے کی آڑ میں ہو گئیں اور کہا اسے یہیں رکھ دو اور اس پر پردہ ڈال دو۔ پھر سیدہ زینبؓ نے برزہ بنت رافع سے کہا: اس میں ہاتھ ڈال کر مٹھی بھر نکالو اور پھر آپ نے چند قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کا نام لے کر بتایا کہ فلاں فلاں کو دے دو، برزہ نے اسے تقسیم کر دیا، یہاں تک کہ کپڑے کے نیچے تھوڑا سا بچا، برزہ نے کہا: ام المؤمنین! اللہ تعالیٰ آپ کو بخشے، ہمارا بھی اس میں حق تھا، انہوں نے کہا: تمہارا حصہ اس کپڑے کے نیچے ہے، پھر ہم نے کپڑا ہٹایا تو اس کے نیچے ہمیں صرف پچاسی 85 درہم ملے، ام المؤمنین سیدہ زینبؓ نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کیے اور کہا: اے اللہ، اس سال کے بعد ہمیں عمر کا عطیہ تقسیم کرنے کے لیے نہ ملے۔ پھر آپؓ کی وفات ہو گئی اور ازواجِ مطہراتؓ میں سب سے پہلے آپؓ وفات پانے والی تھیں۔ 

(طبقات ابن سعد: ابن سعد: جلد 8 صفحہ 109، یہ خبر سنداً درجہ حسن تک پہنچتی ہے۔ أخبار عمر: صفحہ 100 )

ازواجِ مطہراتؓ کی شان میں فاروقی اکرام و اعزاز کی بابت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ ہمارے پاس ذبیحہ میں سے ہمارا حصہ بھیجتے تھے، حتیٰ کہ سر اور پائے میں سے بھی۔

(طبقات ابن سعد: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 303، یہ خبر سنداً صحیح ہے)

ازواجِ مطہراتؓ نے سیدنا عمرؓ سے حج کرنے کی اجازت مانگی، آپؓ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا، انہوں نے آپؓ سے بہت اصرار کیا، تو آپؓ نے فرمایا: آپ لوگوں کو آئندہ سال اجازت دوں گا اور یہ تنہا میری رائے نہیں ہے، چنانچہ آپ نے اگلے سال انہیں عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کی نگرانی میں حج کے لیے بھیجا اور دونوں کو حکم دیا کہ ایک ازواجِ مطہرات کے آگے اور ایک ان کے پیچھے رہے، ان کے ساتھ ساتھ کوئی نہ چلے۔ پھر جب یہ مکہ پہنچ جائیں تو باب شعب ابی طالب کی جانب سے حرم میں لے جانا، تم دونوں دروازے پر رہنا، کوئی دوسرا ان کے پاس ہرگز نہ جا سکے اور جب وہ طواف کریں تو ان کے ساتھ صرف عورتیں طواف کریں۔ 

(الإدارۃ فی عہد عمر بن الخطاب: صفحہ 126، فتح الباری: جلد 4 صفحہ 47 )