حصہ دوم مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حصہ دوم مقدمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 4

٭ اس سب کے بعد ہم نے ان منکوس العقل لوگوں کے وسائل اور سرگرمیوں کو بھی عالم آشکارا اور الم نشرح کیا ہے جو ان لوگوں کے خلاف مصروفِ عمل اور سرگرم ہیں جو امت مسلمہ کو فتنہ پروروں کے دامِ ہم رنگِ زمین سے آگاہ کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ان لوگوں نے ’’فتنوں سے اجتناب‘‘ کے نام پر اوہام و خرافات کی دکان بھی چمکا رکھی ہے، لیکن بظاہر یہ کلمہ حق ہے مگر اس سے مراد باطل ہے اور اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ یہ فتنہ اب ایک مجسم صورت اختیار کر چکا ہے جس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں:

٭ حق سے عدمِ معرفت۔

٭ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو پیش آنے والے حقیقی واقعات سے بے خبری۔

٭ اس ہدایت یافتہ اور رب کے برگزیدہ طبقہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے والوں اور طعن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اندھیرے گڑھے میں اوندھے منہ گرنے والوں کو برسر بازار رسوا اور بے نقاب کرنے سے دست کش ہونا۔

٭ بالخصوص جب اس نام نہاد حق پرست اور حق کے علم بردار طبقہ کو ہم دو حصوں میں تقسیم دیکھتے ہیں کہ بعض تو ان میں سے امت مسلمہ کی وحدت و حمایت اور زنادقہ سے اس کی حفاظت و صیانت میں مصروف کار نظر آتے ہیں جبکہ انہی میں سے بعض کو ہم امت کے قائدین سے غداری کرتے، امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرتے، اس کا شیرازہ بکھیرتے، یا اسی قماش کے لوگوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ بنے دیکھتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ یہ طبقہ ’’فتنوں سے اجتناب‘‘ کے نام پر ان غداروں، عیاروں، فتنہ پروروں اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرنے والوں کی طرف داری اور ان کے رسوائے زمانہ، قابل نفرت جرائم کی پردہ پوشی کرتا ہے اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف شور و غوغا برپا کرنے والوں کا ہر طرح کا ساتھ دیتا ہے۔

بے شک یہ لوگ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرتے ہیں، یہ آل بیت رسولﷺ کے غدار ہیں ، ان کا کام قرآن و حدیث کے صریح مصداق کو مشکوک بنانا ہے، یہ ’’دشمنانہ شعوبی(شعوبیت: عباسی دَور میں ظہور پذیر ہونے والا ایک نظریہ، اس کے قائلین کے نزدیک عربوں کو غیر عربوں پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ اس نظریہ کے قائلین کو ’’شعوبيّ‘‘ کہا جاتا ہے۔ (القاموس الوحید: صفحہ 866-867)) ثقافت‘‘ کے علم بردار ہیں، نفرتوں کے پیکر یہ لوگ ہر وقت شبہات اور کینوں کے پھیلانے میں لگے رہتے ہیں، جو ان کے عقیدہ کا ایک حصہ ہے اور یہ باطل عقیدہ تاریخ فتن کے احیاء پر مبنی ہے اور تاریخ فتن کا یہ احیاء بھی برائے نام ہے، دراصل اس کی آڑ میں امت مسلمہ کو دھوکہ دینے کے لیے تاریخی واقعات کو بگاڑا اور ان کی صورت کو مسخ کیا جاتا ہے۔ تاریخ فتن میں اسی تلبیس و تزییف اور تحریف و تبدیل ہی کا تو نتیجہ ہے کہ آج حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلاف امت کو برملا گالیاں دینا عام ہوتا جا رہا ہے اور کوئی ان کی گرفت کرنے والا یا انہیں اس بات سے روکنے والا نہیں جائیکہ انہیں اس کی سزا دی جائے اور رہی سہی کسر حق و باطل کو گڈ مڈ کر دینے والے فتنہ و فساد کا شکار لوگوں کی تہذیب نے پوری کر دی جو مجرمانہ خاموشی، مداہنت اور ذہنی پستی اور وہم و باطل اور کھوٹ کو حقیقت، واقعیت، عقیدہ اور امت مسلمہ کی امن و مصلحت سمجھ کر قبول کر لینے کے داعی ہیں۔

