رافضی کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
علامہ مرغینانیؒ فرماتے ہیں کہ خواہش پرست اور بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اور رافضی جہمی، قدری، مشبہ اور اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں جو قرآن کے مخلوق ہونے کا قائل ہو۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر من پسند عقائد ہوں کہ ان کے عقیدہ رکھنے والا شخص کافر نہ ہو گردانا جاتا ہو تو اس کے پیچھے نماز ادا کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے ورنہ (اگر اس کے عقائد کی وجہ سے اسے کافر قرار دیا جا سکتا ہو) تو پھر اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہی نہیں۔
اور اگر کسی نے بدعتی اور فاسق شخص کے پیچھے نماز پڑھی تو جماعت کا ثواب حاصل ہو جائے گا، لیکن اس طرح کا اجر نہیں پائے گا جس طرح کہ ایک متقی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
(فتاویٰ عثمانیه: جلد، 2 صفحہ، 211)