Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد

  علی محمد الصلابی

جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خاندانِ نبویﷺ کے افراد کو بہت عزت دیتے تھے اور انہیں اپنی اولاد حتیٰ کہ خاندان والوں پر ترجیح دیتے تھے، چنانچہ اس موضوع سے متعلق آپؓ کے چند واقعات یہاں مذکور ہیں:

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ سے ایک روز حضرت عمرؓ نے کہا: بیٹے! کاش تم ہمارے پاس آیا کرتے اور مل لیا کرتے، ان کے کہنے کی بنا پر میں ایک روز وہاں گیا، اس وقت آپؓ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنہائی میں ان سے باتیں کر رہے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما دروازے پر تھے، ان کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یہ دیکھ کر میں واپس آ گیا۔ پھر ایک دن حضرت عمرؓ کا سامنا ہوا تو انہوں نے فرمایا: بیٹے تم میرے پاس نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں آیا تھا مگر آپؓ حضرت معاویہؓ کے ساتھ تخلیہ میں تھے، میں نے دیکھا کہ ابن عمرؓ واپس لوٹ گئے تو میں بھی لوٹ آیا، سیدنا عمرؓ نے کہا: تم عبداللہ بن عمرؓ سے زیادہ اجازت پانے کے مستحق ہو، ہمارے دل و دماغ میں ایمان کی جو تخم ریزی ہوئی ہے وہ اللہ کا احسان ہے، پھر تمہارے گھرانے کا فیض ہے، یہ کہہ کر میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھا۔ 

(المرتضٰی' ابوالحسن علی حسنی ندوی: صفحہ 117 بحوالہ الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 133 )

ابنِ سعد جعفر الصادق عن محمد الباقر کے واسطے سے علی بن حسینؓ سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: حضرت عمرؓ کے پاس یمن کے حلے جوڑے)م آئے، آپؓ نے لوگوں میں تقسیم کر دیے، وہ سب یہ نئے کپڑے پہن کر مسجدِ نبویﷺ میں آئے، حضرت عمرؓ منبرِ رسول اور قبر نبویﷺ کے درمیان بیٹھے تھے، لوگ آتے، سلام کرتے اور ان کو دعائیں دیتے، اتنے میں حضرات حسن اور حسین رضی اللہ عنہما اپنی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان سے نکلے، لوگوں کے درمیان سے گزر رہے تھے اور ان صاحبزادوں کے جسم پر وہ حلے نہیں تھے، حضرت عمرؓ افسردہ اور اداس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ فرمایا: میں ان بچوں کی وجہ سے مغموم ہوں کہ ان کے بدن کے مطابق کوئی حلہ نہ تھا، چادریں بڑی تھیں اور ان کے قد چھوٹے ہیں۔ اس کے بعد یمن پیغام بھیجا کہ دو جوڑے حسن اور حسین کے لیے بہ عجلت بھیجے جائیں، چنانچہ وہ بھیجے گئے، آپؓ نے ان دونوں کو پہنائے تب اطمینان ہوا۔

(ایک ہی کپڑے کا تہبند اور قمیص ہو اور کپڑا قیمتی ہو تو حلہ کہتے ہیں، یہ قدیم عربوں میں وہی درجہ رکھتا تھا جو اس زمانے میں سوٹ کا ہے۔ المرتضٰی: ابوالحسن علی حسنی ندوی: صفحہ 117، الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 106)

