دین و ایمان تحریف قرآن کی زد میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دین و ایمان تحریف قرآن کی زد میں

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 3

اور یہ1 دین قوی سیدھا ہے اس سے مراد حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی کامل معرفت ہے اس طرح عنقریب ہدایت کی بحث میں آئے گا کہ دین حق سے مراد ولایت علی ہے امام جعفر نے آیت ان اللّٰہ 2اصطضی آدم کی تفسیر میں فرمایا کہ دین سے مراد ولایت علی ہے اور فرمان باری تعالیٰ اور نا 3مرو سوائے اس حال کہ تم مسلمان ہو یعنی موت کے وقت ولایت علی کو ماننے والے ہونا اور آیت 4اقیمو الذین سے مراد اقرار ولایت ہے اور آیت ومن یکفر بالایمان سے مراد ولایت علی ہے اور آیت نمبر 6 میں امنو سے مراد ولایت علی کا اقرار ہے اور فرمان باری تعالیٰ کے جو لوگ ایمان لائے اور اس کے ساتھ ظلم کی آزمائش نہ کی سے مراد یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی خلافت پر ایمان لائے اور خلفائے ثلاثہ رضی اللّٰہ عنہم کی خلافت کو نہ مانا کیونکہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی خلافت کے ساتھ ثلثہ کی خلافت تسلیم کرنا ایمان کے ساتھ ظلم کو ملا دینا ہے۔

یعنی دین حق بھی علی ایمان بھی علی اور اسلام بھی علی اور سات آیتوں کی یہی تفسیر ہے۔

11_ مراۃ الانوار ص 57

من إلى بصير قال سمعت ابا عبد اللّٰه يقول تخذوا الهين انما هو اله واحد اعنى بذلك لان خذوا امامین انها هو امام واحد

ابو بصیر کہتا ہے میں نے امام جعفر سے سنا فرمایا کہ دو معبود نہ بناؤ معبود ایک ہی ہے مراد یہ ہے کہ دو امام نہ بناؤ امام ایک ہی ہے یعنی حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ

عن ابى الجارود عن ابي عبد اللّٰه في قول القا ال مع اللّٰه بل اكثر هم لا يعلمون قالا ای امام هدی مع امام ضلال في قرن واحد

اور ابی جارود امام جعفر سے بیان کرتا ہے کہ آیت الہ مع اللّٰہ الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ آیا امام ہدایت کے ساتھ کوئی دوسرا گمراہ امام بھی ہے ایک ہی زمانہ میں۔

سوال یہ ہے کہ اگر امام ایک ہی ہے تو بارہ امام کہاں سے آ گئے۔

12_ تفسیر عیاشی ص1۔127

_عن زرارة عن عبد الرحمن بن كثير عن ابى عبد اللّٰه في قوله تعالى حافظوا على الصلوات والصلوة الوسطے وقومو اللّٰه قانتين قال الصلوة رسول اللّٰه وامير المومنين وفاطمة والحسن والحسين والصلاة الوسطى امیر المومنين و قومو اللّٰه قانتين طائعين الائمۃ

زرارہ ابن کثیر سے وہ امام جعفری سے بیان کرتا ہے کہ آیت حافظواعلی الصلوات میں نماز سے مراد نبی کریم ﷺ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ،فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا ،حسین رضی اللّٰہ عنہ اور حسن رضی اللّٰہ عنہ ہیں صلوۃ الوسطی سے مراد حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہیں قانتین سے مراد آئمہ کی اطاعت ہے۔

13_ تفسیر البرہان 1ص231 میں بعینہ یہی تفسیر دی گئی ہے

تعداد تو پوری ہوگئی کہ پانچ نمازیں اور پانچ حضرات جو ترتیب پنجتن کی حدیث میں بیان ہوئی ہے اس کو دیکھا جائے تو صلوۃ وسطی تو حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا بنتی ہیں ۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو صلوۃ وسطی قرار دینے کی توجیہ کیا یہ عقدہ نہیں کھولا گیا۔

دوسری بات  یہ ہے کہ تفسیر مراۃ الانوار ص 217کا حوالہ گزر چکا ہے کہ صلوات سے مراد آئمہ ہیں ۔ اس مفسر نے نبی کریم ﷺ اور حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کا اضافہ کسی بنا پر کر دیا ہے ۔ یہ دونوں آئمہ کی صنعت میں شمار نہیں ہوتے۔ ممکن ہے پانچ کی گنتی پوری کرنے کے لیے یہ نکتہ پیدا کیا گیا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ صاحب مراۃ الانوار نے 12 کی تعداد کو پانچ نمازوں پر کیسے تقسیم کیا۔

