تحریف قرآن اور مدح امامت و آئمہ شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع…

تحریف قرآن اور مدح امامت و آئمہ شیعہ

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 3 از 4

اماموں کے جسموں میں اللّٰہ تعالیٰ داخل ہو گیا اس طرح حلول کرنے سے پوشیدہ ہوگیا مگر امام بارہ ہیں تو معلوم ہوا کہ عیسائی بڑے کم ہمت ثابت ہوئے کہ تین خدا بنا کر تھک گئے اور شیعہ بڑے باہمت ثابت ہوئے وہ تو ایک میں تین اور تین میں ایک کے معمے میں پھنس گئے مگر یہ ایک میں بارہ اور بارہ میں ایک تک پہنچ گئے۔

11_ تفسیر مراۃ الانوار ص 335

فاوحي الى عبده ما اوحى مثل النبيﷺعن الوحی فقال اوحی إلى ان عليا سيد المومنين وامام المتقين۔

شب معراج میں اللّٰہ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو کی نبی کریم ﷺ سے اس وحی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میری طرف وحی کی گئی کہ علی رضی اللّٰہ عنہ مومنوں کا سردار ہے اور امام المتقین ہے۔

لیجئے اللّٰہ نے تو ایک بات راز میں رکھی تھی شیعہ نے کھوج لگا لیا اور راز افشا ہو گیا کہ معراج کی رات اللّٰہ نے جو بات اپنے محبوب سے پردے میں رکھی تھی وہ یہی تو تھی کہ علی مومنوں کا سردار اور متقیوں کا امام ہے اس وحی میں بظاہر حضرت علی رضی اللّٰہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے مگر مزید غور کیا جائے تو شیعوں کی فضیلت اسی تفسیر سے ظاہر ہے کہ مومن بھی شیعہ ہیں اور متقی بھی شیعہ ہیں اس لیے ایمان اور تقوی کی بہار دیکھنا مطلوب ہو تو شیعہ کو دیکھ لو مجسم ایمان اور رواں دواں تقویٰ ۔

12_ ایضاً ص248

قال تعالى عالم الغيب والشهادة بما اولناہ من القائم وقيامه فتاويل الشهادة حينئذ الامام الحاضر

غیب سے مراد شیعوں کا امام مہدی ہے اور شہادت سے مراد موجودہ امام ہے۔

مگر اب تو غائب بھی وہی ہے اور حاضر بھی وہی ہے لہذا دونوں لفظوں سے مراد امام ہوا۔

13_ تفسیر مراۃ الانوار ص181

ولقد اتيناك سبعا من المثاني والقرآن العظيم قال ان الظاهر في سورة الحمد وباطنھا ولد الولد والسابع منها القائم.

اے نبی ﷺ! ہم نے آپ کو سات آیتوں والی سورۃ فاتحہ اور قرآن عظیم بھی دیا اس آیت میں سات سے مراد امام شیعہ ہیں اور ساتواں امام مہدی مراد ہے۔

آئمہ کی عظمت کا انکار کیا ہو سکتا ہے مگر یہاں ایک حسابی پیچیدگی نظر آتی ہے اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں سات امام دیئے پہلا سوال یہ ہے کہ باقی پانچ کس نے دیئے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ امام جعفر تک چھ اور امام مہدی ساتویں ہوئے اس طرح سورہ فاتحہ کی تکمیل ہوئی تو موسیٰ کاظم سے حسن عسکری تک پانچ امام کس کھاتے میں آئے ۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کی تکمیل کے لیے آخری حرف امام مہدی کو قرار دینے میں کیا حکمت ہے باقی بھی امام ہیں۔

ہاں اس کی ایک تفسیر معلوم ہوتی ہے کہ اللّٰہ نے دو چیزیں دینے کا اعلان فرمایا۔ اول سورت فاتحه دوم قرآن عظیم لہذا سات امام تو فاتحہ بن گئے باقی پانچ قرآن عظیم ہو گئے۔ مگر اس تفسیر میں ایک خامی نظر آتی ہے کہ فاتحہ لمبی اور قرآن چھوٹا رہ جاتا ہے ، پہلے اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی ۔

14_ تفسیر مراۃ الانوار ص241

ان هذا القرآن يهدي التي هي اقوم والقران یھدى إلى الامام .

