تحریف قرآن اور مدح امامت و آئمہ شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع…

تحریف قرآن اور مدح امامت و آئمہ شیعہ

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 2 از 4

یہاں ایک بات کھٹکتی ہے وہ یہ کہ آئمہ کے اتنے وسیع اختیارات ہیں کہ خالق کائنات نے اپنے تمام اختیارات آئمہ کو سونپ دیئے ہیں مگر دوسری طرف شیعہ روایات میں آئمہ اور ابو الائمہ کی مجبوری اور بے بسی کے جو نقشے کھینچے گئے ہیں وہ کسی طرح اس سے جوڑ نہیں کھاتے۔ شیعہ کہتے ہیں خلافت چھین لی، امامت چھین لی میراث چھین لی گھر بلایا قتل کر دیا۔ صدیوں سے شیعہ اس محرومی کے سوگ میں رونے دھونے میں لگے ہیں، آئمہ کے وہ اختیارات کہاں گئے ۔ کسی وقت کے لیے اٹھا رکھے ہیں۔ شیعوں کی کہانیوں سے تو اماموں کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے اور اگر یہ سب کچھ اماموں نے اپنے اختیار سے کیا تو شیعہ کیا آئمہ کے فیصلوں کے خلاف یہ احتجاجی ہڑتالیں کرتے ہیں آخر ان میں کونسی تُک ہے۔ اس تضاد کو کون رفع کرے۔

6_ كنز الفوائد شیعہ عالم ابو الفت محمد بن علی کر اسکی متوفی سن 449ھجری ص259

عن ابن اعين قال سمعت ابا عبد اللّٰه يقول ما تنبأبني قط الا بمعرفتنا و تفضيلنا على من سوانا و ان الامة مجتمع على ان الانبياء عليهم السلام قد بشر و انبينا و تنبهوا على امره ولا يصح عنهم ذلك الا وقد أعلمهم اللّٰه به فصدقوا وامنوا بالمخبر به وكذلك قدروت الشيعة بانھم قد بشروا بالائمة اوصياء رسول ِاللّٰہﷺ

ابن اعین کہتا ہے میں نے امام صادق سے سنا کہ ہر نبی صرف ہماری معرفت کے لیے اور غیروں پر ہماری فضیلت بیان کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا۔اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ سابقہ تمام انبیاء نے محمد رسول ﷺ کے معبود ہونے کی بشارت سنائی اور ان کے آنے پر متنبہ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالی نے انبیاء کو اس کی اطلاع دی تھی پس انبیاء کرام نے رسول کریم ﷺ کو تصدیق کی اور ایمان لانے بالکل اسی طرح شیعہ نے روایت کی کہ انبیاء نے آئمہ شیعہ اور اوصیاء رسول ﷺ کی بھی بشارت سنائی تھی۔

ایک بات تو بالکل واضح ہو گئی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ایک لاکھ اور کئی ہزار انبیاء صرف اس لیے بھیجے کہ اماموں کا تعارف کرا دیں ۔ باقی کام امام خود کرلیں گے مگر ایک مسئلہ وضاحت طلب ہے کہ انبیاء کا تعارف کرانے کے لیے کس کو بھیجا گیا ۔ انبیاء جب اپنا تعارف خود کراتے رہے تو آئمہ جو انبیاء سے افضل ہیں اپنا تعارف خود کیوں نہ کرا سکے ، ممکن ہے اس میں امامت کی کسر شان ہوتی ہے ۔

انبیاء نے اماموں کا تعارف کرا دیا مگر اماموں نے کیا کیا ۔ اس کی تفصیل درکار ہو تو ہماری کتاب تحذیر المسلمین کا مطالعہ فرما لیجیے، کچھ اجمالی بیان آگے آ رہا ہے۔

ایک اور بات بھی حل طلب ہے کہ شیعہ عالم نے حضور اکرم ﷺ کی بشارت دینے پر امت کا اجماع لکھا ہے لیکن آئمہ کی بشارت کے لیے امت سے کیوں نہ پوچھا گیا یہ ثواب شیعوں کی فرد عمل کے لیے ہی مختص ہے۔ اگر امت کا اجتماع کوئی سند ہے تو اماموں کی بشارت کا معاملہ تو غیر مستند ثابت ہوا۔ شیعہ روایات سند نہیں بن سکتی کیونکہ شیعہ اس سے بھی بڑے ایک ثواب کے بہت حریص ہیں اور وہ ہے تقیہ جو9/10حصہ دین ہے اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ شیعہ نے یہاں تقیہ سے کام نہ لیا ہو ۔

