Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حصہ دوم مقدمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

مقدمہ

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہیں۔ ہم اسی اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد کے خواستگار ہیں، اس سے ہدایت کے طلب گار ہیں اور اس سے توبہ و استغفار کرتے ہیں اور اپنے نفس کے شرور اور اعمال کی برائیوں سے اس کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ سیدھی راہ پر ڈال دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں اور جسے وہ بے راہ کر دے اسے سیدھی راہ پر ڈالنے والا کوئی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اکیلے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، کوئی اس کا شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo (آل عمران: آیت 102)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘

اور فرمایا:

یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَ بَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًاo (النساء: آیت 1)

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں سے بھی، بے شک اللہ ہمیشہ تم پر پورا نگہبان ہے۔‘‘

اور فرمایا:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاo یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًاo (الاحزاب: آیت 70-71)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔ وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے لیے تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقینا اس نے کامیابی حاصل کرلی، بہت بڑی کامیابی۔‘‘

اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود بخشنے والے، چھپی اور ظاہر چیزوں کو جاننے والے، بے شک روزِ قیامت بندوں کے اختلافات کا فیصلہ تو ہی کرے گا۔ پس لوگوں نے حق بات میں بھی جو اختلاف کیا ہے، اس میں تو ہی مجھے اپنے حکم سے سیدھی راہ دکھا، بے شک جس کو تو چاہے سیدھی راہ کی ہدایت بخشتا ہے۔

اما بعد! نبی کریمﷺ کے پھول، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آنکھوں کی ٹھنڈک سیّدنا ابو عبداللہ حسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھنے کا میرا شروع سے کوئی ارادہ نہ تھا۔ لیکن جب میں نے چوتھے خلیفہ راشد سیّدنا علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ پر قلم اٹھایا اور اس غرض کے لیے کتب سیرت و تاریخ کے سمندر میں اتر گیا تو اس بحر ناپید اکنار کی شناوری کرتے ہوئے مجھے اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے صرفِ نظر کر کے گزرنا میرے لیے ممکن نہیں اور یہی احساس خلیفہ راشد پر پہلے قلم اٹھانے کی راہ میں حائل ہو گیا۔

چنانچہ میں نے چمنستانِ سیرت سے حضرت ختمی مرتبت سیّد الاوّلین و الآخرین سیّدنا و سیّد العالمین محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کے اس پھول کی کلیوں، خوشبوؤں اور مہکوں کو جمع کرنا شروع کیا۔ جب معتبر و مستند معلومات کا ایک اچھا خاصہ ذخیرہ جمع ہو گیا، تو ان سب کو کتاب و سنت کی روشنی میں ایک مرتب و مبوّب سیرت کی صورت میں امت مسلمہ کے افراد و اشخاص اور عوام و خواص کے سامنے پیش کرنا نہایت مفید لگا، تاکہ ان کے سامنے سبطِ رسول اور ریحانۂ رسول سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے خاندان کا صحیح خاکہ ابھر کر سامنے آسکے اور انہیں یہ بھی معلوم ہو کہ اس پاکیزہ خاندان اور بالخصوص سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے کیا فضائل و مناقب ہیں اور وہ یہ بھی جان لیں کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما جناب رسول اللہﷺ کی صورتِ مبارکہ کے کس قدر مشابہ تھے، اور سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی پاکیزہ صورت و سیرت کی بنا پر امت مسلمہ کا سب سے بزرگ ترین طبقہ، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سے کس قدر محبت کرتے تھے اور ان کے پاکیزہ دلوں اور پاک ذہنوں میں حضرت رسالت مآبﷺ کے اس چشم و چراغ کی کس قدر تعظیم اور کتنا احترام تھا۔

دوسرے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی تحریک کی بابت کھرے اور کھوٹے اور سچے اور من گھڑت واقعات ایک دوسرے سے یوں جدا ہو جائیں، جیسے سورج کے طلوع ہونے سے رات کا اندھیرا دن کے سپیدے اور چاندنے سے جدا ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی کینہ پرور باطنیت کی سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی بے داغ شخصیت کو مسخ کرنے کی بابت گمراہ کن کاوشوں کا اٹوٹ سلسلہ بھی ٹوٹ جائے اور حقائق کو بگاڑ کر پیش کرنے کی بابت ان کا رسوائے زمانہ گھناؤ نا اور ازحد خطرناک کردار بھی طشت از بام ہو جائے۔ جس نے سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور آلِ بیت اطہار کے پاکیزہ خونوں کو ’’ان کے دفاع‘‘ کے نام سے امت مسلمہ میں فساد، انتشار اور انارکی پھیلانے اور باہم جنگ برپا کرنے کا ایک شرم ناک ہتھکنڈا بنا رکھا ہے تاکہ امت مسلمہ دوہری مصیبت میں گرفتار ہو، چنانچہ ایک تو وہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے جگر پاش واقعہ شہادت کا غم سہے، دوسرے سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے دفاع کے نام پر تراش لی جانے والی رسموں کے سائے تلے عقائد کی تحریف اور اتفاق و اتحاد کی پراگندگی کا شکار بھی ہو۔

سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کی آل اطہار رضی اللہ عنہم کی شہادت کا الم ناک واقعہ امت مسلمہ کے عقیدہ اور وحدت پر اس کے مترتب ہونے والے آثار، سلف صالحین کے عقیدہ و عمل کو مضبوطی سے تھامنے والے مسلمانوں اور اس کے برعکس باطل سرابوں کے پیچھے اوندھے ہو کر دوڑنے والے نام نہاد مسلمانوں کو دیکھتے ہوئے جنہوں نے اپنی زبانوں، قلموں، جانوں اور مالوں کو خیر القرون اور ان کے خدا رسیدہ بندوں پر زبانِ طعن دراز کرنے کے لیے وقف کر رکھا ہے جبکہ دوسری طرف انہی لوگوں نے شر القرون اور ان کے رذیل و خسیس لوگوں کی عذر خواہیوں کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، ضروری تھا کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی سیرت پر ایک مختصر سا رسالہ تالیف کیا جائے جس میں سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے واقعہ کو بلا کم و کاست بیان کیا جائے اور دھوکہ بازوں کے چہرے بھی بے نقاب کیے جائیں، جنہوں نے پہلے تو خود آپ کو خطوط لکھے لیکن بعد میں کمال بے حیائی سے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔

اس کے بعد ہم نے اپنے اس رسالہ میں جن اہم ترین امور پر روشنی ڈالی ہے، وہ یہ ہیں:

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے خروج کی صورت اور اس کے اسباب و محرکات

٭ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے خروج کے بارے میں موقف

٭ اہل کوفہ کا سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو بلوا کر بے یار و مددگار چھوڑ دینا

٭ میدانِ کربلا میں یزیدی افواج کا سامنا کرتے وقت سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ان کے بارے میں اور اہل کوفہ کے بارے میں موقف۔

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا اہل کوفہ کے سامنے ان تین باتوں کو پیش کرنا جن میں وحدت و اجتماع کی دعوت اور فتنوں سے بچنے کی وصیت تھی اور وہ تین باتیں یہ ہیں:

(1) یا تو مجھے مدینہ واپس جانے دو۔

(2) یا پھر سرحدوں پر جانے دو۔

(3) یا پھر یزید کے پاس جانے دو تاکہ میں اس کے ہاتھ پر بیعت کر لوں۔

٭ یزیدیوں اور کوفیوں کا اس مبنی برانصاف بات کو ٹھکرانا۔

٭ صلح سے انکار اور بغاوت اور ظلم پر اصرار، جو ان کی بدنیتوں اور جان بوجھ کر فتنہ و فساد برپا کرنے اور بے وفائی، خیانت اور بدعہدی کے مرتکب ہونے کی غمازی کرتا ہے۔

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا والی کوفہ عبیداللہ بن مرجانہ فارسیہ کے حکم پر اترنے سے انکار کرنا۔

٭ اس کوفی فوج کی شخصیت و حقیقت کی طرف اشارہ جس نے ریحانۂ رسولﷺ، جگر گوشۂ بتول رضی اللہ عنہا سیّدنا حسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کو قتل کرنے کی ناپاک جسارت کی اور یہ کہ وہ وہی لوگ تو تھے، جو امیر المومنین خلیفہ راشد سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی فوج میں تھے اور یہ کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی قاتل اس فوج میں ایک بھی شامی نہ تھا۔

ان تفصیلات کو بیان کرنے کے بعد ہم نے اس رسالہ میں ان باتوں کو بھی مشرح اور منقح کیا ہے:

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو کیسے شہید کیا گیا؟

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ۔

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ جامِ شہادت نوش کرنے والے آلِ بیت اطہار کے افراد۔

٭ دشمنانِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا آل بیت اطہار کے فرزندوں میں سے ابوبکر، عمر اور عثمان کے ناموں کو چھپانا، جو سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے دوش بدوش مسند شہادت پر رونق افروز ہوئے تھے۔

