دین و ایمان تحریف قرآن کی زد میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دین و ایمان تحریف قرآن کی زد میں

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 1 از 3

دین و ایمان تحریف قرآن کی زد میں

دین مجموعہ ہے عقائد و اعمال صالحہ کا پھر اعمال صالح میں اعمال قلب اور اعمال جوارح سب آتے ہیں یعنی اعمال صالحہ کے تحت عبادات معاملات اور اخلاق وغیرہ زندگی کے تمام شعبے آ جاتے ہیں۔

عقائد اسلامیہ میں سر فہرست عقیدہ توحید آتا ہے تحریف قرآن کے جنون میں شیعہ مفسرین نے توحید کا جو نقشہ پیش کیا ہے اس کی ذرا سی جھلک دیکھ لیں۔

1_ تفسیر مرۃ الانوار ص 11

کذا تاویل یداللّٰه و علیه و جنبه و قلبہ وسائر ما هو من هذا القبيل ما نسبه اللّٰه إلى نفسه و خصربه الامام حتى انه وردت الاخبار فی تاویل روح اللّٰه و نفسه بل لفظته الجلالة والاله والرب بالامام۔

اس طرح اللّٰہ کے ہاتھ سے مراد امام ہے اور اللّٰہ کی آنکھ اور دل سے مراد سے مراد امام ہے۔اور تمام وہ اوصاف جو اسی قبیل سے ہیں جن کی نسبت اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے ان سے مراد امام ہوتا ہے وہ اوصاف جو خاص اوصاف باری تعالیٰ کے ہیں رخ اللّٰہ لفظ الٰہ اور رب سے مراد امام ہے۔

عقائد میں سے عقیدہ توحید سے بسم اللّٰہ کی اور صفات باری تعالیٰ سب امام کے صفات قرار پائے۔

2_ ایضاً 59

و اما من ظلم فسوف نعذبه ثم یرد الی ربہ فیعذبه عذابأ نكراحتى يقول يليتني كنت ترابا ای من شیعه ابی تراب۔ المراد بالرب امیر المومنين لان الذی بل اللّٰه في تربية الخلائق في العلم و المکالات اليه وهو صاحبهم ويحذ كم به نفسه بالامام كما سيئاتي.

بہرحال جس نے ظلم کیا اس کو ہم عنقریب سزا دیں گے پھر رب کی طرف جو امیر المؤمنین اسے لوٹا جائے گا پھر علی رضی اللّٰہ عنہ اس کو سخت سزا دے گا پھر وہ ظالم کہے گا کاش میں ابو تراب یعنی علی رضی اللّٰہ عنہ کا شیعہ ہوتا یہاں رب سے مراد حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہیں کیونکہ مخلوق کی تربیت اور علم ربانی کے کمالات حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے سپرد ہیں اور ان کا حاکم اور مالک ہے اللّٰہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے ذات سے مراد حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہیں۔

الٰہ یعنی قابل پرستش اور لائق عبادت بھی علی رب بھی علی اور پہلے گزر چکا کہ خالق محیی و محیت بھی علی اب بتائیے اللّٰہ کے پلے میں کیا رہ گیا۔

3_ ایضاً ص 232

التصريح بتأويل عباد اللّٰه بولاية على والتسليم له بالامانة والخلافة.

اللہ کی عبادت سے مراد ولایت علی ہے اور ان کی امامت اور خلافت کا ماننا ہے۔

4_ ایضاً ص298

واقيموا الصلوة اقيموا امامة الائمة واطيعوهم الى بيناأنهم الصلوة.

نماز قائم کرو سے مراد آئمہ شیعہ کی امامت قائم کرو اور ان کی اطاعت کرو کیونکہ ہم بیان کر آئے ہیں کہ نماز سے مراد امام ہیں۔

5_ ایضاً ص217

فاعلم انه قد ورد تاويل الصلوة بالائمة وبعلى و بولايته وولايتهم وكذا أورد تأويل السلوة الوسطى بعلى والمراد بالصلوات الائمة صلوة اللّٰه عليهم.

