بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال فے کے بارے میں عباس و علی رضی اللہ عنہما کا باہمی نزاع
علی محمد الصلابیمالک بن اوسؓ کا بیان ہے کہ میں ٹھیک دوپہر کے وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھا تھا، اس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرستادہ میرے پاس آیا اور کہا: آپ کو امیر المؤمنین نے بلایا ہے، میں اس کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے پاس آیا، دیکھا تو آپ کھجور کی رسی کی بنی ہوئی چارپائی کے سرہانے بیٹھے ہوئے تھے، چارپائی پر کوئی بستر وغیرہ نہ تھا۔ چمڑے کے تکیہ پر ٹیک لگائے تھے، میں سلام کر کے آپؓ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپؓ نے کہا: اے مالک! میرے پاس تمہاری قوم کے کئی گھرانوں کے لوگ آئے ہیں، میں نے انہیں کچھ مال دینے کا حکم دیا ہے، لہٰذا تم مال لے کر ان میں تقسیم کر دو۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ میری جگہ دوسرے کو اس کے لیے مکلف کرتے تو بہتر ہوتا آپؓ نے کہا: اے اللہ کے بندے، اسے لو اور تقسیم کرو۔ ابھی میں آپؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپؓ کا دربان ’’یرفا‘‘ آ پہنچا، اور کہا کہ عثمان، عبدالرحمن بن عوف، زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم آپؓ سے ملنا چاہتے ہیں، کیا آپ انہیں اجازت دیتے ہیں؟ آپؓ نے فرمایا: ہاں، آنے دو، وہ سب اندر آئے، سلام کیا، اور بیٹھ گئے۔ ’’یرفا‘‘ تھوڑی دیر بعد آیا اور کہنے لگا کہ علی اور عباس بھی ملنا چاہتے ہیں، کیا انہیں بھی اجازت ہے؟ آپؓ نے فرمایا: ہاں، آنے دو، وہ دونوں اندر آئے، سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ عباس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے اور ان (علی) کے درمیان فیصلہ کر دیجیے؟ دراصل ان دونوں کا جھگڑا اس مال فے کے لیے تھا جو رسول اللہﷺ کو بنو نضیر سے ملا تھا۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو لوگ آئے تھے انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ان دونوں کا فیصلہ کرکے معاملہ ختم کر دیجیے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: آپ لوگ اطمینان رکھیں، میں تم سے اللہ واحد کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا تمہیں یہ فرمانِ رسولﷺ معلوم ہے کہ لَا نُوْرِثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ. ’’ہم انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود کو مراد لے رہے تھے؟ حضرت عثمانؓ کی پوری جماعت نے اقرار کیا کہ ہاں آپؐ نے یہ بات فرمائی ہے۔ پھر حضرت عمرؓ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں تم دونوں سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، بتاؤ کہ کیا اس (مذکورہ) فرمان رسولﷺ کا تمہیں علم ہے؟ انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اب میں تمہیں اس سلسلہ میں بتلاتا ہوں: اللہ نے اس مالِ فے کا کچھ حصہ اپنے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لیے خاص کر دیا، اس میں آپ کے علاوہ کسی کا حق نہیں بتایا، پھر اس آیت کی تلاوت کی:
وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰڪِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞(سورۃ الحشر: آیت 6)
ترجمہ: ’’اور جو ( مال) اللہ نے ان سے اپنے رسول پر لوٹایا تو تم نے اس پر نہ کوئی گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ اور لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غالب کر دیتا ہے جس پر چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔‘‘
بلاشبہ یہ مال خاص رسول اللہﷺ کا حق تھا، اللہ کی قسم! آپﷺ نے اسے تمہارے علاوہ دوسروں کو نہیں دیا، نہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی، تمہیں کو دیا اور تمہی میں عام کیا، یہاں تک کہ اس میں سے اتنا مال بچ گیا اور اس باقی ماندہ مال سے اللہ کے رسول اپنے گھرانے کا سالانہ خرچ چلاتے تھے اور اس سے جو بچ جاتا تھا اسے اللہ کے راستہ میں وقف کر دیتے تھے۔ اللہ کے رسول نے پوری زندگی اسی پر عمل کیا، میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ لوگوں سے پھر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کو یہ سب کچھ معلوم نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، معلوم ہے۔ پھر علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے مخاطب ہو کر آپؓ نے یہی بات کہی کہ تم دونوں سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا یہ سب تم جانتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہاں، ہم جانتے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے پھر فرمایا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، پھر ابوبکر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ ہوں۔ اللہ کی قسم! ابوبکر نے اسے اپنے قبضہ میں رکھا اور اس میں سے جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے انہوں نے بھی وہی کیا، اللہ خوب جانتا ہے کہ ابوبکر اپنے عمل میں سچے، نیک ہدایت یاب اور حق کے تابع تھے۔ پھر اللہ نے ابوبکر کو بھی وفات دے دی، اور میں ابوبکر کا خلیفہ ہوا، اپنی مدت خلافت میں دو سال تک میں نے اسے اپنے قبضہ میں رکھا اور اس میں وہی کام کرتا رہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر نے کیا تھا، اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچا ہوں، ہدایت پر ہوں اور حق کے تابع ہوں، پھر تم دونوں میرے پاس اپنی بات لے کر آئے اور تم دونوں کا مطالبہ اور معاملہ ایک ہی تھا۔ اے عباس! تم مجھ سے اپنے بھتیجے کا حق مانگنے آئے اور یہ یعنی علی رضی اللہ عنہ اپنے خسر کے مال سے بیوی کا حصہ لینے آئے اور میں نے تم دونوں کو بتا دیا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے: لَا نُوْرِثُ مَا تَرَکَنَا صَدَقَۃٌ۔ ’’ہم (انبیاء) اپنے مال کا کسی کو وارث نہیں بناتے، ہم جو کچھ بھی چھوڑ کر جاتے ہیں صدقہ ہوتا ہے۔‘‘ میری یہ رائے ہوئی کہ پھر یہ مال میں تم دونوں کے حوالے کر دوں، میں نے تم سے کہا کہ اگر تم دونوں کہو تو اسے تمہیں دے دوں لیکن اس شرط پر کہ تم دونوں اللہ سے یہ عہد و پیمان کرو کہ اس میں ویسا ہی تصرف کرو گے جس طرح رسول اللہﷺ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور پھر میں نے اپنے دورِ خلافت میں کیا ہے۔ تم دونوں نے کہا کہ وہ مال ہمیں دے دو تو تمہارے مطالبہ پر اسے تمہیں دے دیا۔ میں آپ لوگوں سے حلفیہ پوچھتا ہوں کہ کیا میں نے وہ مال ان دونوں کو دے دیا تھا؟ اس جماعت نے کہا: ہاں، پھر آپ علی اور عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور حلفیہ اقرار کروایا کہ بتاؤ وہ مال میں نے تم دونوں کو دیا نہیں تھا؟ ان دونوں نے کہا: ہاں آپؓ نے پوچھا تو کیا پھر مجھ سے اس کے علاوہ فیصلہ کرانا چاہتے ہو، اگر تم سے اس مال کا بندوبست نہیں ہوسکتا تو مجھ کو پھر واپس دے دو، میں تم دونوں کی طرف سے اس کے لیے ضامن ہوں۔
(فقہ السیرۃ النبویۃ: صفحہ 569)