سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی اور نظام احتساب کا اہتمام
علی محمد الصلابیسیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی معاشرتی زندگی کتاب الہٰی اور سنتِ نبوی کی زندہ تصویر تھی، معاشرتی زندگی میں سیدنا عمرؓ کے افکار و کردار سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپ کی سیرت اسلامی زندگی کا مجسم نمونہ تھی۔
ذیل میں سیدنا عمرؓ کے چند افکار و کردار کا ذکر کیا جاتا ہے:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خواتین کی خبر گیری:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسلمان عورتوں، لڑکیوں اور ضعیف خواتین کی خصوصی دیکھ بھال کرتے تھے، انہیں ان کا حق دیتے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں ہونے دیتے تھے جن خاندانوں کے مرد حضرات جہاد پر ہوتے ان کی تمام ضروریات پر نگاہ رکھتے، بیواؤں کے حقوق ان تک پہنچانے کے اس قدر حریص تھے کہ آپؓ نے یہاں تک کہہ دیا: ’’اگر اللہ نے مجھے صحیح سالم رکھا تو عراق کی کسی بیوہ کو محتاج نہ چھوڑوں گا جو میرے بعد کسی سے اپنی ضرورت مانگے۔‘‘
(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق عمر بن الخطاب: صفحہ 373)
یہاں بعض ایسے واقعات نقل کیے جا رہے ہیں جو زمانے کی پیشانی پر نورانی حروف سے کندہ کیے ہوئے ہیں۔