دین و ایمان تحریف قرآن کی زد میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دین و ایمان تحریف قرآن کی زد میں

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 3 از 3

رہی بات اماموں کے حقوق والی تو یہ ذرا دقیق ہے، کیونکہ حقوق کی دو ہی قسمیں شریعت اسلامیہ میں مذکور ہیں ۔ حقوق اللّٰہ اور حقوق العباد ۔ اس تیسری شق سے یہ خیال گزرتا ہے کہ امام نہ تو خالق ہیں نہ مخلوق پھر وہ کیا ہیں یہ بات شیعہ ہی بتا سکیں گئے عقل کی دسترس سے یہ نکتہ ماورا ہے، خیر امام جو کچھ بھی ہیں۔ شیعہ پر ان کے حقوق ضرور ہیں مگر شیعہ جب ان کے شیعہ ہیں حساب لینا بھی ان کا کام ہے اور سب حقوق بخشوا بھی لیے تو ظاہر ہے کہ اپنے حقوق کا ذکر ہی نہیں چھیڑیں گے، ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ شیعوں نے اختیار کے ساتھ جو سلوک کیا سو کیا اپنے اماموں کو بھی نہیں بخشا ۔ امام اول نے تنگ آ کر اپنے شیعوں کو یہاں تک کہ دیا تھا کہ میں دس شیعے دے کر امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کا ایک آدمی لینے کو تیار ہوں اور یہ سودا نفع کا ہے، مگر یہ سودا عملاً نہ ہوا تھا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ لوگ جانوروں کا " مارچہ کیا کرتے ہیں آدمی خواہ کیسے ہوں ان سے نباہ کرنا پڑتا ہے ۔

15_ مراۃ النوار ص20

ان المعرفة بنبوة الانبياء المتقدمين من ادم الى عينى غير راجبتہ علينا ولا تعلق لها بشيء من تكليفنا و قال ان اللّٰه تعالى ولنا على ان المعرفة بهم كالمعرفة به تعالی مز اسمه في انها ايمان والسلام وان الجهل والشك فيهم كالجهل و تعالى من المعده والشك فيه تعالى في انه كفر وخراج من الايمان الى ان قال والذی يدل على ان المعرفة بأمامة من ذكرناه من الأئمة من جملة الايمان و الم الاخلال مهما كفر ورجوع عن الإيمان اجماع۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کی نبوت کی معرفت ہم پر واجب نہیں نہ ہم اس کے مکلف ہیں اور کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی کہ اماموں کی معرفت ایسی ہے جیسے خدا کی معرفت فرض ہے اماموں کی معرفت امام اور اسلام ہے اور اماموں کی عدم معرفت اور ان میں شک کرنا مثل عدم معرفت وجبہل باللّٰہ ہے۔اور ذات باری تعالیٰ میں شک کرنا کفر اور ایمان سے خارج ہونا ہے جو دلیل ان اماموں کی معرفت پر دلالت کرتی ہے جن کا ہم نے ذکر کیا خیر اس پر دلالت کرتی ہے کہ اماموں کی معرفت ایمان ہے اور اس سے خالی ہونا کفر ہے اس پر تمام شیعہ کا اجماع ہے۔

قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ تمام انبیاء پر ایمان لانا فرض ہے اور اسی قرآن کی شیعہ تفسیر یہ ہے کہ انبیائے متقدمین پر ایمان لانے کی ضرورت ہی نہیں۔ قرآن میں اماموں کے متعلق اشارہ تک نہیں اور شیعہ تفسیر قرآن میں اماموں پر ایمان لانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا اللّٰہ پر ایمان لانا اور اماموں کی معرفت سے خالی ہونا کفر ہے اور اس تفسیر پر شیعہ کا اجماع ہے۔

16_ تفسیر مراة الانوار ص 27 تفسير سورة الجمعه

اذا نودى للصلوة من يوم الجمعة و الصلوة أمير المومنين يعنى بالصلوة لولاية وهي ولاية الكبرى فاسعوا الى ذكر اللّٰه وذكر اللّٰه على أمير المومنين وذر والبيع يعني الأول ( ابوبكر) ثم قال فاذا قضيت الصلوة اذا توفى على فانتشروا في الارض بعینی بالارض الاوصياء امر اللّٰه بطاعتهم كما امر بطاعة على.

جب جمعہ کے روز نماز کی طرف بلایا جائے نماز سے مراد حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہیں اور نماز سے مراد ولایت بھی ہو سکتی ہے اور یہ ولایت کبریٰ ہے دوڑو اللّٰہ کے ذکر کی طرف ذکر سے مراد حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہیں یعنی علی رضی اللّٰہ عنہ کی طرف جلدی آو اور بیت کرو اور خرید و فروخت چھوڑو یعنی ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کو چھوڑو پھر فرمایا جب نماز پوری ہو جائے یعنی حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ فوت ہو جائیں تو اماموں کی زمین میں پھیل یعنی اماموں کی امامت کرو جیسے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی کرتے تھے۔

تفسیر ہذا کے ص 59 کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ الٰہ یعنی معبود بھی علی رضی اللّٰہ عنہ ہیں رب بھی علی رضی اللّٰہ عنہ ہیں تو اذا توفی سے مراد یہ ہوئی کہ جب رب اور معبود فوت ہو جائے یعنی معبود اور رب یہ قوت بھی ہو جاتا ہے مگر فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ گیارہ خدا اور جو موجود ہیں اب شکایت نہیں ہونی چاہیئے کہ شیعہ ختم نبوت کے قائل نہیں کیونکہ آئمہ کے لیے تین وصفت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مامور من اللّٰہ، مفترض الطاعت اور ان پر وحی کا نزول یہ تینوں وصف نبوت سے متعلق ہیں مگر اس تفسیر سے تو ظاہر ہے کہ شیعہ توحید کے قائل بھی نہیں جب بڑا ہی نہیں تو شاخوں اور پتوں کا کیا ذکر ۔


صفحہ 3 از 3