Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی دعا

  ابو شاہین

معرکہ سے قبل آپ نے یہ دعا فرمائی:

’’میرے اللہ! میرا ہر مصیبت میں تجھ ہی پر بھروسہ ہے، میرا ہر سختی میں تو ہی پشت پناہ ہے، کتنی مصیبتیں آئیں، دل کمزور پڑ گیا، تدبیر نے جواب دے دیا، دوست نے بے وفائی دکھائی اور دشمن نے خوشیاں منائیں مگر میں نے تجھ ہی سے التجائیں کیں (تاریخ الطبری: جلد، 6 صفحہ 350) اور تو نے ہی میری دست گیری کی، تو ہی ہر نعمت کا مالک ہے اور تو ہی احسان والا ہے، آج بھی تجھ ہی سے التجا کی جاتی ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہمیں حسن دعا اور اللہ تعالیٰ سے التجا کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ہمارے لیے ان کی یہ بھی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ہی اعتماد کرنا اور اسی پر توکل رکھنا چاہیے اور اسی کی طرف رغبت رہنی چاہیے۔ ان کے نانا آنحضرتﷺ فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کوئی شے بھی عزت والی نہیں ہے۔‘‘ (سنن الترمذی: رقم، 3370 علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع میں اسے حسن کہا ہے)

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا علیہ السلام سے یہ تعلیم حاصل کی کہ استعانت صرف اللہ سے ہونی چاہیے اور شکایت اسی کے حضور کرنی چاہیے، نہ کہ کسی نبی، امام یا نیک انسان کے سامنے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہمیں اس بات کی بھی تعلیم دے رہے ہیں کہ دعا صرف اور صرف ایک اللہ سے کرنی چاہیے، اس مشکل ترین مرحلہ میں جس میں وہ اپنی زندگی کو بھی الوداع کہنے والے ہیں، حضرت حسینؓ نے نہ تو اپنے نانا محمدﷺ سے دعا کی اور نہ اپنے باپ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے، بلکہ صرف اللہ وحدہٗ لا شریک سے دعا کی، حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما ہمیں اس دعا میں جس منہج کی تعلیم دے رہے ہیں، ہمارے لیے ضروری قرار پاتا ہے کہ ہم اس سے انحراف نہ کریں ، اور وہ منہج یہ ہے کہ انسان کو اگر کوئی حاجت درپیش ہو، اسے رزق کی ضرورت ہو یا مریض کے لیے شفا کی تو اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایک اللہ سے دعا کرے اور اپنی دعا میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، وہ جو بھی ہو اور جتنا بڑا بھی ہو۔ (الحسین بن علی بین الحقائق و الاوہام، عبدالرحمن بن عبداللہ جمیعان: صفحہ 56)

لہٰذا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت رکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرح صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور ’’یا حسین‘‘ اور ’’یا علی‘‘ نہ پکارا کرے، اس لیے کہ مخلوق سے دعا کرنے میں کتاب اللہ، سنت رسول اللہﷺ اور علمائے ربانیّین کے طریقہ سے انحراف عظیم ہے، جن میں ائمہ اہل بیت سرفہرست ہیں۔

شاعر کہتا ہے:

و افتنیۃ الملوک محجبات

و باب اللہ مبذول الفناء

فما ارجو سواہ لکشف ضری

و لا افزع الی غیر الدعا

(الحسین بن علی بین الحقائق و الاوہام، عبدالرحمن بن عبداللہ جمیعان: صفحہ 56)

بادشاہوں کے درباروں پر پہرے لگے رہتے ہیں، جبکہ اللہ کا در سبھی کے لیے کھلا رہتا ہے، میں اپنی تکلیف کے ازالے کے لیے اس کے سوا کسی سے امید نہیں رکھتا اور میں دعا کے علاوہ اور کوئی حیلہ نہیں کرتا۔‘‘