٭ آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کا اس بات کو تاکید کے ساتھ بیان کرنا کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری اہل کوفہ کے سر ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے بدعہدی کا ارتکاب کیا، انہیں بے یار و مددگار چھوڑا۔

٭ آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کا کوفیوں کی عیب کشائی کرنا، ان سے براء ت کا اظہار کرنا، (بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ نبی کریمﷺ کے اہل بیت رضی اللہ عنہم ان لوگوں سے اپنی براء ت کا اظہار نہ کریں، جن کا یہ عقیدہ ہے کہ ’’متعدد نصوص اور اخبار و آثار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر کافر اور بے دین تھے اور ان پر لعنت کرنا اور ان سے براء ت کا اظہار کرنا باعث ثواب اور موجب اجر ہے۔‘‘ (بحار الانوار للمجلسی: جلد،3 صفحہ 339 الفکر التکفیری عند الشیعۃ للشافعی: صفحہ 129))ان پر بددعا کرنا، ان کے نئے روپ میں ظاہر ہونے والے پرانے مکر و فریب سے ڈرانا اور اس سے بچنے کی تاکید کرنا اور ان پر بھروسہ کرنے والوں یا تعاون کرنے والوں سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرنا۔

٭ سر حسین رضی اللہ عنہ کی جگہ کی تعیین، اس کے مشاہد و مزارات کی کثرت کا سبب اور جائے تدفین کی بات اختلاف

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قتل کی بابت امت مسلمہ کے موقف کا خلاصہ۔

٭ یزید کی بیعت اور اس کی وجوہ جواز کی طرف اشارہ اور اس بارے میں شوریٰ کے اثرات۔

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت پر یزید کا موقف اور اس حادثۂ فاجعہ کے بعد آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس کا حسن سلوک۔

٭ یزید کا دفاع کیے بغیر ان نصوص کا بیان جو اس پورے واقعہ کی بے لاگ منظر کشی کرتی ہیں، کیونکہ ایک تو یزید صحابی رسول نہ تھا، دوسرے اگرچہ اس نے جنگ کا آغاز خود نہ کیا تھا لیکن یزیدی افواج کے بعض لوگوں نے ان خروج کرنے والوں پر عقاب و عتاب کرنے میں بے جا زیادتی سے کام لیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے مصلحت کیشی کی حدود سے تجاوز کیا تھا۔

ان نصوص کو لانے کی بنیادی غرض یہ ہے کہ رسالت نبوی کے مقاصد کو دنیا کے سامنے مشوّش کر کے پیش کرنے والے خود غرضوں اور تشکیکی ہتھیاروں سے مسلح ہو کر فتنوں میں اوندھے منہ جا گرنے والوں کے ہاتھ میں اپنی تضلیلی و تشکیکی مہم کے لیے کوئی وجہ جواز باقی نہ رہے۔

٭ اس سب کے بعد ہم نے ان منکوس العقل لوگوں کے وسائل اور سرگرمیوں کو بھی عالم آشکارا اور الم نشرح کیا ہے جو ان لوگوں کے خلاف مصروفِ عمل اور سرگرم ہیں جو امت مسلمہ کو فتنہ پروروں کے دامِ ہم رنگِ زمین سے آگاہ کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ان لوگوں نے ’’فتنوں سے اجتناب‘‘ کے نام پر اوہام و خرافات کی دکان بھی چمکا رکھی ہے، لیکن بظاہر یہ کلمہ حق ہے مگر اس سے مراد باطل ہے اور اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ یہ فتنہ اب ایک مجسم صورت اختیار کر چکا ہے جس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں:

٭ حق سے عدمِ معرفت۔

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو پیش آنے والے حقیقی واقعات سے بے خبری۔

٭ اس ہدایت یافتہ اور رب کے برگزیدہ طبقہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے والوں اور طعن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اندھیرے گڑھے میں اوندھے منہ گرنے والوں کو برسر بازار رسوا اور بے نقاب کرنے سے دست کش ہونا۔

