قصہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بعض خواب
ابو شاہینحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو نصف النہار کے وقت خواب میں دیکھا، آپﷺ کے بال پراگندہ اور جسم خاک آلود تھا، آپ کے پاس ایک شیشی تھی، جس میں خون بھرا تھا، میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے۔‘‘ (فضائل الصحابۃ: رقم، 1370 اس کی سند صحیح ہے)
راوی عمار کہتے ہیں: ہم نے اس بات کو یاد رکھا، ہم نے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کو پایا کہ وہ اسی دن مقتول ہوئے۔اس روایت کی سند ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ہے۔ (حقبۃ من التاریخ: صفحہ 137)
ابن سعد اپنی سندوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے بتایا: حضرت حسینؓ نے عذیب (عذیب: قادسیہ اور مغشیہ کے درمیان ایک جگہ) کا راستہ اختیار کیا، یہاں تک کہ جب آپ قصر ابو مقاتل میں اترے ( یہ محل عین التمراور شام کے درمیان واقع تھا۔ معجم البلدان: جلد،4 صفحہ 364) تو مضطرب ہو کر انا للہ پڑھا اور فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا، گویا ایک گھڑ سوار ہمارے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور کہہ رہا ہے: لوگ آگے چل رہے ہیں اور موتیں ان کی طرف چل رہی ہیں ۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد، 3 صفحہ 298) بعض لوگ کہتے ہیں: حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف اپنے خروج کی بنیاد رسول اللہﷺ کے ایک خواب پر رکھی اور یہ کہ آپﷺ نے انہیں ایک کام کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ اس کی تعمیل کریں گے۔ (ایضاً) بعض لوگ شرعی احکام اخذ کرنے کے لیے خوابوں کو بھی بنیاد بناتے ہیں جبکہ امام شاطبی فرماتے ہیں: سب سے کمزور استدلال ان لوگوں کا ہے، جو اعمال اخذ کرنے کے لیے خوابوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ وہ خوابوں کی بنیاد پر عمل کرتے اور انہیں ترک کرتے ہیں، چنانچہ وہ کہا کرتے ہیں: ہم نے فلاں نیک آدمی کو خواب میں دیکھا، تو اس نے ہم سے کہا: یہ کرو اور یہ نہ کرو۔ تصوف سے راہ و رسم رکھنے والے زیادہ تر لوگ اس قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو یوں بھی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو خواب میں دیکھا،تو آپ نے مجھ سے یہ فرمایا اور اس کام کے کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ اس خواب کی بنیاد پر بعض کام کرتے اور بعض کو ترک کر دیتے ہیں، جبکہ شریعت کی وضع کردہ حدود کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ غلط ہے، اس لیے کہ انبیائے کرام کے علاوہ دوسرے لوگوں کے خوابوں کی بنیاد پر شرعاً کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، الا یہ کہ انہیں اپنے پاس موجود شرعی احکام پر پیش کیا جائے، اگر تو احکام شرعیہ سے ان کی تائید ہو جائے، تو ان پر عمل کیا جا سکتا ہے بصورت دیگر انہیں ترک کرنا اور ان سے اعراض کرنا واجب ہو گا۔ خوابوں کا فائدہ محض بشارت یا تنبیہ ہے، ان سے ان کے استفادہ کرنے کا قطعاً کوئی جواز نہیں ہے۔ (الاعتصام: جلد، 1 صفحہ 260 دراسۃ فی الاہواء و الفرق و البدع: صفحہ 301) اس بنا پر انسان خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ کسی تقدس کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اسے شریعت پر پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر وہ شریعت سے ہم آہنگ ہو، تو حکم شریعت کے مطابق ہو گا اس لیے کہ شرعی احکامات خوابوں پر موقوف نہیں ہیں، اور اگر وہ شریعت کے مخالف ہو تو اسے ردّ کر دیا جائے گا، خواہ خواب دیکھنے والا کوئی بھی ہو اور اس نے جیسا بھی خواب دیکھا ہو، ایسے خوابوں پر یہ حکم لگایا جائے گا کہ وہ شیطانی وسوسہ ہے، جھوٹا اور پراگندہ خیال ہے۔ (منہج الاستدلال علی مسائل الاعتقاد: جلد، 2 صفحہ 687)
اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر حکم شریعت کے مطابق ہی ہوتا ہے، (ایضاً) تو پھر شریعت سے ہم آہنگ خوابوں کا کیا فائدہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا فائدہ تنبیہ کرنا اور خوشخبری دینا ہے۔ جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے آنحضرتﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ’’نبوت سے مبشرات کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہا۔‘‘ لوگوں نے سوال کیا: مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نیک خواب۔‘‘ (بخاری: رقم الحدیث، 6990) اس لیے کہ نیک آدمی کبھی کبھی خواب میں کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے جو اسے خوش کر دیتی ہے یا پریشان کر دیتی ہے، جس سے وہ فعل مطلوب کو ادا کرتا اور امر محظور کو ترک کر دیتا ہے۔(منہج الاستدلال علی مسائل الاعتقاد: جلد، 2 صفحہ 687)