تحریف قرآن اور مدح امامت و آئمہ شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع…

تحریف قرآن اور مدح امامت و آئمہ شیعہ

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 1 از 4

تحریف قرآن اور مدح امامت و آئمہ شیعہ

تحریف قرآن سے شیعہ تفسیر قرآن کہتے ہیں سے دو محاذوں پر جھولا نئی طبع دکھائی گئی ہے ایک طرف قرآن ہی سے اللّٰہ تعالیٰ کی توہین انبیاء کی توہیں، امام الانبیاء کی توہین اور دین حق کی توہین دل کھول کے کی گئی ہے تو دوسری طرف شیعہ نے اپنے محترعہ اور مزعومہ عقائد کو قرآن مجید کے زمر ہی لگایا بلکہ ان کو اتنا اچھالا کہ جو کچھ نہیں تھا اسے سب کچھ بنا کے دکھا دیا۔ اس سلسلے میں شیعہ مفسرین کی فکری غواصیوں کی شان ملاحظہ ہو۔

امام نبی ﷺ سے افضل ہوتا ہے

1- تفسير مراة الانوار ص 20

أئمتنا عليهم السلام افضل من سائر الانبياء هو الذي لا يرتاب فيه من تبتع اخبارهم على وجه الاذعان واليقين والاخبار في ذلك اكثر من ان تحصى وعليه عمدة الامامية.

ہمارے شیعہ اماموں کا تمام انبیاء سے افضل ہونا وہ حقیقت ہے کہ جس نے شیعہ احادیث کو پورے یقین کے ساتھ پڑھا وہ اس میں شک نہیں کر سکتا اس بارے میں اتنی حدیثیں ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا اور اسی عقیدے پر امامیہ فرقہ کا مدار ہے۔

امامت کا تعارف کرانے کے لیے بسم اللّٰہ ہوئی تمام انبیاء کی توہین سے اللّٰہ نے مخلوق کی رہنمائی کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے اور اعلان فرما دیا من يطع الرسول فقد اطاع اللٌٰہ  شیعہ نے کہا میں نہ مانوں انبیاء تو اماموں کے 15۔2 ہیں اور یہ عقیدہ شیعہ مذہب کی جان ہے یعنی شیعہ مذہب کی بسم اللّٰہ ہوتی ہے اللّٰہ کے حکم کے انکار اور انبیاء کی توہین سے۔

2_ تفسیر البرہان 1۔51

ولو يعلم الناس متى سمى على امیر المومني : ما انكر و افضله سمى وادم بين الروح والجسد .

نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر لوگ یہ جانتے ہیں کہ علی رضی اللّٰہ عنہ کو کب امیر المؤمنین کا لقب ملا تو علی رضی اللّٰہ عنہ کی فضیلت کا انکار نہ کرتے یہ لقب اس وقت سے ہے جب حضرت آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔

یہ پہلی تفسیر کی تائید ہو گئی کیونکہ نبوت کا معاملہ ابھی زیر غور ہی نہیں آیا کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو ولایت و امامت کا منصب تفویق کر دیا گیا۔

3_ تفسیر البرہان 2۔368

قال ابو جعفر ما بعث اللٌٰه نبيا قط الا بولايتنا و البرات من اعدائناء ذلك في كتاب اللّٰه ولقد بعثنا في كل امر رسولا منهم ان اعبدوا اللّٰه واجتنبوا الطاغوت الى ان قال ومنهم من حقت عليه الضلالة بتكذيب آل محمد.

امام باقر کہتے ہیں کہ اللّٰہ نے کوئی نبی ایسا مبعوث نہیں کیا جس سے ہماری محبت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کا عہد نہ لیا ہو اور یہ بات کتاب میں موجود ہے کہ ہم نے ہر امت میں رسول مبعوث فرمایا کہ عبادت کرو اللّٰه کی اور بتوں سے اجتناب کرو ان میں سے کچھ لوگوں نے آل محمد کی تکذیب کر کے گمراہی قبول کی۔

