حصہ دوم مقدمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حصہ دوم مقدمہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 4

 سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں موقف، سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کا خروج اور اس کی صفت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس کے بارے میں موقف، مسلم بن عقیل کا قتل، میدانِ کربلا میں کوفی فوجوں سے سامنا، ان کے سامنے تین تجاوز پیش کرنا، سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت، سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا قاتل اور ان سب واقعات کا خلاصہ۔

 تیسری فصل

یزید کی بیعت اور شوریٰ، قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کا موقف، آلِ حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کا موقف، عقیدۂ مظلومیت، اس عقیدہ کے حامل لوگوں کا یومِ عاشوراء کا ناجائز استعمال کرنا یا دوسرے لفظوں میں یومِ عاشوراء کا فکری اغوا کرنا تاکہ امت مسلمہ کے افراد میں نفرتوں اور کینوں کو ہوا دی جا سکے اور فتنہ کی ثقافت کو نظریاتی غذا فراہم کی جا سکے جس کا لازمی نتیجہ قاتلانِ حسین کی معرفت سے توجہ کے ہٹ جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔ آخر میں ایک خاتمہ کا اور اس بحث کے مشتملات و مندرجات کا بیان ہے۔

رب تعالیٰ کے حضور دست سوال دراز ہے کہ وہ اس رسالہ کے ذریعے سے غفلت میں پڑے بے خبروں کو بیدار کرے، نہ جاننے والوں کی معرفت کا سامان کرے، امت مسلمہ کے دلوں کو جوڑے، عمل کرنے والوں کو اور زیادہ اجر دے اور اجتہاد کرنے والوں کے اجتہاد پر انہیں دوہرے اجر و ثواب سے نوازے۔

اس رسالہ کو ان شرور و فتن کے دروازوں کے بند کرنے کا ذریعہ بنائے جن کی آگ کو اور زیادہ بھڑکانے میں یہ سلف صالحین کے قاتلین اور نبی کریمﷺ کے آل بیت مطہرین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والے لگے ہوئے ہیں۔

اے اللہ! میرے اس عمل کو خالص اپنی رضا کے لیے بنا دے اور اسے ریاکاری، دکھلاوا اورشہرت پسندی کے عیوب سے خالی کر دے اور اے اللہ! اس کی بدولت اس دنیا میں میرے دل کو اور آخرت میں میری قبر کو روشن کر دے اور اس عمل کو میرے لیے، میرے والدین کے لیے، میری اولاد کے لیے اور اس کتاب کے سب مخلص قارئین کے لیے اس دن کے لیے نور بنا دے جس میں تیرے نور کے سوا کوئی نور اور تیرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔

اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے! اپنی رحمت سے یہ سب دعائیں قبول فرما! آمین یا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔

حامد محمد خلیفہ عمان


صفحہ 4 از 4