تیسری بات  یہ ہے کہ پانچ نمازوں میں تو نبی کریم ﷺ کا نام درج کر دیا گیا ہے، مگر قانتین کی تفسیر میں اطاعت صرف اماموں کا حصہ بنائی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت کی ضرورت نہیں صرف تبرک کے طور پر نام لے لیا، ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ امام جب نبی سے افضل ہوتا ہے تو افضل کے مقابلے میں مفضول کی اطاعت کیوں کی جائے ۔

14_ تفسیر مراہ النوار ص57

جمیل دراج امام ابو الحسن سے بیان کرتا ہے۔

قال تحدث السفلة فيذ يعون اما تقرء ان الينا ايابه ثم ان علينا حسابهم قلت بلى قال ان كان يوم القيامة وجمع اللّٰه الاولين والآخرين ولا نا حساب شيعتنا فما كان بينهم وبين اللّٰه حكمنا على اللّٰه فيه فاجاز حكومتنا وما كان بينهم وبين الناس استوهبنا منهم فوهبوه لنا وما كان بيننا وبينهم فنحن احق عفى وصفح .

امام نے فرمایا کمینے شیعہ بات کو ظاہر کر دیتے ہیں جو تم ان سے کرتے ہو کیا تم نے قرآن میں میں پڑھا کہ پھر انہیں لوٹ کے ہمارے پاس آتا ہے اور ہم ان کا حساب لیں گے میں نے کہا کیوں نہیں پڑھا فرمایا جب قیامت ہو گی تو اللّٰہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا۔ ہمارے شیعوں کا صاب کتاب ہمارے سپرد کر دے گا تو ہم یوں کریں گئے کہ شیعوں اور اللّٰہ کے درمیان جو معاملہ ہے یعنی شیعوں نے اللّٰہ کی جو نافرمانی کی ہو گی ۔اس کے بارے میں ہمارا فیصلہ اللّٰہ پر چلے گا (معاذ اللّٰہ) اور اللّٰہ نے ہمیں اس کی اجازت دے رکھی ہے اور جہاں تک شیعہ اور مخلوق کے درمیان معالم ہے یعنی جوانوں نے ظلم اور تیر بازی کا مشغلہ رکھا ہو گا تو ہم ان مظلوموں سے کہیں گے کہ یہ سب مظالم نہیں ہبہ کر دو چنانچہ وہ ہبہ کر دیں گے اور ہم شیعہ کو معاف کر دیں گے، اور شیعہ کا اور ہمارا باہمی معاملہ جو ہو گا اس کے متعلق ہم انہیں معاف کر دینے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ۔

امام نے شیعوں کی کمینگی کی خوب کہی ظاہر ہے کہ امام انہیں دین کی باتیں بتاتے ہوں گے اور وہ کمینگی کا اظہار اس صورت میں کرتے ہیں کہ ایسی باتیں پھیلا دیتے ہیں بلا دین شیعہ کوئی ظاہر کرنے کی شے ہے مفت میں جگ ہنسائی کا سامان فراہم کرتے ہیں کمینے کہیں کے۔

مفسرین صاحب نے اس کی وضاحت تو کر دی کہ شیعوں کا حساب خود امام لیں گئے۔ تین نازک گوشے جہاں سے شیعوں کو مار پڑ سکتی ہے ۔ آئمہ نے ان کا انتظام پہلے سے کر دیا۔ حقوق اللّٰہ کا کھاتہ یوں صاف ہو گیا کہ قیامت میں شیعوں کا حکم اللّٰہ پر چلے گا اور اللّٰہ کو مجبوراً ماننا پڑے گا کیونکہ اللّٰہ نے پہلے ہی اختیارات اماموں کو سونپ رکھتے ہیں۔ رہا حقوق العباد کا کھاتہ تو بندوں کی کیا مجال ہے کہ اماموں کی منشاء کے خلاف کچھ سوچ بھی سکیں ، البتہ امام مخلوق کی عزت افزائی کرتے ہوئے ان سے حقوق معاف کرائیں گے ۔

صفحہ 2 از 3