یہ تفسیر پہلی دونوں کی تائید ہو گئی کہ نبوت کا معاملہ تو بعد میں زیر غور آیا اور ہر نبی سے عہد لیا گیا کہ شیعہ کے اماموں سے محبت کرو گے اور ان کے دشمنوں پر تبرا بازی کرو گے لہذا اب کیا شبہ رہ گیا کہ امامت کا درجہ نبوت سے افضل ہے اور امام سارے انبیاء سے افضل ہے۔

امام میں خدائی اختیارات

4_ تفسیر مراۃ الانوار ص67

*التفويض في الخلق والرزق به والتربية والامامة ولاحياء فان ما قالوا ان اللّٰه حلقهم فوض اليهم أمرا لخلق فهم يخلقون ویرزقون ویمیتون و یحیون

یہ سوال ہو کے آیا مخلوق کو پیدا کرنا انہیں رزق دینا موت اور زندگی دینا اماموں کے اختیار میں ہے انہیں تو ایک بڑی جماعت شیعہ نے کہا کہ اللّٰہ نے اماموں کو پیدا کیا اور مخلوق کے سامنے کام ان کے سپرد کر دیے امام ہی پیدا کرتے ہیں رزق دیتے ہیں موت اور حیات انہی کے اختیار میں ہے۔

اس تفسیر سے اماموں کی برتری میں کوئی شبہ نہ رہا۔ کیو نکہ انبیاء علیہم السلام کا کام زیادہ سے زیادہ اللّٰہ کا پیغام اللّٰہ کی مخلوق تک پہنچانا ہے مگر اماموں کو تو اللّٰہ تعالیٰ اپنے سارے اختیار سونپ کے بے فکر ہو گیا ہے۔ امام جب الوہیت کے مقام پر پہنچ گئے تو انبیاء سے لازماً افضل ہو گئے اس لیے آئمہ کو (OFFICIATING ) خدا تو ضرور ماننا پڑے گا خواہ ایمان رہے یا نہ رہے ۔

5_ ایضاً ص 68۔69

فلما فرض اللّٰه إلى رسوله فقد فوض البناء الاخبار في الكافي وغير كثيرة من الشمالي قال سمعت أبا جعفر يقول من احللنا له شيئا اصابه من إعمال الظالمۃ لان الائمة منا مفوض اليهم فما احلوا فهو حلال فماحرموا فهو حرام.

اللّٰہ نے جو کچھ اپنے رسول ﷺ کو سونپا ہے وہی آئمہ کو سونپا ہے اس قسم کی احادیث اصول کافی وغیرہ میں بے شمار ہیں شمالی کہتا ہے کہ امام باقر نے فرمایا جس شخص کے لیے ہم حلال کر دیتے ہیں کوئی چیز جو اسے ظالموں کے اعمال سے پہنچتی ہے (پس وہ حلال ہے) کیونکہ جسے حلال کہیں وہ حلال ہیں اور جسے حرام کہیں وہ حرام ہیں۔

ابو ہبیرہ کہتا ہے امام جعفر نے فرمایا اگر امام مہدی کسی کو ایک لاکھ دے اور کسی کو ایک درہم دے تو دیکھنے والے کے دل میں یہ کھٹکنا نہ چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا کیونکہ امام کو پورا اختیار ہے جو چاہے کرے میں کہتا ہوں یہ تفویض کی صورت تو دنیا کے حالات کے لحاظ سے ہے رہی آخرت کی بات تو اماموں کو دو اختیارات ملیں گے جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں ملیں گے مثلاً شفاعت کرنا، حکم دینا، روکنا، جنت میں بھیجنا، دوزخ میں ڈالنا ،سب اماموں کے اختیار میں ہوگا اسی حقیقت پر متواتر احادیث دلالت کرتی ہیں

یہاں معلوم ہوتا ہے مفسر صاحب نے انبیاء سے رعایت کی ہے یا بات مبہم چھوڑ دی ہے یہ بات کہ اللّٰہ نے جو کچھ اپنے رسول ﷺ کو سونیا دی ہم اماموں کو سونپا صحیح نظر نہیں آتی کیونکہ رسولوں کو تخلیق ترزیق ، مخلوق کی موت وحیات کا اختیار نہیں دیا یہ اختیار تو صرف آئمہ شیعہ کو ملا ہے یہ اور بات ہے کہ ملا صرف شیعوں کی طرف سے ہے۔

صفحہ 1 از 4