تحریف قرآن اور مدح شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحریف قرآن اور مدح شیعہ

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 3

غیر زائرین شیعہ کا معاملہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا اور وضاحت ہوگئی کہ غیر زائرین کے لیے فرشتوں کی ایک اور جماعت مقرر ہے، مگر ان میں غیر زائرین کی تخصیص کہیں نہیں بلکہ شیعہ ہونا کافی ہے فرشتوں کو صرف کام پر لگانا مقصود ہو تو بات دوسری ہے ورنہ یہ سارا نظام عبث نظر آتا ہے۔ جب گناہ کو مٹا دینے پر فرشتے مقرر ہیں تو گناہوں کا اندراج کرنے کی کیا ضرورت ہے جب لکھا ہوا مٹ جانا یقینی ہے تو لکھنے کا مقصد کیا ہوا۔ اس سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ شیعوں کے گناہ لکھنے پر فرشتوں کو مقرر کرنے کی ضرورت ہی نہیں جب انسان ایک نعل عبت پسند

نہیں کرتا تو اللّٰہ تعالیٰ سے کسی فعل عبث کی نسبت کرنا کوئی اچھا فعل نہیں۔

4) تفسیر مراۃ الانوار ص151

ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر حيث قال الأمام والله ما كان له من ذنب ولكن ثمن له ان يغفر ذنوب شيعة على ما تقدم من ذنبهم وما تأخر

اے نبیﷺ تاکہ اللّٰه بخش دے جو آگے ہو چکا اور جو بعد میں ہوگا امام نے فرمایا خدا کی قسم رسول خداﷺ کا تو کوئی گناہ ہی نہ تھا یہ تو اللّٰہ نے ذمہ داری دی ہے کہ میں شیعوں کے اگلے پچھلے سارے گناہ بخش دوں گا۔

اللّٰہ تعالیٰ نے شیعہ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دینے کی ذمہ داری لے لی ہے قرآن گواہ ہے لہذا شیعوں کو گناہ کرنے کے معاملے میں سستی یا کم ہمتی سے کام نہیں لینا چاہیے۔

5) تفسیر البرہان 429:2

يا على ان شيعتك مغفور لهم على ما كان فيهم من ذنوب وعيوب.

اے علی ! آپ کے شیعہ بخشتے ہوئے ہیں خواہ ان میں کتنے گناہ اور عیب ہوں۔

6) تفسیر البرہان 456:4

فنقول هولاء شيعتنا فيقول الله تعالى قد جعلت امرهم اليكم وشفعتكم فيهم غفرت المسيتهم ادخلو الجنة بغير حساب .

امام جعفر فرماتے ہیں کہ اگر اللّٰه نے کسی شیعہ سے گناہ کے متعلق سوال کیا تو ہم ائمہ کہیں گے یہ ہمارے شیعہ ہے تو اللّٰہ فرمائے گا اچھا تو ان کا حساب میں نے آپ کے سپرد کیا تمہاری شفاعت ان کے حق میں قبول کی اور میں نے ان بدکاروں کو بخش دیا اور ان کو حساب کے بغیر ہی جنت میں لے جاؤ۔

لوگ روز حساب سے یونہی ڈرتے اور لرزتے ہیں ۔ کتنا آسان نسخہ ہے ۔ نام لکھا دو شیعہ میں اور بدکاری میں ریکارڈ قائم کر دو۔ بغیر پوچھ گچھ جنت میں داخل ہو جاؤ اور ہمیشہ کے لیے عیش کرو۔

یہ تفسیری نکات بڑے خوشی کی اور حوصلہ افزا ہیں لیکن شیعہ علماء کے قلم سے کبھی کبھار کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جو سارا مزاکر کرا کر دیتی ہے۔ مثلاً