ابو جعفر سے روایت ہے کہ جب اللہ نے فتوحات کے دروازے کھول دئیے تو حضرت عمرؓ نے ہر ایک کے لیے ایک حصہ ماہانہ یا روزینہ کی شکل میں مقرر کرنے کا ارادہ کیا، لیکن کس کو کتنا دیا جائے؟ ترتیب کیا ہو؟ اس کے لیے کبار صحابہؓ کو جمع کیا اور ان کی آراء معلوم کیں، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا: آپؓ اپنی ذات سے شروع کیجیے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: ’’لَا، وَاللّٰہِ، اس سے شروع کروں گا جو رسول اللہﷺ سے زیادہ قریب ہو گا اور بنو ہاشم کے حصے مقرر کروں گا جو رسول اللہﷺ کا قبیلہ ہے۔‘‘ چنانچہ انہوں نے حضرت عباسؓ کا اور پھر سیدنا علیؓ کا حصہ نکالا، یہاں تک کہ پانچ قبائل کے درمیان ترتیب قائم کی اور اخیر میں بنی عدی بن کعب تک پہنچے، ترتیب یوں رکھی گئی کہ بنو ہاشم میں جو لوگ بدر میں شریک تھے، پھر بنو امیہ بن عبد شمس میں جو لوگ بدر میں شریک تھے ان کے نام لکھے، ان کے لیے عطیات مقرر کیے۔ پانچ قبائل کے بعد بنو عدی حضرت عمرؓ کا قبیلہ کا نمبر آیا، الاقرب فالاقرب، جو زیادہ قریب تھا وہ پہلے پھر اس سے جو قریب تھا ان سب کے حصے مقرر کیے اور حسنین (حسن وحسین رضی اللہ عنہما ) کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرب تھا اس کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے لیے عطیات مقرر کیے۔

(المرتضٰی: ابوالحسن علی حسنی ندوی: صفحہ 119)

علامہ شبلی نعمانیؒ اپنی کتاب ’’الفاروق‘‘ میں متعلقین جناب رسول اللہﷺ کے پاس و لحاظ کے سلسلہ میں لکھتے ہیں: ’’حضرت عمرؓ بڑی بڑی مہمات میں سیدنا علیؓ کے مشورہ کے بغیر کام نہیں کرتے تھے اور حضرت علیؓ بھی نہایت دوستانہ اور مخلصانہ مشورہ دیتے تھے اور جب بیت المقدس گئے تو کاروبار خلافت ان ہی کے ہاتھ دے کر گئے، اتحاد و یگانگت کا مرتبہ یہ تھا کہ حضرت علیؓ نے ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو جو فاطمہ زہراء کے بطن سے تھیں سیدنا عمرؓ کے عقد میں دے دیا۔‘‘ 

(المرتضٰی: ابوالحسن علی حسنی ندوی: صفحہ 119)

سیدنا علیؓ نے اپنے ایک فرزند کا نام عمر رکھا اور دوسرے کا نام ابوبکر اور تیسرے کا نام عثمان رکھا۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: ابنِ کثیر: جلد 7 صفحہ 331، 332 )

عام طور پر لوگ اپنے فرزندوں کے نام انہی لوگوں کے نام پر رکھتے ہیں جن سے دلی تعلق ہوتا ہے اور جن کو مثالی انسان سمجھتے ہیں۔

(علی المرتضٰی: علی حسنی ندوی: صفحہ 119 )

سیدنا علیؓ، حضرت عمرؓ کے پہلے مشیر تھے، حضرت عمرؓ آپؓ سے ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں مشورہ لیتے تھے، جب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا، مدائن فتح ہوا اور جب آپؓ نے نہاوند و اہل فارس اور اہل روم سے جنگ کا ارادہ کیا، نیز جب اسلامی ہجری تاریخ متعین کرنا ہوا تو ان تمام معاملات میں حضرت علیؓ سے مشورہ لیا۔ 

(علی بن أبی طالب مستشار أمین الخلفاء الراشدین: محمد الحاجی: صفحہ 99)

