سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب خاندان اور…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب خاندان اور فضائل و مناقب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 4

بحث اول 

 نام و نسب، جائے ولادت اور خاندان

 نام و نسب

سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا پورا نام یہ ہے:

حسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب- ( طالب کا نام عبد مناف اور عبدالمطلب کا نام شیبۃ الحمد ہے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد، 3 صفحہ 1089)) بن ہاشم- ان کا نام عمرو ہے- بن عبد مناف- ان کا نام مغیرہ ہے -بن قصی- ان کا نام زید ہے -بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ (یہاں تک کا نسب نامہ ان کتب میں درج ہے: (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد، 1 صفحہ 123، جلد، 2 صفحہ 495 البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد، 7 صفحہ 333 الاصابۃ: جلد،1 صفحہ 507)) بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔ (الطبقات الکبری لابن سعد: جلد، 2 صفحہ 19 تاریخ دمشق: جلد، 14 صفحہ 121 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 7 صفحہ 333 اسد الغابۃ: جلد، 2 صفحہ 76)

آپ کی والدہ ماجدہ سیّدۃ النساء فاطمہ بنت رسولﷺ ہیں اور والد ماجد امیر المومنین خلیفہ راشد سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ ان کے دوسرے نورِ نظر تھے۔ جبکہ ان کے پہلے فرزند ارجمند سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہیں۔

 تاریخ ولادت

رب تعالیٰ نے سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیّدہ فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا، جگر گوشۂ رسولﷺ کو چار اولادیں عطا فرمائی تھیں: ’’حسن، حسین، زینب الکبریٰ اور ام کلثوم الکبریٰ رضی اللہ عنہم۔ (الطبقات الکبری لابن سعد: جلد، 3 صفحہ 20) سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بعد 5 شعبان 6 ہجری میں پیدا ہوئے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: 2852) جبکہ سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ شعبان یا رمضان 3 ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد، 3 صفحہ 343) ان کے علاوہ اور بھی تواریخ مروی ہیں۔ ( المستدرک للحاکم: 4789 علامہ ذہبی نے ’’التلخیص الحبیر‘‘ میں اس روایت پر سکوت کیا ہے)

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی ولادت کے درمیان فقط ایک طہر کا فاصلہ تھا۔ پھراس کے بعد سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حاملہ ہو گئیں۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: ’’حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے درمیان صرف ایک طہر کا وقفہ تھا۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی: 2766) حاکم کہتے ہیں: بیان کیا جاتا ہے کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے درمیان صرف حمل کا زمانہ تھا۔ (المستدرک: 4803 تعلیق الذہبی فی التلخیص۔ علامہ ذہبی نے ’’التلخیص‘‘ میں اس پر سکوت کیا ہے) یعنی سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ایک سال بعد ہی سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہو گئے تھے۔ زبیر بن بکار کہتے ہیں: ’’سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما 5 شعبان 4 ہجری کو پیدا ہوئے تھے۔‘‘ (المعجم الکبیر: 2852) اس قول کی بنا پر حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی ولادت کے درمیان ایک سال سے کم کا وقفہ بنتا ہے۔ زبیر بن بکار سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں کہتے ہیں: ’’سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے بروز جمعہ 10 محرم 61 ہجری کو شہادت پائی۔ (ایضاً) نبی کریمﷺ کی وفات کے وقت سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ ایک ماہ کم سات برس کے تھے۔ کیونکہ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ 5 شعبان 4 ہجری کو پیدا ہوئے تھے۔ (صحیح ابن حبان: 909)

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام رکھا جانا

’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ولادت کے ساتویں روز سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام ’’حسین‘‘ رکھا اور بیان کیا جاتا ہے کہ دونوں کی ولادت کے درمیان صرف حمل کا زمانہ ہی تھا۔ (المستدرک للحاکم: 4803 تعلیق الذہبی فی التلخیص: علامہ ذہبی نے ’’التلخیص‘‘ میں اس پر سکوت کیا ہے) یعنی دونوں بزرگوں کی عمروں میں صرف زمانہ حمل کی مدت کا وقفہ ہی تھا۔

امیر المومنین سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے اپنے بڑے بیٹے کا نام حمزہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام ان کے چچا کے نام پر جعفر رکھا تھا۔ پس نبی کریمﷺ نے ان دونوں کا نام حسن اور حسین رکھ دیا۔‘‘ (المعجم الکبیر: 2780)

ممکن ہے کہ نبی کریمﷺ کے ان دونوں نواسوں کے یہ عظیم نام رکھنے سے قبل سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے مختلف نام تجویز کیے ہوں۔ روایات میں حرب، حمزہ اور جعفر کے ناموں کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ’’حسن‘‘ کی ولادت ہوئی تو نبی کریمﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’مجھے میرا بیٹا دکھلاؤ (اور بتلاؤ کہ) تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’نہیں بلکہ ان کا نام ’’حسن‘‘ ہے۔‘‘ پھر جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ’’حسین‘‘ نے جنم لیا، تو نبی کریمﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ’’مجھے میرا بیٹا دکھلاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’نہیں بلکہ اس کا نام ’’حسین‘‘ ہے۔‘‘ پھر جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے بیٹے کوجنم دیا، تو نبی کریمﷺ تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’مجھے میرا بیٹا دکھلاؤ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’نہیں بلکہ اس کا نام ’’محسن‘‘ ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’میں نے ان تینوں کے یہ نام ہارون کے تین بیٹوں شبر، شبیر اور مشبر کے ناموں پر رکھے ہیں۔‘‘ (المستدرک للحاکم: 4773 قال صحیح الاسناد و لم یخرجاہ۔ علامہ ذہبی نے اس کو صحیح کہا ہے)

اس مقام پر میں چند اہم باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔

ایک یہ کہ نبی کریمﷺ نے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے نام تعریف کے الف لام کے بغیر حسن اور حسین رکھے (نہ کہ الحسن اور الحسین)۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ہر قسم کی تعظیم و اجلال، تکریم و سیادت اور محبت و عقیدت کے مستحق ہیں۔

صفحہ 1 از 4