آنحضرتﷺ کی طرف سے قتل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اطلاع دینا
ابو شاہینام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ’’جبریل امین علیہ السلام نبی کریمﷺ کے پاس تھے اور حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما میرے ساتھ کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ رونے لگے، میں نے انہیں چھوڑا، تو وہ نبی کریمﷺ کے پاس گئے اور ان سے قریب ہو گئے، اس پر جبریل علیہ السلام کہنے لگے: یا محمد! کیا آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: ’’ہاں۔‘‘ یہ سن کر جبریل علیہ السلام کہنے لگے: آپ کی امت انہیں قتل کر دے گی، اور اگر آپ چاہیں، تو میں آپ کو زمین کی وہ مٹی دکھا دوں، جہاں انہیں قتل کیا جائے گا، چنانچہ انہوں نے آپ کو وہ جگہ دکھا دی، معلوم ہوا کہ اس زمین کا نام کربلا ہے۔‘‘ (فضائل الصحابۃ: رقم، 1391 حسن سند کے ساتھ)
پھرعرصہ دراز بیت جانے کے بعد یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا۔ یہ نبی کریمﷺ کا معجزہ ہے، جو آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے اور یہ کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر برحق اور سچے رسول ہیں۔ نبی کریمﷺ نے اس واقعہ کی خبر وحی کے طریق سے دی تھی۔ (سیر الشہداء: صفحہ 244)