سیدنا علیؓ اپنی پوری زندگی حضرت عمرؓ کے مشیر، خیر خواہ اور ہمدرد رہے، حضرت عمرؓ سے بہت محبت کرتے تھے، ان دونوں میں باہمی اعتماد اور الفت و محبت قائم تھی، لیکن افسوس ہے کہ ان تمام حقائق کے باوجود لوگوں نے تاریخ کو بدلنے اور اسے مسخ کرنے کی کوشش کی اور اپنے بگڑے ہوئے مزاج و متوہمانہ افکار کی بنیاد پر ایسی روایات کو عام کیا جو یہ تاثر دیتی ہیں کہ خلفائے راشدینؓ میں ہر ایک دوسرے کی تاک میں رہتا تھا کہ جلد سے جلد مقابل کا کام تمام ہو جائے، نیز یہ کہ ان کے تمام معاملات پس پردہ انجام پاتے تھے۔ 

(علی بن ابی طالب مستشار أمین الخلفاء الراشدین: محمد الحاجی: صفحہ 138)

ڈاکٹر بوطی لکھتے ہیں: ’’خلافتِ فاروقیؓ کا بغور مطالعہ کرنے والے کے سامنے جو بات سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ عمر اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان مثالی باہمی تعاون اخلاص کی بنیادوں پر قائم تھا۔ تمام مشکل معاملات اور اہم مسائل میں حضرت علیؓ کے پہلے مشیر ہوتے تھے اور حضرت علیؓ حضرت عمرؓ کو جو مشورہ دیتے آپ انشراح صدر کے ساتھ اسے نافذ کرتے۔ مذکورہ صداقت کی دلیل کے لیے حضرت عمرؓ کا یہ قول کافی ہے کہ ’’اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔‘‘ حضرت علیؓ حضرت عمرؓ کے تمام احوال و معاملات میں نہایت مخلصانہ خیر خواہی کا جذبہ رکھتے تھے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ نے اہلِ فارس سے معرکہ آرائی کے لیے خود کو سپہ سالار فوج بنانا چاہا تو حضرت علیؓ سے اس سلسلہ میں مشورہ لیا، اس وقت آپؓ نے حضرت عمرؓ کو نہایت دوستانہ اور مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ خود تشریف نہ لے جائیں، بلکہ دوسرے لوگوں کے ذریعے سے جنگ کی کارروائی مدینہ میں رہتے ہوئے چلائیں، عمرؓ سے مزید کہا کہ اگر آپ (مدینہ چھوڑ کر) معرکہ آرائی کے لیے خود سپہ سالار بن کر جاتے ہیں تو خطرہ ہے کہ کہیں اندر خلفشار برپا نہ ہو جائے اور یہ نقصان اس دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گا جس سے مقابلہ کے لیے جا رہے ہیں۔‘‘

ذرا غور کیجیے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کا اعلان کیا ہوتا کہ میرے بعد حضرت علیؓ امتِ محمدیہ کے خلیفہ ہوں گے، تو کیا حضرت علیؓ کو یہ مجاز حاصل تھا کہ اس فرمان رسول اللہﷺ سے انکار کر جاتے؟ اور جن لوگوں نے آپؓ کا حق چھین لیا تھا بلکہ واجبی منصب خلافت کو ہڑپ لیا تھا، اس خالص تعمیری تعاون کے ذریعہ سے ان کی تائید کرتے؟ صرف حضرت علیؓ ہی نہیں بلکہ کیا تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین حضرت علیؓ کے استحقاقِ خلافت سے متعلق فرمانِ نبوی کو نظر انداز کر جاتے؟ کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ فرمان رسول اللہﷺ کے خلاف اجماع کر لیں اور ان میں پیش پیش حضرت علیؓ بھی ہوں؟ آگے آپ لکھتے ہیں: ’’صورت حال کو سمائے رکھتے ہوئے ہم صاف صاف سمجھ سکتے ہیں کہ تمام مسلمان خلافتِ فاروقیؓ کے آخر دور تک، بلکہ یوں کہیے کہ خلافت علیؓ کے آخری دور تک ایک ہی جماعت تھے۔ خلافت، یا استحقاق خلافت کے بارے میں ان میں کسی بھی مسلمان کے ذہن میں کبھی کوئی بات نہیں آئی۔‘‘ 

(فقہ السیرۃ النبویۃ: صفحہ 569)