سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب خاندان اور…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب خاندان اور فضائل و مناقب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 4

دوسرے یہ کہ تلاش بسیار کے باوجود مجھے کتب سیرت و تاریخ میں سے اس شخص کا نام نہیں مل سکا جس نے سب سے پہلے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو زہرا اور بتول کے لقب کے ساتھ پکارا۔

اسی طرح اس شخص کا نام بھی مجھے معلوم نہیں ہو سکا، جس نے امیر المومنین سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سب سے پہلے ’’امام‘‘ کا لقب دیا۔ خاص طور پر اپنے ایام خلافت میں آپ امیر المومنین کے لقب کے ساتھ پکارے جاتے تھے۔ مجھے کسی صحیح روایت میں یہ پڑھنے کو نہیں ملا کہ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے آپ کو اس معنی میں ’’یا امام‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہو، جو اہل تشیع کی زبانوں پر عام ہے اور نہ مجھے ’’امیر المومنین‘‘ کی کنیت ’’ابو الحسین‘‘ کا کوئی سراغ ہی مل سکا ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہ کنیت سب سے پہلے کس نے استعمال کی ہے۔ حالانکہ آپ کی کنیت ’’ابو الحسن‘‘ تھی۔ جہاں تک میری معلومات ہیں کسی روایت میں اس بات کا ذکر نہیں کہ آپ نے اپنی کنیت ’’ابو حسین‘‘ رکھی ہو۔

یہاں یہ اہم سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ نسبتیں، القاب اور کنیتیں سب سے پہلے کس نے ایجاد کیں؟

کیا ان نسبتوں کا تعلق اس فکری جنگ سے تو نہیں جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں نے ان کے خلاف برپا کر رکھی ہے؟ اور وہ آج تک اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ امت مسلمہ کے قدم سنت نبویہ کے مسلمات پر سے اکھاڑ دئیے جائیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے بعض ناموں کو اتنا بلند کیا کہ انہیں پیغمبروں اور فرشتوں کے درجات سے بھی اوپر لے گئے اور اس فعل کا عذر یہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ان ناموں سے بے حد پیار ہے، وہ ان ناموں کی بے حد تعظیم و تکریم کرتے ہیں اور ان کی امامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جبکہ عین اسی وقت یہی نام نہاد محبانِ آلِ بیت بعض دوسرے بلکہ بسا اوقات باقی تمام صحابہ کرام بالخصوص حضرات خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور دیگر اسلاف امت اور ابرار و اخیار کے ناموں کو بے حد بگاڑتے ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں، جو لوگوں کو ان سے نفرت دلاتی اور ان کے نزدیک انہیں مبغوض بناتی ہیں اور یہ سب کچھ حب آل بیت کی چھتری تلے کیا جاتا ہے۔ کیا آلِ بیت رضی اللہ عنہم ایسے ہی تھے؟

تاریخ کا مطالعہ کرنے والا اس وقت حیران و پریشان رہ جاتا ہے، جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ حب آل بیت رضی اللہ عنہم کے یہ نام نہاد دعوے داران کے انصار و اولیاء صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے سچے پیروکاروں سے شدید بغض اور نفرت رکھتے ہیں اور سیّد آل بیت، حضرت رسالت مآبﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ ان کا رویہ شدید کینہ پروری پر مشتمل ہے، یہ آل بیت کی زبان سے جو کتاب و سنت کی زبان ہے، برسرپیکار ہیں، جبکہ اُس زبان پر فخر کرتے ہیں، جس کا کتاب و سنت سے کوئی واسطہ نہیں۔

یہ سب سوالات اس بات کو لازم قرار دیتے ہیں کہ جسے بھی نبی کریمﷺ کے آل بیت، آپﷺ کی ذریت و ازواج، آپﷺ کے چچوں اور ان کی اولادوں سے، جن پر صدقات اور زکوٰۃ حرام ہے، محبت کرتا ہے، وہ ان بزرگ ہستیوں سے اعلیٰ درجہ کی محبت کرے، ان سے ولا و وفا کا بلند ترین تعلق رکھے اور یہ محبت و ولا خالص رب کی رضا کے لیے ہو جس میں عزت و شرافت، دانش و بینش، حزم و احتیاط اور ذکاوت و ذہانت کے دقیق ترین اور لطیف ترین پہلوؤ ں کی کمال رعایت کی گئی ہو۔ پس جو بھی آلِ بیت سے محبت کرتا ہے، وہ دراصل اپنے اوپر اس بات کو واجب کر دیتا ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے ان اہل سے بھی محبت کرے گا، جن سے آپﷺ کو محبت تھی۔ جن میں سرفہرست سیّدہ عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کا نام نامی اور اسم سامی آتا ہے، جن سے نبی کریمﷺ کو سب انسانوں سے زیادہ محبت تھی۔

ایسا شخص اپنی ذات پر جناب رسول اللہﷺ کے دو وزیروں سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کی محبت کو، ان کے مقام و مرتبہ اور قدر و منزلت کی معرفت کو اور ان دونوں پاکیزہ ہستیوں کی سیرت کی اقتدا کو واجب کرتا ہے۔ ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ جناب رسول اللہﷺ کے داماد اور آپﷺ کی دو لخت جگر کے شوہر شہید مظلوم، سیّدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ سے بھی بے پناہ محبت کرے اور اس سب پر مستزاد ایسے شخص پر کتاب و سنت سے محبت کرنا واجباتِ دینیہ میں سے ہے، جن کی بابت ذرا سا بھی شک انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ ایسے شخص پر کتاب و سنت کی نصرت کرنے والوں سے محبت کرنا بھی واجب ہے جن میں سرفہرست حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نام آتا ہے، جن کی خدمات نے انہیں ساری امت سے اونچا درجہ عطا کیا اور اس سبقت و فضیلت سے کسی ایک صحابی رسول کو بھی مستثنیٰ کرنا جائز نہیں، اس کے بعد کتاب و سنت کی زبان ’’لغت عربیہ‘‘ سے محبت کرنا بھی اس شخص کے فرائض میں داخل ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آل بیت سے محبت کے دعوے دار پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت، عربیت اور قرونِ ثلاثہ کے تہذیبی نتائج اور صحیح اسلامی اقدار و شعائر سے سچی اور کھری محبت کرے، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا شخص ہر اس انسان سے اپنی براء ت کا اظہار کرے جو ان مسلمات، عقائد، اقدار اور شعائر میں سے کسی ایک کا بھی دشمن ہے، اس کے مکر و فریب سے خود کو بھی اور امت مسلمہ کو بھی بچانا واجب ہے۔

محبت آل بیت کے یہ نام نہاد دعوے دار بزعم خویش خود کو مسلمان اور آل بیت اطہار سے سچی محبت کرنے والا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کہ یہ آل بیت سے تعلق رکھنے والے ہر عقیدۂ قرابت، لغت، ثقافت اور تشخص سے برسر پیکار ہیں، انہیں حضرات محدثین، فاتحین اسلام اور سلف صالحین سے شدید بغض و نفرت ہے۔

صفحہ 2 از 4