انہی خطروں کے پیش نظر، جن کی زمام کار ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو امت مسلمہ کو اپنی تاریخ اور اپنے دشمنوں کی معرفت سے ناآشنا رکھنا چاہتے ہیں، آج حقائق کو پردۂ خفا میں رکھنے کی ہرگز ہرگز بھی گنجائش نہیں اور یہ کہنا بالکل بے جا نہ ہو گا کہ جو خاموش رہا، وہ جھوٹا گواہ ہے، اور جس نے امت کے مخالفوں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے دشمنوں کے جرائم پر اپنے لب سیے رکھے ان کے چہروں کو بے نقاب اور ان کی تزویری چالوں کو عالم آشکارا نہ کیا، اور ان گھناؤ نے جرائم کے مرتکبین سے امت کو ہوشیار اور خبردار نہ کیا، وہ حق بات سے گونگا، فتنوں کو اور زیادہ ہوا دینے والا، امت مسلمہ کے امن و امان کو نیست و نابود کرنے والا، اور سلامتی و آشتی کو امت مسلمہ کے ہاتھوں سے چھین لینے والا ہے اور وہ کینوں کی آگ کو بھڑکانے، فرقہ پرستی کے شعلوں کو ہوا دینے اور بے خبر امت کو گروہی تعصب اور فرقہ واریت کی بھٹی میں جھونکنے کا کام کر رہا ہے۔

جو بھی حقیقت کو مٹا دینا چاہتا ہے یا ان کتابوں، رسالوں اور اخباروں کی اشاعت کی اور نشری خطبوں کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتا ہے جو امت کو ان ظالموں، غاصبوں اور ان کے اعوان و انصار سے اور ان کی ’’مکارانہ مظلومیت‘‘ کے اُس عقیدہ پر مبنی ثقافت سے خبردار اور آگاہ کرتے ہیں، جو عقیدہ انہیں اس بات کی کھلی اجازت دیتا ہے کہ جب بھی ان کا سنّیوں پر بس چلے یہ انہیں پیس کر رکھ دیں، جیسے کل انہوں نے سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے خون کو مباح سمجھا تھا۔ غرض جو بھی ان خطرات کے درپے نہیں ہوتا اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے ان کے آگے سینہ سپر نہیں ہوتا وہ امت مسلمہ اور دین اسلام کی امانت کو ضائع کر دینے والا، امت مسلمہ کے امن اور وحدت کو تباہ و برباد کر دینے کی حوصلہ افزائی کرنے والا، فکری و سیاسی قیادت کا نااہل اور باطل کا سامنا کرنے سے خاموشی اختیار کر کے فتنوں کو دعوت دینے والا ہے۔

ایسا آدمی دراصل حقیقت کو باطل کے پردوں میں چھپا دینا چاہتا ہے اور خود اس کے وجود کی حقیقت اس پل سے زیادہ کی نہیں جس پر سے گزر کر سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے یہ گناہ گار، قاتل اور مکر و فریب کے یہ ورثاء پار اترنا چاہتے ہیں، جن کا کام امت مسلمہ کے قائدین سے غداری کرنا، امت کے عقیدہ پر زبانِ طعن دراز کرنا، امت کے مسلمات پر اعتراض کرنا اور انہیں مشکوک قرار دینا اور امت کے ائمہ کو گالیاں دینا ہے۔

ہمارا یہ مختصر سا رسالہ ایک مقدمہ اور تین فصلوں پر مشتمل ہے، جن میں یہ مضامین ہیں:

 پہلی فصل

سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب، فضائل و مناقب اور ازواج و اولاد۔

 دوسری فصل

صفحہ 3 از 4