خوب جان لو کہ حدیثوں میں وارد ہو چکا ہے کہ نماز سے مراد امام ہیں اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی ولایت اور آئمہ شیعہ کی ولایت اس طرح درمیانی نماز سے مراد حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہیں اور صلاۃ یعنی باقی نمازوں سے مراد باقی امام ہیں۔

یہ نقطہ سمجھ میں نہیں آیا کہ صلوۃ سے مراد آئمہ ہیں پھر صلوات اللّٰہ علیہم سے کیا مراد ہوئی یہ جملہ کوئی بے تکا سا لگتا ہے کہ جو صلوات ہیں ان پر صلوات۔

6_ ایضاً ص317

عن ما داؤد بن كثير قال قال ابوعبداللّٰه ياداؤد نحن الصلوة في كتاب اللّٰه تعالی ونحن الزكوة ونحن الصيام و نحن الحج ونحن الشهر الحرام ونحن بلدة الحرام ونحن كعبة اللّٰه ونحن قبلة اللّٰه ونحن وجہ اللّٰہ۔

داؤد بن کثیر امام جعفر سے روایت کرتا ہے کہ فرمایا اے داؤد! نماز ہم امام میں زکوۃ ہم میں روزہ ہے حج ہم ہیں حرمت والے مہینے چار میں حرمت والا شہر یعنی مکہ ہم ہیں کعبہ ہم ہیں قبلہ ہم ہیں اللّٰہ کا چہرہ ہم ہیں۔

ان متضاد اور بوقلموں صفات میں سے آپ تلاش کریں کہ امام کیا شے ہیں. اللّٰہ رب اور خالق ایک ذات ہے۔ واجب الوجود، نماز اور روزہ بدنی عبادت ہے جو اللّٰہ نے مقرر کی ہے۔ زکوۃ اور حج مالی اور بدنی عبادتیں ہیں ، یعنی امام معبود بھی ہیں عبادت بھی ہیں، حرمت والے مہینے۔ وقت کی طوالت کی مقدار ہے اور مکہ شہر ہے کعبہ عمارت ہیں یعنی امام ظرف زمان بھی ہے ظرف مکان بھی ہے مصروف بھی ہے اب بتائیے امام کیا ہے بوجھو تو جانیں ۔۔۔۔۔

خود کو زه و خود کو زه گرد خود گل کو زه

7_ ایضاً ص 212

اهدنا الصراط المستقيم قال دين اللّٰه نزل بہ جبرائیل وفی رواية من اللّٰه لولاية .

یعنی اللّٰہ کا دین ولایت علی ہے۔

مراد یہ ہے کہ تم دین کی تفصیلات کی جھنجھٹ میں کیوں پڑتے ہو نفس دین ہی علی ہے۔

8_ایضاً ص208 و تفسیر عیاشی زیر آیت فليعمل عملا صالحا

من الصادق يعنى بالعمل الصالح المعرفة بالائمة

امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ عمل صالح نام ہی اماموں کی معرفت کا ہے۔

9_ ایضاً ص186 مناقب ابن شاذان میں امام رضا سے روایت ہے کہ

قوله تعالى بل كن بوا بالساعة قال يعني كذبوا بولاية على.

ارشاد باری تعالیٰ کے انہوں نے قیامت کا انکار کیا مراد ہے کہ علی رضی اللّٰہ عنہ کی ولایت کا انکار کیا۔

10_ ايضاً ص 148

وذلك الذين القيم باستكمال معرفتہ على وكذا سيئاتي في الهداية ما يدل على تأويل دين الحق بولاية على مع مادر ومن تأويل بدين بالولاية لقول صادق في غير قوله تعالى ان اللّٰه اصطفى لكم لدين الاية الدين ولاية على فلا تموتن - الا وانتم مسلمون لولاية على و قوله تعالى اقيموا الدين الى اقرار بالولاية قال تعالى ومن يكفر بالایمان بولاية على وقال تعالى وليعلمن الذين امنوا يعني بولاية على وقال الذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم يعنى امنوا بولاية على والو يخلطوا ولا يتهم بعلى ولاية فلان وفلان وفلان فأنه التلبس بالظالم.

صفحہ 1 از 3