عقیدہ توحید تحریفِ معنوی کی زد میں
مولانا اللہ یار خانعقیدہ توحید تحریفِ معنوی کی زد میں
ان چند اقتباسات سے مقصد یہ تھا کہ قارئین کے سامنے شیعہ اصول تفسیر بیان کر دیا جائے فیصل آباد کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ جس طرف سے جس راستے سے شہر میں داخل ہوں آپ کو گھنٹہ گھر نظر آ جائے گا حتی کہ آپ محسوس کرنے لگیں گے کہ گھنٹہ گھر ہی فیصل آباد ہے شیعہ اصول تفسیر میں یہ بنیادی حقیقت بنادی گئی کہ اس کی روح اس کا باطن اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ آئمہ کیا ہیں اور شیعہ کون ہیں اگر الفاظ کا ظاہر ساتھ نہ دے تو پرواہ نہ کی جائے مگر انسانی فطرت ہے کہ تقابل او تضاد کی طرف ذہن پلٹ جاتا ہے مثلا روشنی کا ذکر ہوا تو اندھیرے کی طرف خیال ضرور پلٹ جاتا ہے اس لیے شیعہ اصول تفسیر میں اس انسانی نفسیات کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ واضح کر دیاگیا کہ قرآن میں جہاں کہیں زم کے الفاظ آئے یا کسی برائی کا ذکر آگیا تو سمجھ لینا اس سے مراد صحابہ ہیں یا اہل سنت والجماعت ہیں۔
اب ہم اس اصول کے اطلاق کی مختلف صورتیں پیش کرتے ہیں ۔
اسلام میں بنیادی عقیدہ توحید ہے اور توحید کے مقابل شرک ہے۔ توحید کا عقیدہ رکھنا جتنا ضروری ہے اتنا ہی شرک سے اجتناب کرنا ضروری ہے یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ آدمی شرک کی پہچان پیدا کر لے چنانچہ بتایا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک سمجھنا شرک ہے ۔ اب شیعہ مفسرین سے شرک کی حقیقت سمجھئے۔
1- تفسیر عیاشی 265:1
قال اللہ تعالٰی ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلك لمن يشاء يعنى انه لا يغفر لمن يكفر بولاية على وينفر مادون ذلك لمن يشاء يعنى من والى عليا عليه السلام
اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ سے شرک کیا جائے تو یہ گناہ اللّٰہ نہیں بخشے گا اس کے علاوہ جو گناہ چاہے بخش دے گا اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ اس کو نہیں بخشے گا جس نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی ولایت اور امامت کا انکار کیا اور اس کے بغیر جسے چاہے گا بخش دے گا مراد یہ ہے کہ جو حضرت علی سے محبت کا دعویٰ کرے گا اسے بخش دے گا (مراد شیعہ ہی ہوئے)
شیعہ تفسیر کے اعتبار سے شرک کیا ہے؟حضرت علی کی ولایت و امامت کا انکار
2- تفسیر صافی 261:1
3- تفسیر البرهان 275:1
عن الباقر ان الله لا يغفر ان يشرك به ما دون ذلك لمن يشاء يعنى لا يغفر لمن یکفر
یہی عبارت ہے
بولاية على صلوات الله عليه ويغفر ما دون ذلك يعنى لمن والى عليا .