كنزل الفوائد ص 236

قد اخبر الله تعالى عز وجل عن ابن نبيه نوح انه ليس من اهلك انه عمل غير صالح هذا مع قول الرسول على روس الاشهاد في اخر ايام من الدنيا حيث وعظ امته وذكرهم دو صبا هر ثم اقبل على اهل بيته خاصة فقال يا فاطمة ابنة محمد اعملى فاني لا اغنى ، عنك من الله شيئا يا عباس يا عم رسول الله اعمل فاني لا أغنى عنك من الله شيئا ثم اقبل على سواهم من الناس فقال يا أيها الناس لايدعى مدع ولا يتمنى متمن والذي بعث بالحق لا ينجيف الاعمل مع رحمته ولو عصيرت لهويت اللهم هل بلغت

اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نبی نوح علیہ السلام کے بیٹے کے متعلق فرمایا کہ وہ تیرے اہل بیت سے نہیں یہ سوال عمل غیر صالح ہے اس کے ساتھ ہی رسول کریمﷺ کا یہ قول جو اپنے علی الاعلان دنیاوی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا تھا جب آپ نے اپنی بیٹی کو نصیحت کرتے ہوئے مخاطب فرمایا اور وصیت فرمائی پھر آپ خاص طور پر اپنے اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے بیٹی فاطمہ محمدﷺ عمل کرنا میں تم سے عذاب کا ذرا بھر حصہ بھی ٹال نہیں سکوں گا اے عباس اے رسول خدا کے چچا عمل کرنا میں تم پر سے عذاب الٰہی کا کوئی حصہ دور نہ کر سکوں گا۔ پھر ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے انسانوں کوئی مدعی دعویٰ نہ کرے اور نہ کوئی خواہشات کا بندہ خواہشوں پر رہے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے نبی برحق بنا کر بھیجا مجھے خود بغیر عمل اور اس کی رحمت کے نجات نہ ہو گی۔ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو گمراہ ہو جاؤں اے اللّٰه! میں نے آپ کا حکم پہنچا دیا۔

علمائے شیعہ کا یہ اعتراف حقیقت دیکھ کر آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ

1) نبی کریمﷺ اپنی بیٹی کو تاکید فرماتے ہیں کہ بیٹی عمل کرنا۔ اگر اعمال کے متعلق مواخذہ ہو تو میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔

2)_ نبی کریمﷺ اپنے چچا کو تاکید فرما رہے ہیں کہ عمل صالح کا اہتمام کرنا میں تمہیں عذاب سے ہرگز نہیں بچا سکوں گا۔

مگر صاحب تفسیر مراۃ الانوار کہتے ہیں کہ شیعوں کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو سکے۔ صاحب تفسیر البرہان کہتے ہیں شیعہ سے پوچھ گچھ ہوگی تو امام کہیں گے یہ تو ہمارے شیعہ ہیں، پھر شیعوں کا حساب ہی نہ ہوگا اور سیدھے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔

حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ آیا نبی کریمﷺ کے مقابلے میں اماموں کا اختیار زیادہ ہو گا یا نبی کریمﷺ کا جو تعلق اور جو شفقت اپنی بیٹی اور چچا کے ساتھ ہے شیعوں کے ساتھ اماموں کا تعلق اس سے زیادہ ہے۔

یا نبی کریمﷺ اور اہل بیت نبوی کے مقابلے میں شیعہ زیادہ مقدس ہیں کہ ان کے متعلق نبی کریمﷺ عمل کی تاکید فرمائیں اور شیعہ کو اپنے امام بدکاری کا کھلا لائنسس جاری کر دیں۔ یا اللّٰہ! یہ کیا ماجرا ہے۔

ممکن ہے یہ کہا جائے کہ نبی کریمﷺ نے اپنے اہل بیت کے متعلق یہ کہا ہے شیعوں کے متعلق تو کچھ نہیں فرمایا، مگر اس اقتباس میں ایک شق اور بھی ہے کہ حضورﷺ نے آخر میں فرمایا ایھا الناس یعنی بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ نہ صرف دعویٰ سے کام چلے گا نہ نری تمناؤں سے بلکہ عمل کی ضرورت ہے ۔ اس لیے اگر شیعہ پر لفظ انسان کا اطلاق ہو سکتا ہے تو عمل صالح کا یہ بھی مکلفت ہے اور اگر انسان کا لفظ شیعوں کی شان سے کم تر درجے کا ہے تو وہ آزاد ہیں ۔

صفحہ 2 از 3