٭ بالخصوص جب اس نام نہاد حق پرست اور حق کے علم بردار طبقہ کو ہم دو حصوں میں تقسیم دیکھتے ہیں کہ بعض تو ان میں سے امت مسلمہ کی وحدت و حمایت اور زنادقہ سے اس کی حفاظت و صیانت میں مصروف کار نظر آتے ہیں جبکہ انہی میں سے بعض کو ہم امت کے قائدین سے غداری کرتے، امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے، اس کا شیرازہ بکھیرتے، یا اسی قماش کے لوگوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ بنے دیکھتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ یہ طبقہ ’’فتنوں سے اجتناب‘‘ کے نام پر ان غداروں، عیاروں، فتنہ پروروں اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرنے والوں کی طرف داری اور ان کے رسوائے زمانہ، قابل نفرت جرائم کی پردہ پوشی کرتا ہے اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف شور و غوغا برپا کرنے والوں کا ہر طرح کا ساتھ دیتا ہے۔

بے شک یہ لوگ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرتے ہیں، یہ آل بیت رسولﷺ کے غدار ہیں ، ان کا کام قرآن و حدیث کے صریح مصداق کو مشکوک بنانا ہے، یہ ’’دشمنانہ شعوبی(شعوبیت: عباسی دَور میں ظہور پذیر ہونے والا ایک نظریہ، اس کے قائلین کے نزدیک عربوں کو غیر عربوں پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ اس نظریہ کے قائلین کو ’’شعوبيّ‘‘ کہا جاتا ہے۔ (القاموس الوحید: صفحہ 866-867)) ثقافت‘‘ کے علم بردار ہیں، نفرتوں کے پیکر یہ لوگ ہر وقت شبہات اور کینوں کے پھیلانے میں لگے رہتے ہیں، جو ان کے عقیدہ کا ایک حصہ ہے اور یہ باطل عقیدہ تاریخ فتن کے احیاء پر مبنی ہے اور تاریخ فتن کا یہ احیاء بھی برائے نام ہے، دراصل اس کی آڑ میں امت مسلمہ کو دھوکہ دینے کے لیے تاریخی واقعات کو بگاڑا اور ان کی صورت کو مسخ کیا جاتا ہے۔ تاریخ فتن میں اسی تلبیس و تزییف اور تحریف و تبدیل ہی کا تو نتیجہ ہے کہ آج حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلاف امت کو برملا گالیاں دینا عام ہوتا جا رہا ہے اور کوئی ان کی گرفت کرنے والا یا انہیں اس بات سے روکنے والا نہیں جائیکہ انہیں اس کی سزا دی جائے اور رہی سہی کسر حق و باطل کو گڈ مڈ کر دینے والے فتنہ و فساد کا شکار لوگوں کی تہذیب نے پوری کر دی جو مجرمانہ خاموشی، مداہنت اور ذہنی پستی اور وہم و باطل اور کھوٹ کو حقیقت، واقعیت، عقیدہ اور امت مسلمہ کی امن و مصلحت سمجھ کر قبول کر لینے کے داعی ہیں۔

انہی خطروں کے پیش نظر، جن کی زمام کار ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو امت مسلمہ کو اپنی تاریخ اور اپنے دشمنوں کی معرفت سے ناآشنا رکھنا چاہتے ہیں، آج حقائق کو پردۂ خفا میں رکھنے کی ہرگز ہرگز بھی گنجائش نہیں اور یہ کہنا بالکل بے جا نہ ہو گا کہ جو خاموش رہا، وہ جھوٹا گواہ ہے، اور جس نے امت کے مخالفوں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے دشمنوں کے جرائم پر اپنے لب سیے رکھے ان کے چہروں کو بے نقاب اور ان کی تزویری چالوں کو عالم آشکارا نہ کیا، اور ان گھناؤ نے جرائم کے مرتکبین سے امت کو ہوشیار اور خبردار نہ کیا، وہ حق بات سے گونگا، فتنوں کو اور زیادہ ہوا دینے والا، امت مسلمہ کے امن و امان کو نیست و نابود کرنے والا، اور سلامتی و آشتی کو امت مسلمہ کے ہاتھوں سے چھین لینے والا ہے اور وہ کینوں کی آگ کو بھڑکانے، فرقہ پرستی کے شعلوں کو ہوا دینے اور بے خبر امت کو گروہی تعصب اور فرقہ واریت کی بھٹی میں جھونکنے کا کام کر رہا ہے۔

