امام کے علوم اور امام پر وحی کا نزول - ردِ رافضیت | دفاع…

امام کے علوم اور امام پر وحی کا نزول

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 2

2_ علم غابر بھی کچھ اٹل پچو بات معلوم ہوتی ہے اگر امام کو مستقبل کا علم ہوتا ہے اور ان کے اختیارات بھی خدائی اختیارات ہیں تو یہ چالیس روز تک اپنے کیے کو مدینہ کی گلیوں میں پھراتا اور اما طلب کرتا اور اپنے بھائی کو کوفہ میں بھیجناا اور مقام زبالہ پر اس کی موت کی اطلاع ملنا اور امام کا کہنا قد خذلنا شیعتنا، اور امام کو علم ہوتا کہ شہید کر دیا جاوں گا پھر خوامخواہ اپنے کہنے کو دشمنوں کے ہاتھ ذلیل کرانا وغیرہ ساری باتیں علم اور اختیار دونوں کی نفی کرتا ہے۔ اور اگر اس کی تاویل کی جائے کہ علم اور اختیار دونوں کے باوجود امام کی اپنی مرضی اور پسند سے ہو تو یہ گلہ شکوہ یہ شور و شین یہ چیخنا چلانا یہ نگے سر نگے پاؤں گلی گلی سینہ کوبی کرنا امام کے فیصلہ کے خلاف احتجاج ہی نہیں امام سے بغاوت ہے۔

3_ فرشتوں کی کلام تو امام سنتے ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے پھر یہ کیسے معلوم ہوا کلام فرشتہ کر رہا ہے ممکن ہے جن ہو شیطان ہو کوئی اور مخلوق ہو پھر یہ تعجب کی بات ہے کہ خدا نے امام کو تخلیق ترذیق احیاء امانت سب اختیار دے دیئے مگر فرشتوں کے دیکھنے کا اختیار نہیں دیا مگر خدا کے کام حکمت سے خالی نہیں ہوتے ممکن ہے اماموں کو یہ احساس دلانے کے لیے یہ کیا ہو کہ تم مخلوق ہو اور میرے محتاج ہو ۔

4_ یہ مصحف فاطمہ کیا ہے نہ امام نے بتایا نہ راوی نے پوچھا کیا یہ حضرت فاطمہ کی تصنیف ہے یا اس کی صورت یہ ہے کہ کچھ قرآن حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ جمع کرتے رہے اور کچھ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا جمع کرتی رہیں۔ اور دونوں مجموعے یکے بعد دیگرے اماموں کو منتقل ہوتے رہے اگر حقیقت یہی ہے تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا قرآن تو نا مکمل ہوا گو 18 ہزار آیات ہی کا ہو اور نوے پارے کا ہو پھر بھی ادھورا ہوا۔ کچھ حصہ تو وہ ہوا جس کو مصحف فاطمہ کہتے ہیں پھر یہ دعویٰ بھی غلط ہوا کہ حضرت علی ؓ کے بغیر کسی نے سارا قرآن جمع نہیں کیا بہر حال یہ ساری بات محمہ در محمہ ہے ۔ واللّٰہ اعلم۔

اعلام الوارلیٰ ص137

من على قال بعثني رسول الله الى اليمن قلت يا رسول الله تبعثنى وانا شاب اقضى بينهم ولا ادرى ما القضا قال فضرب في صدري اللهم اهد قلبه و لبت لسانہ

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے مجھے یمن کا قاضی مقرر کیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ آپ مجھے قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں اور میں قضا سے واقف ہی نہیں پس حضورﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے اللّٰه اس کے دل کو ہدایت دے اور اس کی زبان کو ثابت رکھ۔

گذشتہ صفحات میں اللّٰہ کے علوم کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے اس میں اس روایت کو فٹ کر کے دیکھئے جس میں امام اول اعتراف کر رہے ہیں کہ میں فن قضاء سے واقف نہیں ہوں کیا ان کا آپس میں کوئی جوڑ نظر آتا ہے۔ شیعہ کہتے ے ہیں کہ آئمہ عالم ما کان وما یکون اور ابو الائمہ کہ رہے ہیں کہ میں تو شریعت کے مطابق فیصلے کرنے جانتا ہی نہیں ہے ۔ شیعہ کہتے ہیں کہ آئمہ کا مقام انبیاء سے بلند ہے اور ابو الائمہ کہ رہے ہیں کہ حضورﷺ کے ہاتھ پھیرنے سے اور حضورﷺ کی دعا سے میرے اندر فیصلے کرنے کی اہمیت پیدا ہو گئی۔ جو پہلے نہیں تھی مگر کوئی کہاں تک تضاد رفع کرے شیعہ کے تمام علوم تضادات ہی تضادات ہیں۔


صفحہ 2 از 2