سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے فرزند عبداللہ رضی اللہ عنہ کا احترام
علی محمد الصلابی’’عام الرمادۃ‘‘ کے موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محترم چچا یعنی حضرت عباس بن عبدالمطلب کو استسقاء کی نماز پڑھانے کا حکم دے کر پوری امت کے سامنے آپؓ کی فضیلت، احترام اور قدر و منزلت کو ظاہر کر دیا (اس کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں آرہی ہے۔) پچھلے مباحث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لیے قسم کھائی تھی کہ ’’ان کا اسلام لانا مجھے میرے باپ کے اسلام لانے سے، اگر وہ اسلام لاتے، زیادہ محبوب ہے اس لیے کہ عباس کا مسلمان ہونا رسول اللہﷺ کو زیادہ محبوب تھا۔‘‘
(العقیدۃ فی أہل البیت بین الإفراط والتفریط: صفحہ 215 )
اور رسول اللہﷺ کے چچا عباس کے بیٹے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمرؓ کے نزدیک اتنے محبوب اور محترم تھے کہ انہیں بزرگ ترین بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں شرکت کا موقع دیتے تھے، جب کہ حضرت عمرؓ کے دوسرے کئی بیٹے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہم عمر تھے لیکن وہ اس اعزاز سے نہیں نوازے گئے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کی نگاہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بڑا بلند مقام تھا۔
صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ مجھے بزرگ ترین بدری صحابہؓ کی مجلس میں شرکت کا موقع دیتے تھے، مجلس کے کسی صحابی نے کہا: آپؓ اس نوجوان کو ہماری مجلس میں کیوں لاتے ہیں، حالانکہ ہمارے لڑکے اسی کے ہم عمر ہیں لیکن ہم انہیں مجلس میں نہیں لاتے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ اس کا تعلق کس خاندان سے ہے؟ ایک دن آپؓ نے ان لوگوں کو بلایا اور مجھے بھی بلایا، میں سمجھ گیا کہ آپؓ نے ان لوگوں کو صرف میری اہمیت دکھانے کے لیے بلایا تھا، آپؓ نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں
اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُ ۞ وَرَاَيۡتَ النَّاسَ يَدۡخُلُوۡنَ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اَفۡوَاجًا ۞فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَاسۡتَغۡفِرۡهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا ۞(سورۃ النصر: آیت1، 2، 3)
ترجمہ: ’’جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ، یقیناً وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم اس کا مطلب نہیں جانتے، اور کچھ لوگ خاموش رہے، پھر آپؓ نے مجھ سے پوچھا: اے ابنِ عباسؓ! کیا تمہاری بھی یہی رائے ہے؟ میں نے کہا: نہیں! آپ نے کہا: تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: اس سورت میں رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر دی گئی ہے کہ جب اللہ کی مدد آ جائے اور مکہ فتح ہو جائے تو یہ آپﷺ کی وفات کی علامت ہے۔ لہٰذا تم اپنے ربّ کی حمد و تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس کے متعلق میں بھی وہی جانتا تھا جو تم جانتے ہو۔
(صحیح البخاری: حدیث 4294)
حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بغویؒ (العقیدۃ فی اہل البیت بین الإفراط والتفریط: صفحہ 210) نے معجم الصحابہؓ میں زید بن اسلم کی سند سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمرؓ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پاس بلاتے اور اپنے پہلومیں بٹھاتے اور کہتے: میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے ایک دن تمہیں بلایا، تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا دی:
اَللّٰہُمَّ فَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ وَعَلِّمْہُ التَّاْوِیْلَ۔
(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 170 )
ترجمہ: ’’اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما، اور تاویل و تفسیر سکھا دے۔‘‘
خلاصہ یہ کہ سیدنا عمرؓ نے جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی فضیلت و مرتبت کا اعتراف اور علم و فہم میں آپ کے بلند مقام کو ظاہر کرتے ہوئے ان کو کبار صحابہؓ کی مجلس میں شریک کیا۔
حافظ ابنِ کثیرؒ نے نقل کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما قرآن کے کتنے بہترین ترجمان ہیں! اور جب وہ کہیں سے آتے دکھائی دیتے تو کہتے: وہ دیکھو بزرگوں کا جوان، استفسار کا عادی، اور سمجھ دار دل کا مالک آ گیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 303)
سچ ہے کہ حضرت عمرؓ اور رسول اکرمﷺ کے خاندان والوں کے درمیان تعلق باہمی محبت پر قائم تھا۔