پھر یہ کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بشارت سنانے کی اطلاع اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاء کو دی تھی یہ آئمہ اور اوصیاء کی بشارت دینے کی اطلاع کسی نے دی ۔ اس امر کی طرف کوئی اشارہ نہیں اس لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ شیعہ ہی نے دی ۔

7_ تفسیر مراۃ الانوار ص68

والخامس الاختيار في ان يحكموا ظاهر الشريعة او يعلمهم او بما بلھمهم اللّٰه من الواقع ومن الحي وهذا ايضا احد معاني رواية محمد بن سنان و عليه ايضا دلت الاخبار

پانچویں بات یہ ہے کہ آئمہ کو اختیار ہے ظاہری شریعت پر عمل کریں یا اپنے عمل کے مطابق یا جو الہام ان کو ہوتا ہے واقعات یا حق کا یہ بھی ایک معنی محمد بن سنان کی روایت کا ہے اور اس پر احادیث بھی دلالت کرتی ہے۔

یعنی مذہبی تقاضا پورا کرنے کے لیے شریعیت کو سامنے ضرور رکھا جائے ۔ رہی بات اس پر عمل کرنے کی تو امام کو اختیار ہے کہ شریعت کے احکام کے الفاظ سے معنی اخذ کریں یا ان الفاظ میں اپنی پسند کے معانی داخل کریں۔

8_ ایضاً 67

ان جماعۃ من الشیعہ اختلفوا فی تفویض اللّٰہ امر الخلق والرزق فی آئمہ فقال جمع الف اللّٰہ قدر الائمہ علی ذالک وفوض الیھم فختلقوا ورزقوا الخ

شیعہ کی ایک جماعت نے تفویض کے مسئلہ میں یہ اختلاف کیا ہے کہ تخلیق اور ترزیق کا کام اللّٰہ نے اماموں کے سپرد کیا ہے مگر ایک جماعت نے کہا ہے اللّٰہ نے آئمہ کو یہ اختیار دیا ہے لہذا وہ پیدا بھی کرتے ہیں اور رزق بھی دیتے ہیں۔

اوپر نمبر 7 کے تحت یہ بیان ہوا کہ امام کو اختیار ہے کہ شریعت پر اپنی مرضی کے مطابق عمل کرے اب اس کی وجہ سنیے:

9_ کنزالفوائد ص173

ولنا ايضا مذهبنا في الالهام وعندنا ان الامام عليه يصح ان يلهم من المصالح و الاحكام ما يكون هو المخصوص به دون الامام

الہام کے بارے میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ اماموں کو مخلوق کی اصلاح کے احکام کا الہام ہوتا ہے اور ایسے الہام صرف اماموں کے ساتھ مخصوص ہیں۔

یعنی شریعت کے احکام خوا وہی رہیں ان کی تعبیر اس الہام کے مطابق ہوتی جو امام کے ساتھ مخصوص ہے۔

10_ تفسیر مراۃ الانوار ص158

عن البأقرانه قال ان اللّٰه عزوجل تفرد في وحدا انينه ثم تكلم بكلمة فصارت نورا ثم خلق من ذلك النور المحمد وعنيا وعترته عليهم السلام ثم تكلم بكلمات فصارت روحا واسكنها في ذلك النور و اسكنه في احد اننا فتحن روح اللّٰه و كلمته احتجب بناء لى خلقه

امام باقر فرماتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ اپنی توحید میں منفرد تھا پھر اللّٰہ نے ایک کلمہ بولا وہ کلمہ نور بن گیا پھر اس نور سے اللّٰہ تعالی نے محمد رسول اللہ ﷺ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ اور ان کی عزت کو پیدا کیا پھر اللّٰہ تعالیٰ نے ایک اور کلمہ بولا پھر وہ روح بن گیا اس روح کو اللّٰہ نے اس پہلے نور میں داخل کیا اور اس نور کو ہمارے بدنوں میں داخل کر دیا پس ہم آئمہ روح اللّٰہ میں اور کلمۃ اللّٰہ ہے اللّٰہ تعالیٰ ہمارے وجود میں داخل ہو کر مخلوق سے پوشیدہ ہو گیا۔

صفحہ 2 از 4