جو بھی حقیقت کو مٹا دینا چاہتا ہے یا ان کتابوں، رسالوں اور اخباروں کی اشاعت کی اور نشری خطبوں کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتا ہے جو امت کو ان ظالموں، غاصبوں اور ان کے اعوان و انصار سے اور ان کی ’’مکارانہ مظلومیت‘‘ کے اُس عقیدہ پر مبنی ثقافت سے خبردار اور آگاہ کرتے ہیں، جو عقیدہ انہیں اس بات کی کھلی اجازت دیتا ہے کہ جب بھی ان کا سنّیوں پر بس چلے یہ انہیں پیس کر رکھ دیں، جیسے کل انہوں نے سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے خون کو مباح سمجھا تھا۔ غرض جو بھی ان خطرات کے درپے نہیں ہوتا اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے ان کے آگے سینہ سپر نہیں ہوتا وہ امت مسلمہ اور دین اسلام کی امانت کو ضائع کر دینے والا، امت مسلمہ کے امن اور وحدت کو تباہ و برباد کر دینے کی حوصلہ افزائی کرنے والا، فکری و سیاسی قیادت کا نااہل اور باطل کا سامنا کرنے سے خاموشی اختیار کر کے فتنوں کو دعوت دینے والا ہے۔

ایسا آدمی دراصل حقیقت کو باطل کے پردوں میں چھپا دینا چاہتا ہے اور خود اس کے وجود کی حقیقت اس پل سے زیادہ کی نہیں جس پر سے گزر کر سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے یہ گناہ گار، قاتل اور مکر و فریب کے یہ ورثاء پار اترنا چاہتے ہیں، جن کا کام امت مسلمہ کے قائدین سے غداری کرنا، امت کے عقیدہ پر زبانِ طعن دراز کرنا، امت کے مسلمات پر اعتراض کرنا اور انہیں مشکوک قرار دینا اور امت کے ائمہ کو گالیاں دینا ہے۔

ہمارا یہ مختصر سا رسالہ ایک مقدمہ اور تین فصلوں پر مشتمل ہے، جن میں یہ مضامین ہیں:

 پہلی فصل

سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب، فضائل و مناقب اور ازواج و اولاد۔

 دوسری فصل

 سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں موقف، سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کا خروج اور اس کی صفت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس کے بارے میں موقف، مسلم بن عقیل کا قتل، میدانِ کربلا میں کوفی فوجوں سے سامنا، ان کے سامنے تین تجاوز پیش کرنا، سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت، سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا قاتل اور ان سب واقعات کا خلاصہ۔

 تیسری فصل

یزید کی بیعت اور شوریٰ، قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کا موقف، آلِ حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کا موقف، عقیدۂ مظلومیت، اس عقیدہ کے حامل لوگوں کا یومِ عاشوراء کا ناجائز استعمال کرنا یا دوسرے لفظوں میں یومِ عاشوراء کا فکری اغوا کرنا تاکہ امت مسلمہ کے افراد میں نفرتوں اور کینوں کو ہوا دی جا سکے اور فتنہ کی ثقافت کو نظریاتی غذا فراہم کی جا سکے جس کا لازمی نتیجہ قاتلانِ حسین کی معرفت سے توجہ کے ہٹ جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔ آخر میں ایک خاتمہ کا اور اس بحث کے مشتملات و مندرجات کا بیان ہے۔

رب تعالیٰ کے حضور دست سوال دراز ہے کہ وہ اس رسالہ کے ذریعے سے غفلت میں پڑے بے خبروں کو بیدار کرے، نہ جاننے والوں کی معرفت کا سامان کرے، امت مسلمہ کے دلوں کو جوڑے، عمل کرنے والوں کو اور زیادہ اجر دے اور اجتہاد کرنے والوں کے اجتہاد پر انہیں دوہرے اجر و ثواب سے نوازے۔

اس رسالہ کو ان شرور و فتن کے دروازوں کے بند کرنے کا ذریعہ بنائے جن کی آگ کو اور زیادہ بھڑکانے میں یہ سلف صالحین کے قاتلین اور نبی کریمﷺ کے آل بیت مطہرین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والے لگے ہوئے ہیں۔

اے اللہ! میرے اس عمل کو خالص اپنی رضا کے لیے بنا دے اور اسے ریاکاری، دکھلاوا اورشہرت پسندی کے عیوب سے خالی کر دے اور اے اللہ! اس کی بدولت اس دنیا میں میرے دل کو اور آخرت میں میری قبر کو روشن کر دے اور اس عمل کو میرے لیے، میرے والدین کے لیے، میری اولاد کے لیے اور اس کتاب کے سب مخلص قارئین کے لیے اس دن کے لیے نور بنا دے جس میں تیرے نور کے سوا کوئی نور اور تیرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔

اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے! اپنی رحمت سے یہ سب دعائیں قبول فرما! آمین یا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔

حامد محمد خلیفہ عمان