تحریف قرآن اور مدح شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحریف قرآن اور مدح شیعہ

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 3 از 3

اس اعلان کی مزید اہمیت یہ ہے کہ حضورﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں فرمایا۔ اس لیے یہ بھی کہا جا سکتا کہ یہ حکم منسوخ ہو گیا ، البتہ ایک بات ضرور ہے کہ اللّٰہ نے یا حضورﷺ نے یہ حکم منسوخ نہیں فرمایا مگر امام کو حق حاصل ہے کہ نبیﷺ کی شریعت ہی کو منسوخ کر دے تو یہ حکم اماموں کی طاقت اور ان کے اختیارت کے سامنے کب ٹھہر سکتا ہے ، بہر حال مختصر یہ ہے کہ اگر نبی کریمﷺ سے کوئی تعلق ہے تو کام کرنا پڑے گا اور حضورﷺ سے واقفیت ہی نہیں تو ہر طرح کی آزادی ہے کیونکہ فرشتوں کی جماعت مقرر ہے تمہاری پشتوں سے داغ

گناہ صاف کرتی رہے گی۔

7) تفسیر البرہان سید ہاشم بحرانی 35:2

عن ابي عبد الله ان الكروبيين قوم من شيعتنا من الخلق الاولى جعلهم الله خلف العرش لو قسم نور واحد منهم على اهل الأرض تكفا هر ثم قال ان موسى لما سئل ربه ما سئل امر واحدا من الكروبين تجلى للجيل نجمله دكا.

امام جعفر سے روایت ہے کہ ہمارے شیعوں میں سے ایک قوم کر دی ہے جو آدم سے پہلے پیدا ہوئی اللّٰہ نے انہیں عرش کے پیچھے آباد کیا اگر ان میں شیعہ کا نور پوری زمین کی مخلوق پر تقسیم کیا جائے تو کافی ہو گا۔ پھر فرمایا: کہ حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے جو سوال کیا سو کیا تو اللّٰہ نے ایک شیعہ کو حکم دیا اس نے پہاڑ پر تجلی ڈالی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔

قرآن کہتا ہے لا تجلی رہے یعنی رب موسیٰ ہم نے تجلی ڈالی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا اور شیعہ تفسیر قرآن کہتی ہے تجلی شیعہ نے ڈالی ۔ متن اور تفسیر میں تطابق پیدا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ شیعہ کو رب تسلیم کیا جائے (معاذ اللّٰه) اگر ایسا نہ کیا جائے تو مفسر صاحب معاذاللّٰہ جھوٹے بلکہ پاگل تسلیم کرنے پڑیں گے اور اگر ایسا کیا جائے تو شیعہ کی عظمت اور فضیلت واضح ہو جاتی ہے مگر اللہ کے کلام کو معاذ اللّٰه جھوٹ ماننا پڑتا ہے جو ایک مسلمان کی ہمت سے باہر ہے۔ ہاں شیعہ تسلیم کر لیں تو بعید نہیں۔

8) تفسیر البرہان 54:1

فأن يكفر بما هولاء یعنی اصحابه و قريشا و من الذكر بيعة امير المومنين فقدا وكلنا یا قوما ليسوا بها بكافرین یعنی شیعه امیر المومنین ثر قال تاديب الرسول الله صلى الله علیه وسلم اولئك الذين هدى الله في هذا الهم اقتداد یا محمد

اصحاب رسولﷺ اور قریشی اور جنہوں نے امیر المؤمنین رضی اللّٰہ عنہ کی بعیت نہیں کی اگر کفر کریں تو ہم نے قرآن کو امیر المؤمنین رضی اللّٰہ عنہ کے شیعوں کے سپرد کر دیا۔ پھر نبی کریمﷺ کو ادب سکھاتے ہوئے فرمایا شیعان علی ہدایت یافتہ ہیں اے محمد تو ان کی اقتدا کر۔

شیعوں کی عظمت اور فضیلت کی انتہا ہو گئی وہ جس نے تمام انبیاء کی امامت کرائی سے حکم ہو رہا ہے شیعوں کا مقتدی بن۔

ع یہ نصیب اللّٰہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے۔


صفحہ 3 از 3