4- تفسیر البرہان 35:2
ان الجاهد بولاية على كعا بد وثن
ولایت علی کا منکر بت پرست کی طرح ہے۔
5- تفسير مراة الانوار ص52
وان جاهد الك على ان تشرك به يقول فی الوصية. وتعدال عمن امرت بطاعته فلا تطعمها ولا تسمع قولھما۔
وان جاھداک الخ سے مراد یہ ہے کہ جو حضرت علی کے وصی ہونے میں کسی کو شریک کرے۔اے نبی آپ اس سے عدول کریں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس کی اطاعت کریں پس آپ ان دونوں یعنی ابوبکر و عمر کی اطاعت مت کریں نہ ان کی بات سنیں۔
6۔تفسیر مراۃ الانوار ص58
قال تعالى ولا يشرك بعباد قاربه احدا قال الامام الصادق ای لايتخذ مع ولاية ال محمد غيرهم
عبادت رب میں کسی کو شریک نہ کرنے سے مراد یہ ہے امام صادق فرماتے ہیں کہ ولایت آل محمد میں کسی کو شریک نہ کرے (عبادت کے معنی ہوئے ولایت آئمہ شیعہ)
7۔تفسیر عیاشی میں اس کی تفسیر یہ لکھی ہے۔
ا۔ التسليم لعلى لا يشرك معه فی الخلافة من لیس له ذالک۔
یعنی ولایت علی کا تسلیم کرنا اور خلافت علی میں کسی کو شریک نہ کرنا مطلب یہ کہ علی کو خلیفہ بلا فصل تسلیم نہ کرنا شرک ہے اور تسلیم کر لینا ہی عبادت ہے۔
8۔تفسیر مراۃ الانوار ص72
ويل للمشركين الذين لا يوتون الزكوة وهم بالاخرة هو كافرون . يعنی ويل للمشركين الذين الشركوا بالامام الاول وهو بالائمة الآخرون کافرون المشرك من اشرك مع الامام الحق
یعنی جہنم ہے ان مشرکوں کے لیے جنہوں نے امام اول حضرت علی کے ساتھ اور خلفاء کو شریک کیا اور باقی آئمہ کا انکار مشرک وہ ہے جو امام برحق کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرے۔
9-تفسیر مراۃ الانوار ص 202
تأويل الشرك بالله والشرك بعبادتة بالشرك بالله فى الولاية وللامامة الى ان يشرك مع الإمام من ليس من اهل الامامة وان يتخذنا مع ولاية الى محمد ولاية غيرهم .
شرک باللہ اور شرک فی العبادتہ سے مراد شرک فی الوالایت ہے یعنی نااہل کو امامت میں شریک کرنا اور ولایت آل محمد کے ساتھ کسی غیر کو شریک کرنا ہے۔
10-ایضاً ص 202
من الشرك ببيعة على عليه السلام كان مشركا
جس نے بیت علی میں غیر کو شریک کیا وہ مشرک ہے۔
11- تفسیر قمی 251:2 امام باقر سے
لئن الشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين قال لئن امرت بولاية احد مع ولاية على من بعدك ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين .
اے محمد! اگر آپ نے ولایت علی کے ساتھ کسی اور کی خلافت کا حکم دیا تو آپ کے اعمال ضائع کر دیے جائیں گے اور ضرور آپ خسارہ پانے والوں میں ہوں گے۔
اس تفسیر میں لفظ شرک کا جو حلیہ بگاڑا گیا ہے وہ تو خیر شیعہ کا معمول ہوا لیکن نبی کریمﷺ کی جس قدر توہین کی گئی وہ شیعہ ہی کا دل گردہ ہے ورنہ ایک مسلمان تو اس کے تصور سے بھی کانپ جاتا ہے۔
12-تفسیر فرات بن ابراہیم کو فی طبع قدیم ص36 طبع نجف اشرف ص 135
ان الله لا يغفر ان يشرك به الى بولاية على وطاعته واما قوله ويغفر ما دون ذلك فان ولاية على بن ابى طالب
یعنی اللّٰہ اسے نہیں بخشے گا جس نے ولایت علی اور طاعت علی میں کسی دوسرے کو شریک کیا اور جو ولایت علی میں شریک نہ کرے اس کو بخش دے گا۔
ان بارہ اقوال مفسرین سے شرک کا مفہوم واضح ہو گیا۔ یعنی شرک مقابل ہے خلافت علی کے۔ توحید کا مسئلہ قرآن نے ان مقامات پر کہیں چھیڑا ہی نہیں۔خلافت علی میں کسی کو شریک نہ کیا تو نہ صرف بخشا گیا بلکہ شرک سے پاک ہو گیا اب بھلا کیسے شبہ ہو سکتا ہے کہ قرآن تو نازل ہی اماموں کا تعارف کرانے کے لیے ہوا ہے۔