یہ قرآن مضبوط راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے مراد یہ ہے کہ یہ قرآن امام کا تعارف کراتا ہے یعنی مضبوط راستہ امام ہی تو ہے۔

15_ ایضاً ص 279

ان الذين قالوا ربنا اللٌٰه ثم استقاموا استقاموا على الأئمة وأحمد ابعد واحد

جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللّٰہ ہے پھر اس پر جمے رہے مراد یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے تمام اماموں کی امامت پر قائم ہے۔

16_ تفسیر فرات بن ابراہیم ص 61

ان جميع الرسل والملائكة والارواح خلقوالخلقنا۔

تمام رسول فرشتے اور ارواح ہماری خاطر پیدا کیے گئے ہیں۔

یہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا قول ہے آپ نے اپنے عہد خلافت میں کوفے کے منبر پر یہ فرمایا اس کے راوی امام باقر اور امام جعفر ہیں ۔

آئمہ کے مقام بلند کا اندازہ بھی ہوگیا اور انبیاء کی توہین کی بھی حد ہو گئی۔

17_ اعلام الوریٰ _ علامہ طبرسی طبع تہران ص 388

ان شيعتحم و مع كثرتها فی الخلق وغليتها على اكثر البلاد اعتقدت فيهم الامامة التي تشارك النبوة وادعت عليهم الآيات والمعجزات والعصمة عن الزلات حتى ان الغلاة قد اعتقدات فيهم النبوة والالهية وكان اسباب اعتقادهم ذلك فيهم حسن اثارهم وعلى أحوالهم وكمان في صفاتهم۔

اماموں کے شیعہ مخلوق میں کثرت تعداد میں ہیں اور ان کا اکثر شہروں میں غلبہ بھی ہے یہ شیعہ ان اماموں کی امامت کا اقرار کرتے ہیں یعنی امامت کے متعلق ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ نبوت میں شریک ہے اور شیعہ کا دعویٰ ہے کہ اماموں سے نشانات اور معجزات کا صدور ہوا اور ان کا دعویٰ ہے کہ امام معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہیں بلکہ شیعہ نے غلو کر کے یہ بھی کہا ہے کہ امام صرف نبی ہی نہیں خدا بھی ہیں اور ان کے اعتقاد کی وجہ یہ ہے کہ اماموں سے عمدہ نشنات اعلی حالات اور ان کے کمالات اور صفات کا ظہور ہوا۔

اماموں کے متعلق شیعہ کے عقیدہ کی تفصیل یہ بتائی کہ

1_امام معصوم عن الخطا ہوتا ہے۔

2_امام نبوت میں شریک ہوتا ہے.

3_ امام میں خدائی اختیارات اور اوصاف ہوتے ہیں.

4_ امام سے معجزات ظاہر ہوتے ہیں.

ان اعتقاد کی وجہ یہ قراردی کہ امام سے جن کمالات صفحات اور آثار کا اظہار ہوتا ہے ان کا تقاضہ یہ ہے کہ امام کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے.

لہذا جس شیعہ کو امام کے کمالات کا اعتراف ہے اس کا عقیدہ لازماً یہی ہوگا جو صاحب اعلام الوری نے لکھا ہے۔

18_ تفسیر مراۃ الانوار ص 30

ذكر كراجكي في اثبات عظم الشأن الولاية وعدم الفرق بين النبوة والامامة في التكليف بهما و عدم صحة الدين بدونهما.

ذکر کیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ نبوت اور امامت میں کوئی فرق نہیں انسان جس طرح نبوت پر ایمان لانے کا مکلف ہیں اسی طرح امامت پر ایمان لانے کے بھی مکلف ہیں جس طرح نبوت پر ایمان لائے بغیر ایمان صحیح نہیں اسی طرح امامت پر ایمان لائے بغیر ایمان درست نہیں۔

صفحہ 3 از 4