Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تیرا برا ہو تو عمر کی خامیاں تلاش کرتا ہے

  علی محمد الصلابی

ایک رات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر نکلے، حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو دیکھ لیا، سیدنا عمرؓ ایک گھر سے دوسرے گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے، صبح ہوئی تو حضرت طلحہؓ ان گھروں میں گئے، دیکھا تو ایک گھر میں اندھی بوڑھی خاتون بیٹھی ہیں، طلحہؓ نے اس خاتون سے پوچھا: ایک آدمی رات کو تمہارے پاس کس لیے آتا ہے؟ اس نے کہا: کافی عرصے سے وہ میرے پاس آتا ہے، ہماری ضروریات ہمیں دے جاتا ہے اور ہماری پریشانیوں کو دور کرتا ہے، یہ سن کر طلحہؓ نے خود کو مخاطب کر کے کہا: ’’تیرا برا ہو، تو عمرؓ کی خامیاں تلاش کرتا ہے۔‘‘ 

(أخبار عمر: صفحہ 344، محض الصواب: جلد 1 صفحہ 356، روایت معضل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔)

معاشرہ کے کمزور لوگوں کی نگرانی اور خبر گیری کرنا نصرت و تائید الہٰی کا سبب اور عظیم ترین کار ثواب ہے۔ لہٰذا اسلامی تحریکات کے پیشواؤں، مسلمانوں کے حکام، مساجد کے آئمہ اور تمام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ انسانیت کے اس مقصد کو اپنے معاشرہ میں وسیع کریں اور اسے پورا پورا حق دیں۔